Posts

Showing posts from September, 2020

فضول کام کرنے پر صحابی کی کبھی بات نہ کرنے کی ناراضگی :-

 فضول  کام   کرنے پر صحابی کی کبھی بات نہ کرنے کی ناراضگی :- Ibne Majah Shareef Hadees No# 17 حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن مغفل کے پہلو(بازوں)میں ان کا ایک بھتیجا بیٹھا تھا؛ اس نے کنکریاں پھیکنی شروع کیں؛ عبد اللہ نے اسے روکا اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام سے منع فرمایا ہے اور ارشاد فرمایا کہ کنکری پھینکنے سے نہ تو شکار کھیلا جا سکتا ہے؛ اور نہ دشمن کو زخمی کیا جاسکتا ہے؛ ہاں یہ فعل کسی کا (راہ چلتے) دانت توڑ سکتا اور آنکھ پھوڑ سکتا ہے؛ سعید بن زبیر کہتے ہیں کہ اس نے یعنی عبد اللہ بن مغفل کے بھیجتے نے دوبارہ یہی حرکت کی عبد اللہ نے فرمایا میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت بیان کر رہا ہوں اور تو پھر بھی یہی حرکت کر رہے ہو میں تم سے کبھی کلام نہ کروں گا *(سنن ابن ماجہ شریف باب تعظیم حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والتغلیظ علی من عارضہ؛جلد ١ ص ١٣؛حدیث نمبر ١٧؛)*  Kind(Sahih Hadees) Ibne majah sharif Hadees No# 17 Sent from TrueIslam App!

حضور ﷺ نے جن پاکی قبروں کو توڑنے کا حکم دیا وہ مشرکین کی قبرے تھی ورنہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ اپنی خلافت کے وقت انبیاء کرام کی جتنی پکّی قبر تھی وہ توڑا دیتے جو اب بھی موجود ہیں :-

 حضور ﷺ نے جن پاکی قبروں کو توڑنے کا حکم دیا وہ مشرکین کی قبرے تھی ورنہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ اپنی خلافت کے وقت انبیاء کرام کی جتنی   پکّی قبر تھی وہ توڑا دیتے جو اب بھی موجود ہیں :-  Muslim Shareef Hadees No# 1076 حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو مدینہ طیبہ کے بالائی حصے میں ایک قبیلے میں اترے جسے عمرو بن عوف کہا جاتا تھا۔آپ نے وہاں چودہ راتیں قیام فرمایا۔پھر آپ نے قبیلہ بنونجار کے سرداروں کو بلایا تو تلواریں لٹکائے ہوئے آئے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گویا میں (اب بھی) دیکھ رہا ہوں کہ آپ اپنی سواری پر تھے اور آپ کے پیچھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے اور بنونجار قبیلے والے آپ کے ارد گرد تھے۔حتیٰ کہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے دروازے پر اترے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے جہاں بھی وقت ہوجاتا حتیٰ کہ بکریوں کے باڑوں میں پڑھتے پھر آپ کو مسجد بنانے کا حکم دیا گیا تو آپ نے بنو نجار کے سرداروں کو بلایا۔وہ حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا اے بنو نجار!اپنا یہ باغ مجھ پر فروخ...

نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر کرنا تو حدیث سے ثابت ہیں مگر خود کو اہلے حدیث کہنے والے اللہ‎ تعالیٰ کے ذکر کو بھی بدعت کہہ دیتے ہیں :-

 نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر کرنا تو حدیث سے ثابت ہیں مگر خود کو اہلے حدیث کہنے والے اللہ‎ تعالیٰ کے ذکر کو بھی بدعت کہہ دیتے ہیں :- Muslim Shareef Hadees No# 1218 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے اختتام کا علم تکبیر (اللہ اکبر)کے ذریعے ہوتا تھا۔ *(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛نماز کے بعد ذکر؛جلد١ص٤١٠؛حدیث نمبر١٢١٨)*  Kind(Sahih Hadees) Muslim Shareef Kitabul Masajidi Wa Mawazi is Salate Hadees No# 1218 Sent from TrueIslam App! Muslim Shareef Hadees No# 1219 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ختم ہونے کا علم تکبیر کے ذریعے ہوتا تھا۔ *(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤١٠؛حدیث نمبر١٢١٩)*  Kind(Sahih Hadees) Muslim Shareef Kitabul Masajidi Wa Mawazi is Salate Hadees No# 1219 Sent from TrueIslam App! Muslim Shareef Hadees No# 1220 حضر...

مقتدی کو امام کے پیچھے خاموشی سے کھڑا رہنا چاہئے

 مقتدی کو امام کے پیچھے خاموشی سے کھڑا رہنا چاہئے :-*  Muslim Shareef Hadees No# 791 حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر اور عصر کی نماز پڑھائی۔پھر فرمایا تم میں سے کس نے میرے پیچھے"سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى»کی قرأت کی تو ایک شخص نے عرض کیا میں نے(قرأت کی ہے) اور میرا ارادہ صرف بھلائی کا تھا۔آپ نے فرمایا مجھے معلوم ہوا کہ کوئی شخص میری قرآت میں گڑبڑ کر رہا ہے۔ *(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ نَهْيِ الْمَأْمُومِ عَنْ جَهْرِهِ بِالْقِرَاءَةِ خَلْفَ إِمَامِهِ؛جلد١ص٢٩٨؛حدیث نمبر ٧٩١)*  Kind(Sahih Hadees ) Muslim Shareef Kitabus Salat Hadees No# 791 Sent from TrueIslam App! Muslim Shareef Hadees No# 792 ایک اور سند کے ساتھ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی تو ایک نمازی نے آپ کے پیچھےِ"سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى"کی قرآت شروع کر دی۔سلام پھیرنے کے بعد آپ نے فرمایا تم میں سے کس نے قرآت کی ہے۔تم میں سے کون قرآت کرنے والا ہے۔اس شخص نے عرض کیا میں نے(ق...

صحابی کا عقیدہ نماز کے علاوہ بھی شیطان کو بھگانے کے لئے آذان دینا چائے اس لئے سنی مسلمان قبرستان میں مردے کو دفن کے بعد شیطان کو بھگانے کے لئے آذان دیتے ہیں صحابی ,وہابی دیوبندی اہلے حدیث نہیں تھے جو اچھی بدعت کی حدیث ہونے کے باوجود ہر اچھے عمل کو بری بدعت سمجھتے ہیں

 صحابی کا عقیدہ نماز کے علاوہ بھی شیطان کو بھگانے کے لئے آذان دینا چائے اس لئے سنی مسلمان قبرستان میں مردے کو دفن کے بعد شیطان کو بھگانے کے لئے آذان دیتے ہیں صحابی ,وہابی دیوبندی اہلے حدیث نہیں تھے جو اچھی بدعت کی حدیث ہونے کے باوجود ہر اچھے عمل کو بری بدعت سمجھتے ہیں :-*  Muslim Shareef Hadees No# 762 حضرت سہیل فرماتے ہیں میرے والد نے مجھے بنو حارثہ کی طرف بھیجا۔فرماتے ہیں میرے ساتھ ہمارا غلام بھی تھا۔یا فرمایا ہمارا ایک ساتھی تھا اچانک کسی نے دیوار سے اس کا نام لے کر آواز دی۔میرے ساتھی نے دیوار سے جھانک کر دیکھا تو کچھ بھی دکھائی نہ دیا۔میں نے یہ بات اپنے والد کو بتائی تو انہوں نے فرمایا اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تمہارے ساتھ یہ واقعہ پیش آئیگا تو میں تمہیں نہیں بھیجتا لیکن جب کوئی آواز سنو تو نماز کی آذان دو میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے فرمایا جب نماز کے لئے آذان ہوتی ہے تو شیطان بھاگ جاتا ہے اور وہ آواز کے ساتھ ہوا خارج کرتا ہے۔ *(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ وَهَرَبِ الشَّيْطَانِ عِنْدَ سَمَ...

قبر والے سننتے ہیں اس لئے حضور ﷺ ان کو خطاب کیا حالت نماز میں حضور ﷺ کی تعظیم :-

 قبر والے سننتے ہیں اس لئے حضور ﷺ ان کو خطاب کیا حالت نماز میں حضور ﷺ کی تعظیم :- Muslim Shareef Hadees No# 493 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان کی طرف تشریف لے گئے تو آپ نے فرمایا اے مؤمنو! ان شاءاللہ ہم تم سے ملنے والے ہیں اسکے بعد حدیث نمبر ٤٩٢ کی مثل ہے۔کچھ الفاظ کا فرق ہے۔ *(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ اسْتحْبَابِ إِطَالَةِ الْغُرَّةِ وَالتَّحْجِيلِ فِي الْوُضُوءِ؛جلد١ص٢١٨؛حدیث نمبر ٤٩٣)*  Kind(Sahih Hadees) Muslim Shareef Kitabut Taharat Hadees No# 493 Sent from TrueIslam App! Muslim Shareef Hadees No# 541 حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور میں (دونوں) پیچھے رہ گئے۔جب آپ قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو فرمایا کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں پانی کا برتن لایا تو آپ نے اپنی دونوں ہتھیلیوں اور چہرے کو دھویا پھر اپنے بازوؤں سے کپڑا ہٹانے لگے تو جبے کی آستین تنگ تھی۔پس آپ نے جبے کے نیچے سے اپنے ہاتھوں کو نکالا اور جبے کو کندھوں پر ڈال دیا پھر بازوؤں کو دھویا اور پیشانی پر عمامہ شر...

علم غیب سے حضور ﷺ جانتے ہیں کس کو عذاب قبر ہو رہا ہے اور کس وجہ سے اور نباتات بھی اللہ‎ تعالیٰ کی تسبی پڑھتے اس لئے ان کی تسبی سے قبروالوں کے عذاب میں کمی ہوتی ہیں اس لئے قبر پر پھول ڈالے جاتے ہیں :-

 علم غیب سے حضور ﷺ جانتے ہیں کس کو عذاب قبر  ہو رہا ہے اور کس وجہ سے  اور نباتات بھی اللہ‎ تعالیٰ کی تسبی پڑھتے اس لئے ان کی تسبی سے قبروالوں کے عذاب میں کمی ہوتی ہیں اس لئے قبر پر پھول ڈالے جاتے ہیں :-  Muslim Shareef Hadees No# 585 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑے گناہ میں عذاب نہیں ہورہا ہے بلکہ ان میں سے ایک چغلی کھاتا تھا اور دوسرا پیشاب سے نہیں بچتا تھا۔راوی فرماتے ہیں آپ نے کھجور کی ایک تر شاخ منگوائی اور اسکو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ایک کو ایک قبر پر اور دوسرے کو دوسری قبر پر گاڑ دیا۔پھر فرمایا جب تک یہ خشک نہیں ہوں گی ان دونوں سے عذاب میں تخفیف ہوگی۔(اس حدیث سے اور اس جیسی متعدد دیگر احادیث سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو غیب کی باتوں پر مطلع فرمایا تبھی تو معلوم ہوا قبر اندر عذاب ہو رہا ہے اور کس سبب ہو رہا ہے وہ بھی معلوم ہے اور یہی اہل سنت وجماعت کا عقیدہ ہے اللہ تعالیٰ اہل بدعت کو سمجھنے کی تو...

حضور ﷺ نے تمام انبیاء کرام کی امتوں کا مشاہدہ کیا :-

 حضور ﷺ نے تمام انبیاء کرام کی امتوں  کا مشاہدہ کیا :- Muslim Shareef Hadees No# 435 حضرت حصین بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔آپ نے فرمایا تم سے کس نے وہ ستارہ دیکھا ہے جو گزشتہ رات ٹوٹا ہے(حضرت حصین فرماتے ہیں)میں نے کہا میں نے دیکھا ہے۔پھر میں نے کہا کہ میں نماز میں نہیں تھا لیکن مجھے ڈسا گیا (بچھو نے ڈسا) انہوں نے پوچھا پھر تم نے کیا کیا؟ عرض کیا میں نے دم کروایا فرمایا تم نے ایسا کس بنیاد پر کیا۔عرض کیا ایک حدیث کی بنیاد پر جو حضرت شعبی نے ہم سے بیان کی۔فرمایا حضرت شعبی نے تم سے کیا بیان کیا؟میں نے کہا انہوں نے حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے فرمایا نظر لگنے اور بچھو کے ڈسنے کے علاوہ کسی چیز میں دم (زیادہ) معبد نہیں۔حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔جس نے جو کچھ سن کر اس پر عمل کیا۔اس نے اچھا کیا لیکن ہم سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔آپ نے فرمایا مجھ پر امتیں پیش کی گئیں تو میں نے کسی نبی کو یوں دیکھا کہ ان کے ساتھ ایک چھوٹا...

حضور ﷺ اپنے حوض کوثر سے منافقوں بد عقیدہ والے مرتد کو روکیں گے جنہوں نے اپنے دین کو بدل دیا ہے اسلام کے خلاف عقیدہ رکھا :-

 حضور ﷺ اپنے حوض کوثر سے منافقوں بد عقیدہ والے مرتد کو روکیں گے جنہوں نے اپنے دین کو بدل دیا ہے اسلام کے خلاف عقیدہ رکھا :-  Muslim Shareef Hadees No# 490 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میرے پاس حوض پر آئے گی اور میں (دوسرے) لوگوں کو وہاں سے اس طرح دور کروں گا جس طرح کوئی شخص کسی دوسرے آدمی کے اونٹوں کو اپنے اونٹوں سے دور کرتا ہے۔صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے نبی!کیا آپ ہمیں پہچان لیں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں تمہاری علامت ہوگی جو کسی دوسرے کے لئے نہیں ہوگی۔تم میرے پاس اس طرح آؤ گے کہ وضو سے تمہارے اعضاء چمک رہے ہوں گے اور ایک گروہ کو مجھ سے روکا جائے گا تو وہ مجھ تک نہیں پہنچیں گے۔میں کہوں گا اے میرے رب!یہ میرے اصحاب ہیں تو فرشتہ مجھے جواب دیتے ہوئے کہیں گے آپکو معلوم ہے ان لوگوں نے آپکے بعد کیا کیا (یعنی مرتد ہو گئے)(امام نووی فرماتے ہیں ایک روایت میں ہے انہوں نے آپکے بعد دین کو بدل دیا۔ان لوگوں کے بارے میں اختلاف ہے ایک قول یہ ہے کہ ان سے مرتد اور منافق مراد ہیں لہٰذا ہوسکتا ہے انکے چہرے سیاہ ہوں گے اور ہر ایک ...

حضور ﷺ کو جب اللہ‎ تعالیٰ نے قریبی رشتہ داروں کو ڈرانے اور ایمان کی تبلیغ کا حکم دیا تو آپ نے سب رشتہ داروں اور فاطمہ!(رضی اللہ عنہا) سے فرمایا میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں اس حدیث سے حضور ﷺ کی اختیار کی نفی جہالت ہیں تبلیغ کے لئے ڈرایا جاتا ہے اور ایمان قبول کرنے کے بعد شفاعت سے اطمینان دلایا جاتا ہے :-

 حضور ﷺ کو جب اللہ‎ تعالیٰ نے قریبی رشتہ داروں کو ڈرانے اور ایمان  کی تبلیغ کا حکم دیا تو آپ نے سب رشتہ داروں اور فاطمہ!(رضی اللہ عنہا) سے فرمایا میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں اس حدیث سے حضور ﷺ کی اختیار کی نفی جہالت ہیں تبلیغ کے لئے ڈرایا  جاتا ہے اور ایمان قبول کرنے کے بعد شفاعت سے اطمینان دلایا  جاتا ہے :- Muslim Shareef Hadees No# 409 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔{وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤]،"آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں"توحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو بلایا تو وہ سب عام وخاص جمع ہوئے۔آپ نے فرمایا اے بنو کعب بن لوی اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ، اے بنو مرہ بن کعب! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ،اے بنو عبد شمس! اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ،اے بنو عبد مناف! اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ اے بنو ہاشم! اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ،اے بنو عبدالمطلب! اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ۔اے فاطمہ! (رضی اللہ عنہا) اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ۔بے شک میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں البتہ تمہارے ساتھ رشتہ داری ہےجسے تر رکھوں گا۔(بعض لوگ کم عل...

ایمان نہ لانے کے باوجود حضور ﷺ کی وجہ سے جہنم کے عذاب میں کمی سے نفع پہنچانا :-

 ایمان نہ لانے کے باوجود حضور ﷺ کی وجہ سے جہنم کے عذاب میں کمی سے  نفع پہنچانا :- Muslim Shareef Hadees No# 418 حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا آپ نے ابوطالب کو کوئی نفع دیا وہ آپکی حفاظت کرتے اور آپکے لئے (مخالفین پر) غضب ناک ہوتے تھے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ہاں جہنم کی آگ انکے ٹخنوں تک ہے اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے گڑھے میں ہوتے۔(جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی اجازت سے ابو طالب کو فائدہ پہونچا سکتے ہیں تو مسلمانوں کو فائدہ کیسے نہیں پہنچا سکتے) *(مسلم شریف کتاب الایمان؛- بَابُ شَفَاعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَالِبٍ وَالتَّخْفِيفِ عَنْهُ بِسَبَبِهِ؛ترجمہ؛ابوطالب کے لیے تخفیف عذاب کی شفاعت؛جلد١ص١٩٤؛ حدیث نمبر٤١٨)*  Kind(Sahih Hadees) Muslim Shareef Kitabul Iman Hadees No# 418 Sent from TrueIslam App!

حضور ﷺ نے تمام انبیاء کرام کی امتوں کا مشاہدہ کیا :-

 حضور ﷺ نے تمام انبیاء کرام کی امتوں  کا مشاہدہ کیا :- Muslim Shareef Hadees No# 435 حضرت حصین بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔آپ نے فرمایا تم سے کس نے وہ ستارہ دیکھا ہے جو گزشتہ رات ٹوٹا ہے(حضرت حصین فرماتے ہیں)میں نے کہا میں نے دیکھا ہے۔پھر میں نے کہا کہ میں نماز میں نہیں تھا لیکن مجھے ڈسا گیا (بچھو نے ڈسا) انہوں نے پوچھا پھر تم نے کیا کیا؟ عرض کیا میں نے دم کروایا فرمایا تم نے ایسا کس بنیاد پر کیا۔عرض کیا ایک حدیث کی بنیاد پر جو حضرت شعبی نے ہم سے بیان کی۔فرمایا حضرت شعبی نے تم سے کیا بیان کیا؟میں نے کہا انہوں نے حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے فرمایا نظر لگنے اور بچھو کے ڈسنے کے علاوہ کسی چیز میں دم (زیادہ) معبد نہیں۔حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔جس نے جو کچھ سن کر اس پر عمل کیا۔اس نے اچھا کیا لیکن ہم سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔آپ نے فرمایا مجھ پر امتیں پیش کی گئیں تو میں نے کسی نبی کو یوں دیکھا کہ ان کے ساتھ ایک چھوٹا...

حضور ﷺ اس شخص کو بھی جانتے ہیں جو جنت میں سب سے آخر میں داخل ہوگا یقینا ہم سب کو بھی جانتے ہیں :-

 حضور ﷺ اس شخص کو بھی جانتے ہیں جو جنت میں سب سے آخر میں داخل ہوگا  یقینا ہم سب کو بھی جانتے ہیں :-  Muslim Shareef Hadees No# 369 حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس شخص کو جانتا ہوں جو جہنم سے سب سے آخر میں نکلے گا اور جنت میں سب سے آخر میں داخل ہوگا۔ایک شخص جو جہنم سے ہاتھوں اور پاؤں پر گھسیٹتاہوا نکلے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا جا اور جنت میں داخل ہوجا۔آپ نے فرمایا وہ جائے گا اور خیال کرےگا کہ جنت تو بھری ہوئی ہے پس واپس آجائے گا اور عرض کرےگا۔اے میرے رب!وہ تو بھری ہوئی ہے اللہ تعالیٰ اس سے فرماۓگا جا اور جنت میں داخل ہوجا۔فرمایا وہ آئیگا اور خیال کرے گا کہ وہ بھری ہوئی ہے پس واپس لوٹ جائیگا اور عرض کرے گا اے میرے رب!وہ تو بھری ہوئی ہےاللہ تعالیٰ فرماۓگا جا جنت میں داخل ہوجا تیرے لیے دنیا اور اسکی مثل دس ہے یافرمایا تیرے لئے دنیا کی دس مثل ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں وہ کہے گا یااللہ تو مجھ سے مذاق کرتا ہے یا مجھ پر ہنستا ہے تو تو بادشاہ ہے۔حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں۔میں نے دیکھا کہ...

بیت المقدس میں جہنم کے مالک نے حضور ﷺ کو سلام کیا اگر ہم حضور ﷺ کو جنّت کا مالک کہے تو بد عقیدہ والوں کو شرک نظر آئےگا اگر معراج خواب میں ہوتی تو خواب پر کعبہ کے کافر اعتراض نہ کرتے :-

 بیت المقدس میں جہنم کے  مالک نے حضور ﷺ کو سلام کیا اگر ہم حضور ﷺ کو جنّت کا مالک کہے  تو بد عقیدہ والوں کو شرک نظر آئےگا اگر معراج خواب میں ہوتی تو خواب پر کعبہ کے کافر اعتراض نہ کرتے :-  Muslim Shareef Hadees No# 336 حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب قریش نے مجھے جھٹلایا تو میں حطیم کعبہ میں کھڑا ہوا اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو میرے سامنے کردیا تو میں اسے دیکھ دیکھ کر ان لوگوں سے اس کی نشانیاں بیان کرنے لگا۔  *(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ ذِكْرِ الْمَسِيحِ ابْنِ مَرْيَمَ، وَالْمَسِيحِ الدَّجَّالِ؛جلد١ص ١٥٦؛ حدیث نمبر؛٣٣٦)*  Kind(Sahih Hadees) Muslim Shareef Kitabul Iman Hadees No# 336 Sent from TrueIslam App! Muslim Shareef Hadees No# 338 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے آپ کو حطیم میں دیکھا اور قریش مجھ سے میری سیر کا حال پوچھ رہے تھے (یعنی معراج کا) تو انہوں نے بیت المقدس کی کئی چیزیں پوچھیں جو مجھے محفوظ نہ تھی مجھے بڑا رنج ہوا ایسا رن...

حضور ﷺ نے مسیح دجال کو بھی دیکھا ہیں دجال شیطان کا ہی روپ ہیں بہت سے لوگ دجال کو ٹیکنالوجی کے اسباب سمجھتے ہیں خود بھی گمراہ ہیں لوگوں کو بھی گمراہ کرتے ہیں :-

 حضور ﷺ نے مسیح دجال کو بھی دیکھا ہیں دجال شیطان کا ہی روپ ہیں بہت سے لوگ دجال کو ٹیکنالوجی کے اسباب سمجھتے ہیں خود بھی گمراہ ہیں لوگوں کو بھی گمراہ کرتے ہیں :- Muslim Shareef Hadees No# 333 حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ایک رات (خواب میں) میں نے اپنے آپکو کعبہ شریف کے پاس دیکھا تو میں نے ایک گندمی رنگ کا آدمی دیکھا جو گندمی رنگ والوں میں سے نہایت حسین تھا۔اس کی زلفیں بہت خوبصورت تھیں۔اس نے کنگھی کر رکھی تھی اور بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا اس نے دو آدمیوں پر ٹیک لگا رکھی تھی یا فرمایا کہ دو آدمیوں کے کندھوں کا سہارا لیا ہوا تھا اور بیت اللہ شریف کا طواف کر رہا تھا۔میں نے پوچھا یہ کون ہے؟یہ مسیح ابن مریم ہے پھر میں نے ایک شخص کو دیکھا جس کے سخت گھنگھریالے بال تھے اور دائیں آنکھ سے کانا تھا اور وہ انگور کی طرح ابھری ہوئی تھی میں نے پوچھا یہ کون ہے؟کہا گیا یہ مسیح دجال ہے۔ *(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ ذِكْرِ الْمَسِيحِ ابْنِ مَرْيَمَ، وَالْمَسِيحِ الدَّجَّالِ؛ترجمہ؛مسیح ابن مریم اور مسیح دجال کا ذکر؛جلد١ص١٥٤؛حدیث نمبر٣٣٣)*  Ki...

حضور ﷺ کا موسیٰ اور یونس علیہ السلام کو دیکھنا :-

 حضور ﷺ کا موسیٰ  اور یونس علیہ السلام کو دیکھنا :-  Muslim Shareef Hadees No# 328 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی ازرق پر گزرے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کون سی وادی ہے؟لوگوں نے کہا کہ وادی ازرق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہاہوں کہ وہ بلندی سے اتر رہے ہیں اور وہ بلند آواز سے لبیک کہ رہے ہیں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہرشا کی وادی پر آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کون سی وادی ہے؟ لوگوں نے کہا ’ہرشا‘کی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:گویا کہ میں یونس بن متی کو دیکھ رہا ہوں کہ صوف کا ایک جبہ پہنے ہوئے ایک سرخ اونٹنی پر سوار ہیں اور ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کے چھال کی ہے،اور وہ لبیک کہہ رہے ہیں۔ *(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ الْإِسْرَاءِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاوَاتِ، وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ؛جلد١ص١٥٢؛حدیث نمبر٣٢٨)*  Kind(Sahih Hadees) Muslim Shareef Kitabul Iman Hadees No# 328 Sent from TrueIslam App!

حضور ﷺ نے علم غیب سے جہنم میں جانے والے جہنمی کو پہلے ہی چوری شدہ چادر کے ساتھ جہنم میں دیکھ لیا باطل فرقے والوں کو بھی جہنمی کہا ہیں اس لئے عداوت میں علم غیب کا انکار کرتے ہیں :-

 حضور ﷺ نے علم غیب سے جہنم میں جانے والے جہنمی کو پہلے ہی چوری شدہ چادر کے ساتھ جہنم میں دیکھ لیا باطل فرقے والوں کو بھی جہنمی کہا ہیں اس لئے عداوت میں علم غیب کا انکار کرتے ہیں :- Muslim Shareef Hadees No# 217 حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔جب (فتح) خیبر کا دن ہوا تو رسول اللہ کے کئی صحابہ رضی اللہ عنہم آئے اور کہنے لگے فلان شہید ہے اور فلاں شہید ہے یہاں تک کہ ایک شخص کا ذکر ہوا کہنے لگے یہ بھی شہید ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں، میں نے اس کو جہنم میں ایک چوری شدہ چادر یا عبا میں دیکھا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے خطاب کے بیٹے!اٹھ اور لوگوں کو بتائیں کہ جنت میں صرف مؤمن داخل ہوں گے (یعنی چور نہیں جائیں گے) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں نکلا اور میں نے لوگوں میں اعلان کردیا۔کہ جنت میں مؤمن ہی داخل ہوں گے *(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ،وَأَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ؛ترجمہ؛مال غنیمت میں خیانت کرنے کی حرمت اور یہ کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے۔؛جلد١ص١٠٧؛حدیث نمبر ٢١٧")*...

حضور ﷺ علم غیب سے جانتے تھے جنگ میں جہاد کرنے والا شخص جہنمی ہیں اس کی موت کا سبب بھی پہلے سے جانتے تھے اس لئے جہنمی کہا گیا :-

 حضور ﷺ علم غیب سے جانتے تھے جنگ میں جہاد کرنے والا شخص جہنمی ہیں اس کی موت کا سبب بھی پہلے سے جانتے تھے  اس لئے جہنمی کہا گیا :-  Muslim Shareef Hadees No# 213 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ حنین میں شریک ہوئے۔آپ نے ایک شخص کے بارے میں جو اسلام کا دعویٰ کرتا تھا فرمایا یہ جہنمیوں میں سے ہے جب ہم لڑائی کے لئے حاضر ہوئے تو وہ شخص نہایت جرءت سے لڑا تو زخمی ہوگیا۔عرض کیا گیایا رسول اللہ!ابھی جس آدمی کے بارے میں آپ نے فرمایا تھا کہ وہ اہل جہنم سے ہے تو وہ خوب لڑا اور مر گیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جہنم میں جائے گا۔پس قریب تھا کہ بعض مسلمان شک کا شکار ہو جائیں وہ اسی حالت میں تھے کہ کہا گیا وہ شخص فوت نہیں ہوا بلکہ وہ شدید زخمی ہے۔جب رات کا وقت ہوا تو وہ زخم برداشت نہ کر سکا اور اس نے خودکشی لی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع کی گئی تو آپ نے فرمایا"اللہ اکبر"میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اسکا رسول ہوں۔پھر آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے لوگوں ...

کسی مسلمان کو کافر کہنے والا خود کافر ہوجاتا ہیں اگرچہ جس کو کہا گیا اس میں کفر کی علامت نہ ہو کسی مسلمان کو مشرک کہنا بھی کفر ہیں اگرچہ اس میں شرک کی علامت نہ ہو مسلمان کو مشرک کہنے والے توجہ دیں :-

 کسی مسلمان کو کافر کہنے والا خود کافر ہوجاتا ہیں اگرچہ جس کو کہا گیا اس میں کفر کی علامت نہ ہو کسی مسلمان کو مشرک کہنا بھی کفر ہیں اگرچہ اس میں شرک کی علامت نہ ہو مسلمان کو مشرک کہنے والے توجہ دیں :-  Muslim Shareef Hadees No# 124 حضرت عبداللہ بن دینار فرماتے ہیں۔انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے (مسلمان) بھائی کو کافر کہے تو یہ بات ان میں سے ایک کی طرف لوٹتی ہے۔اگر وہ ایسا ہی ہو (جس کو کافر کہا گیا تو ٹھیک ہے) ورنہ اس(کہنے والے) کی طرف لوٹ آئے گا *(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ حَالِ إِيمَانِ مَنْ قَالَ لِأَخِيهِ الْمُسْلِمِ:يَا كَافِرُ؛جلد١ص نمبر٧٩؛حدیث نمبر١٢٤")*  Kind(Sahih Hadees) Muslim Shareef Kitabul Iman Hadees No# 124 Sent from TrueIslam App!

نماز میں کندھے کو کندھے کے ساتھ اور قدم کو قدم سے کو ملانے کا معنی ایک ترتیب اور مناسب فاصلہ ہو جس سے کسی کو حرکت میں دشواری نہ ہو مگر اہل حدیث فرقہ اس کا غلط معنی سمجھتے ہیں :-

 نماز میں کندھے کو کندھے کے ساتھ  اور قدم کو قدم سے کو ملانے کا معنی ایک ترتیب اور مناسب فاصلہ ہو جس سے کسی کو حرکت میں دشواری نہ ہو مگر اہل حدیث فرقہ اس کا غلط معنی سمجھتے ہیں :-  Bukhari Shareef Hadees No# 725 باب؛صف میں کندھے کو کندھے کے ساتھ ملانا اور قدم کو قدم سے؛پھر امام بخاری فرماتے ہیں کہ:اور نعمان بن بشیر نے کہا؛میں نے ہم میں سے ایک شخص کو دیکھا وہ اپنے ٹخنے کو اپنے ساتھی کے ٹخنے سے ملاتا تھا؛پھر امام بخاری نے یہ حدیث بیان کی کہ:روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛تم اپنی صفیں قائم رکھو کیوں کہ میں تم کو اپنی پست کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں اور ہم میں سے ایک شخص اپنا کندھا اپنے صاحب کے کندھے سے اور اپنا قدم اپنے صاحب کے قدم سے ملاتا تھا؛ *(بخاری شریف کتاب الاذان بَابُ إِلْزَاقِ المَنْكِبِ بِالْمَنْكِبِ وَالقَدَمِ بِالقَدَمِ فِي الصَّفِّ؛جلد ١ ص ١٤٦؛حدیث نمبر ٧٢٥؛)*  (اس حدیث کے سبب بعض لوگ نماز کی حالت میں اپنے پاس کھڑے نمازی کے ٹخنے سے اپنا ٹخنہ ملانے اور پاس کھڑے نمازی کے کندھے سے اپنا کندھا ملانا کے چکر میں لگ...

حالت نماز میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا حضور ﷺ کی تعظیم کے لئے امامت سے پیچھے ہٹنا مگر دیوبندی اسماعیل دہلوی صراط المستقیم کی کتاب میں لکھتا ہیں نماز میں حضور ﷺ کا خیال شرک کی طرف لے جاتا ان کے فرقے میں ہر تعظیم اور ادب شرک اور حرام ہوتا ہیں :-

 حالت نماز میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا حضور ﷺ کی تعظیم کے لئے امامت سے پیچھے ہٹنا مگر دیوبندی اسماعیل دہلوی صراط المستقیم کی کتاب میں لکھتا ہیں نماز میں حضور ﷺ کا خیال شرک کی طرف لے جاتا ان کے فرقے میں ہر تعظیم اور ادب شرک اور حرام ہوتا ہیں :- Bukhari Shareef Hadees No# 684 باب۔جو شخص لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے داخل ہوا پھر پہلا(اصل)امام آگیا تب امام پیچھے ہٹے یا نہ ہٹے نماز جائز ہے؛پھر امام بخاری فرماتے ہیں کہ:اس عنوان کے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث ہے؛از نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (یعنی اس کے متعلق کہ ایک امام نماز پڑھا رہا تھا پھر وہ امام آگیا جو اصل امام تھا پھر وہ امام پیچھے ہٹے یا نہ ہٹے.نماز پوری ہو جائے گی) پھر امام بخاری یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ:روایت ہے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی عمرو بن عوف کی طرف ان کے درمیان صلح کروانے کے لیے گئے پس نماز کا وقت آگیا؛پھر موذن حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا؛پس کہا؛کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے تو میں نماز کی اقامت پڑھوں؟حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا؛ہاں! پھر حضر...

نماز کی حالت میں ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کی تعظیم کے لئے امامت سے پیچھے ہٹنا چاہا اور دیوبندی اسماعیل دہلوی صراط المستقیم کتاب میں لکھتا ہیں نماز میں حضور ﷺ کے خیال سے بہتر بیل گدھے اور عورت سے ہمبستری کا خیال بہتر ہیں :-

 نماز کی حالت میں ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کی تعظیم کے لئے امامت سے پیچھے ہٹنا چاہا اور دیوبندی  اسماعیل دہلوی صراط المستقیم کتاب میں لکھتا ہیں نماز میں حضور ﷺ کے خیال سے بہتر بیل گدھے اور عورت سے ہمبستری کا خیال بہتر ہیں :- Bukhari Shareef Hadees No# 664 ابراہیم اسود نے کہا؛کہ؛ہم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تھے؛ پس ہم نے نماز میں دوام اور اس کی تعظیم کا ذکر کیا؛حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا؛جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کی وفات ہو گئی تھی(اس وقت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں) تو (جب) نماز کا وقت آیا اور اس کی اذان دی گئی پس آپ نے فرمایا؛ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں (کیونکہ آپ شدید بیمار تھے اور چل نہیں سکتے تھے اس سبب تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے(گھر والوں نے)کہا گیا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ بہت رقیق القلب ہیں وہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے (لیکن) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دوبارہ فرمایا؛ (کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو ...

پہلے نماز کی اقامت پڑھے اس کے بعد صفیں درست کے لئے کھڑے ہونا سنّت ہیں :-

 پہلے نماز کی اقامت پڑھے اس کے بعد صفیں درست کے لئے کھڑے ہونا سنّت ہیں :- Bukhari Shareef Hadees No# 640 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ نماز کی اقامت پڑھی گئی پس لوگوں نے اپنی صفیں برابر کیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (حجرہ سے) باہر نکلے پس آگے بڑھے؛اس وقت آپ جنبی تھے پھر فرمایا؛تم اپنی جگہوں پر ٹھہرو پس آپ نے غسل کیا پھر آپ باہر نکلے؛اور آپ کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے پس آپ نے ان کو نماز پڑھائی؛؛ *(بخاری شریف کتاب الاذان بَابٌ: إِذَا قَالَ الإِمَامُ: مَكَانَكُمْ حَتَّى رَجَعَ انْتَظَرُوهُ؛یعنی جب امام کہے کہ تم اپنی جگہوں پر ٹھہرو حتیٰ کہ میں واپس آؤں تو وہ اس کا انتظار کریں؛جلد ١ ص ١٣٠؛حدیث نمبر ٦٤٠؛اس حدیث کی تخریج حدیث نمبر ٢٧٥ میں ملاحظہ فرمائیں)*  (اس حدیث سے صاف واضح ہو گیا کہ اقامت کہنے سے پہلے صحابہ کرام نماز کے لئے کھڑے نہیں ہوتے تھے اقامت کہی جاتی تھی تب کھڑے ہوتے تھے اور پھر بعد اقامت صفیں درست کرتے تھے؛؛؛ Kind(Sahih Hadees) Bukhari Shareef Kitabul Ajaan Hadees No# 640 Sent from TrueIslam App!

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر پر کھانے میں برکت کی کرامت

 حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر پر کھانے میں برکت کی کرامت :-*  Bukhari Shareef Hadees No# 602 حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ اصحاف الصفہ فقراء لوگ تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو وہ تیسرے آدمی کو لے جائے (اصحاب الصفہ میں سے) اور جس کے پاس چار آدمیوں کا کھانا ہو وہ پانچویں یا چھٹے آدمی کو ساتھ لے جائے (اصحاب الصفہ میں سے) اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تین آدمیوں کو ساتھ لے گئے (اصحاب الصفہ میں سے) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس آدمیوں کو ساتھ لے گئے(اصحاب الصفہ میں سے) حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا؛میں تھا میرے والد (ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ) تھے اور میری والدہ تھی؛ راوی نے کہا؛ مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے کہا تھا اور میری بیوی تھی اور خادم تھا؛یہ لوگ ہمارے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے درمیان مشترک تھے ایک دن حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے رات کا کھانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھایا اور آکر گھر ٹھہرے حتیٰ کہ عشاء کی نماز پڑھی لی گئی پھر لوٹ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم...

حضور ﷺ نے علم غیب سے بتایا حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ فتنہ کا دروازہ ہیں عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت سے فتنہ کا دروازہ ٹوٹ جاےگا :-

 حضور ﷺ نے علم غیب سے بتایا حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ فتنہ کا دروازہ ہیں عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت  سے فتنہ کا دروازہ ٹوٹ جاےگا :-  Bukhari Shareef Hadees No# 525 شقیق نے حدیث بیان کی؛انہوں نے کہا؛میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا؛حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا؛ہم حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے پوچھا تم میں سے کسی شخص کو فتنہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث یاد ہے؟ میں نے کہا مجھے اسی طرح یاد ہے جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا؛(انہوں نے کہا) تم اس کی ہمت رکھنے والے ہو؛میں نے کہا:آدمی کی بیوی؛اس کے مال؛اس کی اولاد؛ اور اس کے پڑوسی میں جو فتنہ ہوتا ہے؛نماز روزہ صدقہ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے سے اس کا کفارہ ہو جاتا ہے؛حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا؛میری یہ مراد نہیں ہے؛لیکن میری مراد اس فتنہ سے ہے جس کی موجیں سمندر کے موجوں کی طرف ہوگی؛میں نے کہا؛اے امیر المومنین! آپ کو اس فتنہ سے کوئی خطرہ نہیں ہے آپ کے اور اس فتنہ کے درمیان ایک مقفل دروازہ ہے؛حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا آیا اس درو...

مؤذن کی آواز کی انتہاء تک جو بھی اذان سنے گا خواہ جن ہو انسان ہو یا کوئی چیز ہو وہ اس کے حق میں قیامت کے دن گواہی دے گا اگر یہی عقیدہ حضور ﷺ کے لئے رکھا جائے ہمارے ایمان کی گواہی دینگے تو منافقوں کو اعتراض ہوگا :-

 مؤذن کی آواز کی انتہاء تک جو بھی اذان سنے گا خواہ جن ہو انسان ہو یا کوئی چیز ہو وہ اس کے حق میں قیامت کے دن گواہی دے گا اگر یہی عقیدہ حضور ﷺ کے لئے رکھا جائے ہمارے ایمان کی گواہی دینگے تو منافقوں کو اعتراض ہوگا :-  Bukhari Shareef Hadees No# 609 یہ باب ہے اس متعلق کہ؛اذان بلند آواز میں دینا چاہیے؛ پھر امام بخاری فرماتے ہیں کہ؛اور عمر بن عبدالعزیز نے کہا؛عمدہ طرح اذان دو ورنہ اذان کا منصب چھوڑ دو؛؛پھر یہ حدیث نقل فرمائی کہ؛عبد الرحمن بن عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابی صعصعہ الانصاری ثم المازنی خود اپنےوالد سے روایت ہے کہ ان کے والد سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا؛میں دیکھتا ہوں کہ تم بکریوں سے اور جنگل سے محبت کرتے ہو پس جب تم اپنی بکریوں میں یا اپنے جنگل میں ہو؛پھر تم اپنی نماز کی اذان دو تو اپنی آواز بلند کرکے اذان دینا کیوں کہ مؤذن کی آواز کی انتہاء تک جو بھی اذان سنے گا خواہ جن ہو انسان ہو یا کوئی چیز ہو وہ اس کے حق میں قیامت کے دن گواہی دے گا؛ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا؛میں نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے *(بخاری شریف کتاب الاذان بَابُ رَ...

صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ کی کرامت :-

 صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ کی کرامت :-  Bukhari Shareef Hadees No# 465 حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اندھیری رات میں نکلے اور ان کے ساتھ دو چراغوں کی مثل کوئی دو چیزیں تھیں؛جو ان کے آگے روشنی کر رہی تھیں؛جب وہ جدا ہوئے تو ان میں سے ہر ایک کے ساتھ وہ چیز تھی؛حتیٰ کہ وہ اپنے اپنے گھر پہنچ گئے؛؛؛  *(بخاری شریف کتاب الصلاۃ بَابُ إِدْخَالِ البَعِيرِ فِي المَسْجِدِ لِلْعِلَّةِ؛جلد ١ ص ١٠٠؛حدیث نمبر ٤٦٥؛اطرف الحديث ٣٦٣٩؛٣٨٠٥؛)*  (اس حدیث پاک سے اولیاء اللہ کی کرامات کا ثبوت واضح طور پر ملتا ہے؛؛؛ Kind(Sahih Hadees) Bukhari Shareef Kitabus Salat Hadees No# 465 Sent from TrueIslam App!

حضور ﷺ کا علم غیب حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر :-

 حضور ﷺ کا علم غیب حضرت عمار رضی اللہ عنہ  کی شہادت کی خبر   :-  Bukhari Shareef Hadees No# 447 یہ باب ہے اس متعلق کہ؛مسجد کی تعمیر میں تعاون (کرنا کسکا کام ہے؟) پھر امام بخاری فرماتے ہیں کہ: اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: مشرکین کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اللہ کی مساجد تعمیر کریں جب کہ وہ خود اپنے خلاف کفر کی گواہی دینے والے ہوں؛ ان کے اعمال ضائع ہو گئے اور وہ دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں: اللہ کی مساجد صرف وہی لوگ تعمیر کرسکتے ہیں جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان لائے اور انہوں نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرے اور عنقریب یہی لوگ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے ہوں گے *(التوبہ آیت ١٧ و ١٨)* پھر امام بخاری یہ حدیث نقل کرتے ہیں کہ:عکرمہ نے بیان کیا کہ؛حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے مجھ سے اور اپنے بیٹے علی سے کہا؛تم دونوں حضرت ابو سعید کے پاس جاؤ اور ان سے حدیث کا سماع کرو؛پس ہم دونوں گئے؛اس وقت حضرت ابو سعید اپنے باغ کی اصلاح کر رہے تھے؛ انہوں نے اپنی چادر لے کر اوڑھ لی؛پھر ہمیں حدیث سنانے لگے حتیٰ کہ مسجد کی تعمیر کا ذکر آیا تو انہوں...

ایک مجلس میں تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں :-

 ایک مجلس میں تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں :-  Bukhari Shareef Hadees No# 423 روایت ہے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے کہ؛ ایک شخص نے کہا؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ بتائیے کہ ایک آدمی اپنی بیوی کے پاس ایک شخص کو پائے تو کیا وہ اس کو قتل کردے؟ پھر ان دونوں نے مسجد میں لعان کیا (ایک دوسرے پر لعنت کی) اور میں اس کا مشاہدہ کر رہا تھا *(بخاری شریف کتاب الصلاۃ بَابُ القَضَاءِ وَاللِّعَانِ فِي المَسْجِدِ بَيْنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ؛یعنی مردوں اور عورتوں کے درمیان مسجد میں فیصلہ کرنا اور لعان کرنا؛؛ جلد ١ ص ٩٢؛؛حدیث نمبر ٤٢٣؛؛اطراف الحدیث ٤٧٤٥؛٤٧٤٦؛٥٢٥٩؛٥٣٠٨؛٥٣٠٩؛٦٨٥٤؛٧١٦٥؛٧١٦٦؛٧٣٠٤)*  (مکمل واقعہ کچھ اس طرح ہے جو کہ مسلم شریف میں موجود ہے؛ حدیث نمبر ١٤٩ میں کہ؛حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عویمر العجلانی ؛حضرت عاصم بن عدی انصاری کے پاس گئے اور ان سے کہا؛ اے عاصم! یہ بتاؤ کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پائے تو کیا اس کو قتل کردے؟ پھر تم اس کو قتل کر دو گے یا پھر وہ کیا کرے؟ اے عاصم! تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے لیے ...

حضور ﷺ جیسے آگے دیکھتے ویسے پیچھے بھی دیکھتے ہیں نمازی کے دل کا حال بھی جانتے ہیں :-

 حضور ﷺ جیسے آگے دیکھتے ویسے پیچھے بھی دیکھتے ہیں نمازی کے دل کا حال بھی جانتے ہیں :-  Bukhari Shareef Hadees No# 418 روایت ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ؛کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ میری توجہ صرف قبلہ کی طرف ہوتی ہے (اور میں کسی اور طرف نہیں دیکھتا) پس اللہ کی قسم مجھ پر تمہارا نہ خشوع مخفی ہے نہ تمہارا رکوع مخفی ہے اور بے شک میں تم کو اپنی پیٹھ کے پیچھے بھی دیکھتا ہوں *(بخاری شریف کتاب الصلاۃ بَابُ عِظَةِ الإِمَامِ النَّاسَ فِي إِتْمَامِ الصَّلاَةِ، وَذِكْرِ القِبْلَةِ یعنی امام کا لوگوں کو نماز پوری کرنے کی نصیحت کرنا اور قبلہ کا ذکر کرنا؛ جلد ١ ص ٩١؛حدیث نمبر ٤١٨؛طرف الحدیث ٧٤١؛مسلم شریف ٤٢٤)*  Kind(Sahih Hadees) Bukhari Shareef Kitabus Salat Hadees No# 418 Sent from TrueIslam App!

حضور ﷺ نے جوتے پہن کر بھی نماز پڑھی ہیں پہلے مسجد کا فرش کچا ہوتا تھا زمین پر کنکری ہوتی تھی اس وقت مسجد میں جوتے پہن نہ ادب کے خلاف نہیں تھا :-

 حضور ﷺ نے جوتے پہن کر بھی نماز پڑھی ہیں پہلے مسجد کا فرش کچا ہوتا تھا زمین پر  کنکری ہوتی تھی اس وقت مسجد میں جوتے پہن نہ ادب کے خلاف نہیں تھا :-  Bukhari Shareef Hadees No# 386 سعید بن یزید الازدی نے خبر دی انہوں نے کہا کہ؛ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا؛ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں! *(بخاری شریف کتاب الصلاۃ بَابُ الصَّلاَةِ فِي النِّعَالِ؛یعنی جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھنا؛ جلد ١ ص ٨٦؛حدیث نمبر ٣٨٦؛طرف الحدیث ٥٨٥)*  (یاد رہے اگرچہ اس حدیث شریف سے یہ ثابت ہوتا ہیکہ جوتے پہن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہے؛ لیکن چونکہ ہمارے شہروں کی سڑکوں اور گلیوں میں عموماً گھوڑوں؛ گدھوں؛ کتوں؛ بلیوں؛ کا پیشاب اور گٹروں؛ کا پانی پڑا رہتا ہے جس کے سبب جوتوں کے تلوے ناپاک ہو جاتے ہیں اور اس سے نجاست کو دور کرنے کے لئے جوتوں کو  تین بار دھونا ضروری ہے کہ اور ہر بار دھو کر خشک کیا جائے اور چونکہ آجکل کے جو جوتے ہیں اسکو نچوڑا نہیں جا سکتا تو پھر جوتے دھو کر ہمیں خشک کرنے کے لیے کافی دیر رکھنا ہوگا او...

حضور ﷺ کا علم غیب موسیٰ علیہ السلام نے جس پتھر پر کو مارا اس پر چھ یا سات ضرب کے نشان تھے :-

 حضور ﷺ کا علم غیب موسیٰ علیہ السلام نے جس پتھر پر کو مارا اس پر چھ یا سات ضرب کے نشان تھے :-  Bukhari Shareef Hadees No# 278 یہ باب ہے؛ جس نے تنہائی میں برہنہ غسل کیا اور جس نے ستر کیا تو ستر افضل ہے پھر امام بخاری آگے لکھتے ہیں کہ؛ اور بہز نے اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے یہ روایت بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:لوگوں کی بہ نسبت اللہ اس کا زیادہ حق دار ہیکہ اس سے حیاء کی جائے؛؛؛؛پھر امام بخاری آگے یہ حدیث لکھتے ہیں کہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ بنو اسرائیل برہنہ غسل کرتے تھے؛(اور) ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہتے تھے؛ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اکیلے غسل کرتے تھے؛ (تو) انہوں نے کہا؛ اللہ کی قسم موسیٰ کو ہمارے ساتھ غسل کرنے سے اور کوئی چیز مانع نہیں سوائے اس کے کہ ان کے خصیے سوجے ہوئے ہیں یا بہت بڑے ہیں؛ پس ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام غسل کر رہے تھے اور انہوں نے اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دئے تھے؛ تو وہ پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ پڑا؛ پس موسیٰ علیہ السلا...

اس حدیث سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کرنے والے چاہتے ہیں حضور ﷺ علم غیب کا اظہار ان کی خواہش کے مطابق کرے کافرو اور منافقوں نے بھی یہی چاہا کے کون کب کہا مریگا ماں کے پیٹ میں کیا ہے کب بارش ہوگی علم غیب کا اظہار کب کرنا کب نہیں کرنا اس کا فیصلہ اللہ‎ تعالیٰ اور حضور ﷺ کا ہوتا ہیں کافرو کا نہیں :-

 اس حدیث سے حضور ﷺ  کے علم غیب کا انکار کرنے والے چاہتے ہیں حضور ﷺ علم غیب کا اظہار ان کی  خواہش کے مطابق کرے  کافرو اور منافقوں نے بھی یہی چاہا کے کون کب کہا مریگا ماں کے پیٹ میں کیا ہے کب بارش ہوگی علم غیب کا اظہار کب کرنا کب نہیں کرنا اس کا فیصلہ اللہ‎ تعالیٰ اور حضور ﷺ کا ہوتا ہیں کافرو کا نہیں :- Bukhari Shareef Hadees No# 334 تیمم کا بیان:اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی کا قصد کرو؛ پھر اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کرو (النساء آیت ٤٣:المائدہ آیت ٦)(پھر امام بخاری نے یہ حدیث نقل کی ہے کہ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں نکلے حتی کہ جب ہم مقام البیدہء یا ذات الجیش میں پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا؛ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ڈھونڈنے کے لیے ٹھہر گئے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ٹھہر گئے اور لوگ پانی کے پاس نہیں تھے؛ پھر لوگ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور کہا؛ کیا آپ نہیں دیکھ رہے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ ...

کل کیا ہوگا کون جنّت میں کون دوذخ میں جاےگا حضرت آدم علیہ السلام اور حضور ﷺ نے جنتی اور دوزخی لوگوں کا مشاہدہ کیا موسیٰ علیہ السلام نے دنیا سے انتقال کے بعد بھی ہماری مدد کی 50 وقت کی نماز کو 5 وقت کی کرا کے :-

 کل کیا ہوگا کون جنّت میں کون دوذخ میں جاےگا حضرت آدم علیہ السلام اور حضور ﷺ نے جنتی اور دوزخی لوگوں کا مشاہدہ کیا موسیٰ علیہ السلام نے دنیا سے انتقال کے بعد بھی ہماری مدد کی 50 وقت کی نماز کو 5 وقت کی کرا کے :-  Bukhari Shareef Hadees No# 349 نماز کا بیان :یہ باب ہے اس متعلق کہ؛شب معراج میں نمازوں کو فرض کیے جانے کی کیفیت(کیا تھی)(امام بخاری آگے لکھتے ہیں کہ) اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا؛ مجھے حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہرقل کی حدیث میں بیان کیا؛کہ؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھنے؛ سچ بولنے؛ اور پاک دامن رہنے کا حکم دیتے ہیں(یہ ہرقل کے واقعہ پر مشتمل مکمل حدیث حدیث نمبر ٧ میں ملاحظہ کریں)(پھر امام بخاری آگے یہ حدیث نقل کرتے ہیں کہ) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ؛ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ؛میرے گھر کی چھت میں شگاف کیا گیا؛ اور میں اس وقت مکہ میں تھا؛ پھر حضرت جبریل نازل ہوئے؛ پس میرے سینہ کو شک کیا؛ پھر انہوں نے اس کو زمزم کے پانی سے دھویا؛ پھر وہ سونے کا طشت لے کر آئ...

حضور ﷺ قبر والوں کی آواز بھی سنن لیتے ہیں علم غیب سے کس پر کیا عذاب ہو رہا ہیں جان لیتے ہیں نبتات بھی اللہ‎ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں اس لئے قبر پر پھول ڈالے جاتے ہیں جب تک تازہ رہینگے ان کے ذکر سے عذاب میں کمی ہوگی :-

 حضور ﷺ قبر والوں کی آواز بھی سنن لیتے ہیں علم غیب سے کس پر کیا عذاب ہو رہا ہیں جان لیتے ہیں نبتات بھی اللہ‎ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں اس لئے قبر پر پھول ڈالے جاتے ہیں جب تک تازہ رہینگے ان کے ذکر سے عذاب میں کمی ہوگی :- Bukhari Shareef Hadees No# 216 حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ یا مکہ کے باغات میں سے کسی باغ کے پاس سے گزرے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انسانوں کی (چیخنے کی رونے کی) آوازیں سُنی؛جنہیں ان کی قبر میں عذاب دیا جارہا تھا اور ان کو کسی بڑی چیز میں عذاب نہیں دیا جا رہا تھا؛ پھر فرمایا؛ کیوں نہیں؛ (انکو عذاب دئے جانے کی وجہ یہ ہیکہ) ان میں سے ایک پیشاب کے قطروں سے نہیں بچتا تھا؛اور دوسرا چغلی کھاتا تھا؛ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت کی ایک شاخ منگائی؛ پھر اس کے دو ٹکڑے کیے پھر ہر قبر کے اُوپر ان میں کا ایک ٹکڑا رکھ دیا؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب تک یہ خشک نہیں ہوں گے ان کے عذاب میں تخفیف کردی جائے گ...

حضور ﷺ نے علم غیب سے بتایا حدیث بیان کرنے کے وقت سے 100 سال بعد تک کوئی بھی صحابہ اس دنیا میں حیات نہیں رہینگے :-

 حضور ﷺ نے علم غیب سے بتایا حدیث بیان کرنے کے وقت سے 100 سال بعد تک کوئی بھی صحابہ اس دنیا میں حیات نہیں رہینگے :- Bukhari Shareef Hadees No# 116 حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری حیات میں ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی؛ پس جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ نے کھڑے ہو کر فرمایا؛ مجھے بتاؤ یہ کونسی رات ہے؟ کیونکہ ٹھیک اس کے سو سال بعد جو لوگ اب روئے زمین پر ہیں؛ ان میں کوئی باقی نہیں رہے گا *(بخاری شریف کتاب العلم بَابُ السَّمَرِ فِي العِلْمِ؛یعنی رات کو علم کی باتیں کرنا؛ جلد ١ ص ٣٤؛حدیث نمبر ١١٦؛اطراف الحدیث ٥٦٤؛٦٠١)*  (یاد رہے یہاں مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہیکہ آپ کی امت میں سے جو بھی اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ کے زمانہ حیات میں تھے وہ مراد ہیں؛؛؛ اور آپ اس کے ذریعے یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ تمہاری عمر طویل نہیں قلیل ہے اس سبب جتنا ہو سکے زیادہ سے زیادہ عبادات کرو؛اس حدیث شریف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا علم غیب عطائی بھی ثابت ہوا کہ مستقبل کا علم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے عطا...

حضور ﷺ کا علم غیب جو چاہو سوال کرو مگر منافقوں کی طرح اعتراض نہ کرو:-

 حضور ﷺ کا علم غیب جو چاہو سوال کرو مگر منافقوں کی طرح اعتراض نہ کرو:-*  Bukhari Shareef Hadees No# 92 حضرت ابو موسیٰ (اشعری) رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چند باتیں پوچھی گئیں جو مزاج (اقدس) کے موافق نہ تھیں جب پوچھنے پر اصرار کیا گیا (یعنی بار بار پوچھا گیا) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہوئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا تم مجھ سے جو چاہو سوال کرو؛ ایک شخص نے پوچھا؛ میرا باپ کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارا باپ حُذافہ ہے؛ پھر ایک دوسرے شخص نے کھڑے ہوکر پوچھا؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا باپ کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارا باپ سالم ہے؛ شیبہ کا آزاد شدہ غلام؛ جب حضرت عمررضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے میں (غضب کے) آثار ہیں تو انہوں نے کہا؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؛ہم اللہ عزوجل کی طرف توبہ کرتے ہیں *(بَابُ الغَضَبِ فِي المَوْعِظَةِ وَالتَّعْلِيمِ إِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُبخاری شریف کتاب العلم ؛جلد ١ ص ٣٠؛حدیث نمبر ٩٢؛؛طرف ...

حضور ﷺ کا جنّت اور دوزخ کو دنیا میں ہی دیکھنا قبر کے فرستے بھی اتنا علم غیب رکھتے ہیں مسلمان اور منافق کے ایمان کو جانتے ہیں مگر منافق حضور ﷺ کے علم غیب کو نہیں مانتے :-

 حضور ﷺ کا جنّت اور دوزخ کو دنیا میں ہی دیکھنا قبر کے فرستے بھی اتنا علم غیب رکھتے ہیں مسلمان اور منافق کے ایمان کو جانتے ہیں مگر منافق حضور ﷺ کے علم غیب کو نہیں مانتے :-  Bukhari Shareef Hadees No# 86 حضرت اسماء(بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا) فرماتی ہیں کہ(ایک دن) میں حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس(ملاقات کو) آئی اور (دیکھا کہ) وہ اس وقت نماز پڑھ رہی تھیں (جبکہ وہ نماز کا وقت نہیں تھا تو میں نے ان سے) پوچھا(کہ یہ) لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟(یعنی یہ لوگ بے وقت نماز کیوں پڑھ رہے ہیں تو) انہوں نے (یعنی حضرت عائشہ نے) آسمان کی طرف اشارہ کیا (یعنی کیوں نماز پڑھ رہے ہیں اسکی وجہ بتائی اشارہ سے) پس اس وقت سب لوگ نماز کے قیام میں تھے؛ (پھر) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا سبحان اللہ؛(تو) میں نے پوچھا یہ کوئی نشانی ہے؟(یعنی یہ سورج کا گہن لگنا کوئی اللہ کی نشانی ہے کیا تو) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سر کے اشارے سے جواب دیا ہاں! پھر میں بھی کھڑی ہو گئی (نماز پڑھنے کے لئے) حتی کہ مجھ پر بے ہوشی چھانے لگی (وقت زیادہ ہونے کی وجہ سے) تو میں اپنے سر کے اوپر...

حضور ﷺ کی دعا اگر کسی کے نقصان کے لئے بھی ہوگی تو بد دعا نہیں دعا ہی کہہ لا یگی حضور ﷺ علم غیب سے فارس کے بادشاہ پرویز کے قتل کا وقت بھی جانتے تھے فارسی لوگ اپنے بادشاہ کو رب کہتے تھے نبی کریم ﷺ نے بھی ان کے بادشاہ کو بھی ان کا رب کہا ہیں ہر لفظ سے شرک نہیں ہوتا جب تک ویسا عقیدہ نہ ہو :-

 حضور ﷺ کی دعا اگر کسی کے نقصان کے لئے بھی ہوگی تو بد دعا نہیں دعا ہی کہہ لا یگی حضور ﷺ  علم غیب سے فارس کے بادشاہ پرویز کے قتل کا وقت بھی جانتے تھے فارسی لوگ اپنے بادشاہ کو رب کہتے تھے نبی کریم ﷺ نے بھی ان کے بادشاہ کو بھی ان کا رب کہا ہیں ہر لفظ سے شرک نہیں ہوتا جب تک ویسا عقیدہ نہ ہو :-  Bukhari Shareef Hadees No# 64 عتبہ بن مسعود کہتے ہیں کہ انکو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنا مکتوب (خط) دیکر بھیجا اور اس کو حکم دیا کہ یہ مکتوب بحرین کے امیر (بادشاہ) کو دے(جب یہ خط بحرین کے امیر تک پہنچا تو) بحرین کے امیر نے وہ مکتوب کسریٰ (فارس کے بادشاہ) کو دے دیا اس نے جب اس مکتوب کو پڑھا تو اس کو پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا؛ ابن شہاب کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ ابن المسیب رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف (یعنی فارس کے بادشاہ کے خلاف) یہ دعا ضرر کی:ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں پورے پورے ٹکڑے؛؛؛؛؛ (بخاری شریف کتاب العلم بَابُ مَا يُذْكَرُ فِي المُنَاوَلَةِ، وَكِتَابِ أَهْلِ الع...

حضور ﷺ کی ولادت سے پہلے آپ ﷺ کا مشاہدہ آیت میں دیکھنے کے الفاظ ہیں سننے کے نہیں اور حضور ﷺ کے والدین ایمان والے تھے اس لئے ان کی دعا قبول ہوی :-

 حضور ﷺ کی ولادت سے پہلے آپ ﷺ کا مشاہدہ آیت میں دیکھنے کے الفاظ ہیں سننے کے نہیں اور حضور ﷺ کے والدین ایمان والے تھے اس لئے ان کی دعا قبول ہوی :-   ترجمۂ کنز العرفان    کیا تم نے نہ دیکھا کہ تمہارے رب نے ان ہاتھی والوں کا کیا حال کیا؟ کیا اس نے ان کے مکرو فریب کو تباہی میں نہ ڈالا۔ اور ان پر فوج در فوج پرندے بھیجے۔ جو انہیں کنکر کے پتھروں سے مارتے تھے ۔ تو انہیں جانوروں کے کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کردیا۔(سورۃ الفیل آیت نمبر 1/5)  تفسیر صراط الجنان     { اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِ : کیا  تم نے نہ دیکھا کہ تمہارے رب نے ان ہاتھی والوں کا کیا  حال کیا؟} اس سورت میں   جو واقعہ بیان کیا گیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یمن اور حبشہ کے بادشاہ ابرہہ نے  جب حج کے موسم میں  لوگوں کو  بیتُ   اللّٰہ  کا حج کرنے کی تیاری کرتے ہوئے دیکھا تو اُس نے اِس غرض سے صنعاء میں   ایک کنیسہ   (عبادت خانہ)  بنایا کہ حج کرنے والے مکہ مکرمہ جانے کی بجائے یہیں   آئیں...

حضور ﷺ نے ہمیں اپنے علم غیب سے بتایا زمین تمہارے اعمال پر گواہ ہیں ہم نے مان لئے مگر جب ہم اپنے نبی ﷺ کے لئے یہ عقیدہ رکھے وہ ہمارے اعمال پر گواہ ہیں جو قرآن حدیث سے ثابت بھی پھر بھی منافق اعتراض کرتے ہیں سوچو بے جان زمین علم میں افضل ہیں یا تمام انبیاء کرام کے سردار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ؟

 حضور ﷺ نے ہمیں اپنے علم غیب سے بتایا  زمین تمہارے اعمال پر گواہ ہیں ہم نے مان لئے مگر جب ہم اپنے نبی ﷺ کے لئے یہ عقیدہ رکھے وہ ہمارے اعمال پر گواہ ہیں جو قرآن حدیث سے ثابت بھی پھر بھی منافق اعتراض کرتے ہیں سوچو بے جان زمین علم میں افضل ہیں یا تمام انبیاء کرام کے سردار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ؟   ترجمۂ کنز العرفان    اس دن وہ اپنی خبریں بتائے گی۔ اس لیے کہ تمہارے رب نے اسے حکم بھیجا۔(سورۃ الزّلزلۃ آیت نمبر  4/5)  تفسیر صراط الجنان     { یَوْمَىٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَا : اس دن  وہ اپنی خبریں   بتائے گی۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ جب یہ اُمور واقع ہوں گے تو اس دن زمین  اللّٰہ  تعالیٰ کے حکم سے مخلوق کو اپنی خبریں   بتائے گی اور جو نیکی بدی اس پر کی گئی وہ سب بیان کرے گی اور اس سے مقصود یہ ہو گا کہ زمین نافرمانوں  سے شکوہ کرسکے اور فرمانبرداروں  کا شکریہ ادا کر سکے ،چنانچہ وہ یہ کہے گی کہ’’فلاں   شخص نے مجھ پر نماز پڑھی، فلاں  نے زکوٰۃ دی ، فلاں  نے ...

اللہ‎ تعالیٰ جس سے راضی ہو وہی ولی اللہ‎ بنتا ہیں ہر ولی اور بزرگ کو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہہ سکتے ہیں ، یہ لفظ صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے ساتھ سے خاص نہیں اولیا اللہ‎ کے دشمن ہی اعتراض کرتے ہیں :-

 اللہ‎ تعالیٰ جس سے راضی ہو وہی ولی اللہ‎ بنتا ہیں ہر ولی اور بزرگ کو  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کہہ سکتے ہیں ، یہ لفظ صحابۂ کرام  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ   کے ساتھ سے خاص نہیں اولیا اللہ‎ کے دشمن ہی اعتراض کرتے ہیں :-   ترجمۂ کنز العرفان  بیشک جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے وہی تمام مخلوق میں سب سے بہتر ہیں ۔ان کا صلہ ان کے رب کے پاس بسنے کے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے ،یہ صلہ اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرے۔ *(سورت البینتہ آیت نمبر 7/8)*   تفسیر صراط الجنان  {اُولٰٓىٕكَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ: وہی تمام مخلوق میں  سب سے بہتر ہیں ۔} اس آیت سے معلوم ہوا کہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں  نے نیک عمل کئے تو وہ فرشتوں  سے بھی افضل ہیں  کیونکہ تمام مخلوق میں  فرشتے بھی داخل ہیں  البتہ اس میں  تفصیل یہ ہے کہ انسانوں  میں  سے جو حضرات نبوت و رسالت کے منصب پر فائز ہوئے وہ تمام فرشتوں...

جن جن آیات میں اللہ‎ تعالیٰ نے اپنے علم اختیار کا ذکر کیا ہیں ان آیات میں خطاب کافروں سے ہیں ردد ان کے بتوں کا ہیں بد مذہب والے قرآن کی کوئی ایک آیت ایسی نہیں بتا سکتے جس میں کسی نبی یا کسی والی نے اللہ‎ تعالیٰ کے مقابل اپنے اختیار کا دعوی کیا ہو اور اللہ‎ تعالیٰ نے ان کا ردد کیا ہو اس کے باوجود کافروں اور بتوں کی آیت سے اللّٰہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کا ردد کرنا یہ منافقوں کا کام ہیں اللّٰہ تعالیٰ کے نیک بندوں سے دین و دنیا کی بھلائیاں طلب کرنا جائز ہے:-

 جن جن آیات میں اللہ‎ تعالیٰ نے اپنے علم اختیار کا ذکر کیا ہیں ان آیات میں خطاب کافروں سے ہیں ردد ان کے بتوں کا ہیں بد مذہب والے قرآن کی کوئی ایک آیت ایسی نہیں بتا سکتے جس میں کسی نبی یا کسی والی نے اللہ‎ تعالیٰ کے مقابل اپنے اختیار کا دعوی کیا ہو اور اللہ‎ تعالیٰ نے ان کا ردد کیا ہو اس کے باوجود کافروں اور  بتوں کی آیت سے اللّٰہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کا ردد کرنا یہ منافقوں کا کام ہیں اللّٰہ تعالیٰ کے نیک بندوں  سے دین و دنیا کی بھلائیاں  طلب کرنا جائز ہے:-*   ترجمۂ کنز العرفان       *اور جب وہ ہلاکت میں پڑے گا تو اس کا مال اسے کام نہ آئے گا۔ بیشک ہدایت فرمانا ہمارے ہی ذمہ ہے۔ اور بیشک آخرت اور دنیا دونوں کے ہم ہی مالک ہیں ۔*  {وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰى  : اور بیشک آخرت اور دنیا دونوں کے ہم ہی مالک ہیں ۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ بے شک تم یہ بات جانتے ہو کہ آخرت اور دنیا دونوں کے ہم ہی مالک ہیں اور پتھروں اور دیگر چیزوں سے بنے ہوئے جن بتوں    کی تم پوجا کرتے ہو وہ نہ آخرت کے مالک ہیں  نہ دن...

ابو طالب کے سوال پر حضور ﷺ نے اپنے علم غیب سے بتایا ستارے سے شَیاطین کو مارا جاتا ہیں اس آیات سے اللہ‎ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے علم غیب کی تصدیق کی :-

 ابو طالب کے سوال پر حضور ﷺ نے اپنے علم غیب سے بتایا ستارے سے شَیاطین کو مارا جاتا ہیں اس آیات سے اللہ‎ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے علم غیب کی تصدیق کی :-     ترجمۂ کنز العرفان      آسمان کی اور رات کو آنے والے کی قسم۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ رات کو آنے والا کیا ہے؟ خوب چمکنے والا ستارا ہے۔ کوئی جان نہیں مگر اس پر نگہبان موجود ہے۔ *(سورۃ الطارق  آیت نمبر 1/4)*   تفسیر صراط الجنان       { وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِ  : آسمان کی اور رات کو آنے والے کی قسم۔} شانِ نزول : ایک رات سرکارِ دو عالَم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کی خدمت میں  ابو طالب کچھ ہدیہ لائے ،حضور پُر نور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   اس کو تَناوُل فرما رہے تھے کہ اسی دوران ایک ستارا ٹوٹا اور پوری فضا آگ سے بھر گئی۔ ابو طالب گھبرا کر کہنے لگے کہ یہ کیا ہے؟نبی کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا’’کہ یہ ستارہ ہے جس سے شَیاطین مارے جا...

حضور ﷺ نے علم غیب سے کھائی والوں کے واقعہ سے بتایا اولیا اللہ‎ کو اللہ‎ تعالیٰ شفا دینے آندھے کو ٹھیک کرنے اور بہت سے کرامات عطا فرماتا ہیں :-

 حضور ﷺ نے علم غیب سے کھائی والوں  کے  واقعہ سے بتایا اولیا اللہ‎ کو اللہ‎ تعالیٰ شفا دینے آندھے کو ٹھیک کرنے اور بہت سے کرامات عطا فرماتا ہیں :- ترجمۂ کنز العرفان    کھائی والوں پر لعنت ہو۔ بھڑکتی آ گ والے۔ جب وہ اس کے کناروں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اور وہ خود اس پر گواہ ہیں جووہ  مسلمانوں کے ساتھ کر رہے تھے۔ *(سورۃ البروج آیت نمبر 4/7)*   یہاں کھائی والوں  کا جو واقعہ ذکر کیا گیا اس کے بارے میں حضرت صہیب رومی   رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ   سے روایت ہے،نبی کریم   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا’’تم سے پہلے زمانے میں   ایک بادشاہ تھا اور اس کا ایک جادو گر تھا، جب وہ جادوگر بوڑھا ہو گیا تو اس نے بادشاہ سے کہا :اب میں   بوڑھا ہو گیا ہوں ،آپ میرے پاس ایک لڑکا بھیج دیں تاکہ میں اسے جادو سکھادوں   ۔بادشاہ نے اس کے پاس جادو سیکھنے کے لئے ایک لڑکابھیج دیا،وہ لڑکا جس راستے سے گزر کرجادو گر کے پاس جاتا اس راستے میں   ایک راہب رہتا تھا...