نماز کی حالت میں ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کی تعظیم کے لئے امامت سے پیچھے ہٹنا چاہا اور دیوبندی اسماعیل دہلوی صراط المستقیم کتاب میں لکھتا ہیں نماز میں حضور ﷺ کے خیال سے بہتر بیل گدھے اور عورت سے ہمبستری کا خیال بہتر ہیں :-
نماز کی حالت میں ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کی تعظیم کے لئے امامت سے پیچھے ہٹنا چاہا اور دیوبندی اسماعیل دہلوی صراط المستقیم کتاب میں لکھتا ہیں نماز میں حضور ﷺ کے خیال سے بہتر بیل گدھے اور عورت سے ہمبستری کا خیال بہتر ہیں :-
Bukhari Shareef Hadees No# 664
ابراہیم اسود نے کہا؛کہ؛ہم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تھے؛ پس ہم نے نماز میں دوام اور اس کی تعظیم کا ذکر کیا؛حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا؛جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کی وفات ہو گئی تھی(اس وقت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں) تو (جب) نماز کا وقت آیا اور اس کی اذان دی گئی پس آپ نے فرمایا؛ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں (کیونکہ آپ شدید بیمار تھے اور چل نہیں سکتے تھے اس سبب تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے(گھر والوں نے)کہا گیا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ بہت رقیق القلب ہیں وہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے (لیکن) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دوبارہ فرمایا؛ (کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو دوبارہ) گھر والوں نے پھر یہی کہا (کہ وہ رقیق القلب ہیں وہ آپ کی جگہ کھڑے ہو کر لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے تو) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار فرمایا (کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھایئں)(پھر فرمایا) تم حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ کی عورتوں (کی مثل) ہو ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں (تب جاکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تک پہنچایا گیا) پس ابو بکر رضی اللہ عنہ نکلے اور (لوگوں کو) نماز پڑھائی (اتنے میں) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طبیعت میں کچھ افاقہ محسوس کیا تو آپ دو آدمیوں کے درمیان گھسٹتے ہوئے نکلے ( وہ دو آدمی حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے بخاری کی حدیث نمبر ٦٦٥ میں اسکا ذکر ہے۔) تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ گویا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروں کو دیکھ رہی تھی درد کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھسٹ کر چل رہے تھے اور زمین پر نشان پڑ رہے تھے (تو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آتے دیکھا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تو) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ اپنی جگہ میں رہو (اور نماز پڑھاتے رہو) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لایا گیا (امامت کی جگہ کے قریب) حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے الاعمش سے کہا گیا؛اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے؟ انہوں نے سر کے اشارے سے کہا ہاں! (یعنی اب نماز کی کیفیت یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کر رہے تھے اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی اقتدا باقی صحابہ کرام کر رہے تھے) پھر امام بخاری فرماتے ہیں کہ؛اس حدیث کے بعض حصہ کو ابو داؤد نے از شعبہ از اعمش روایت کیا ہے اور ابو معاویہ نے یہ اضافہ کیا ہیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بائیں جانب بیٹھ گئے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے نماز پڑھا رہے تھے؛ *(بخاری شریف کتاب الاذان بَابٌ: حَدُّ المَرِيضِ أَنْ يَشْهَدَ الجَمَاعَةَ؛یعنی جماعت میں حاضر ہونے کے لیے مریض کی حد؛جلد ١ ص ١٣٣؛حدیث نمبر ٦٦٤؛)*
Kind(Sahih Hadees)
Bukhari Shareef Kitabul Ajaan Hadees No# 664
Sent from TrueIslam App!
Comments
Post a Comment