Posts

Showing posts from March, 2021

جو آیات کافروں کے سوال کے جواب نہ دینے کے لئے ہو وہ آیت حضور ﷺ کے علم غیب کے انکار کی دلیل کیسے ہوگی اس آیت میں ذاتی علم غیب کی نفی ہیں خود سے جاننے کی حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کرنے والے کیا قرآن کی دوسری آیات پر ایمان نہیں رکھتے :-

جو آیات کافروں کے سوال کے جواب نہ دینے کے لئے ہو وہ آیت حضور ﷺ کے علم غیب کے انکار کی دلیل کیسے ہوگی اس آیت میں ذاتی علم غیب کی نفی ہیں خود سے جاننے کی حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کرنے والے کیا قرآن کی دوسری آیات پر ایمان نہیں رکھتے :-  ترجمۂ کنز العرفان      تم فرماؤ: الله کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب نہیں جانتا اور لوگ نہیں جانتے کہ انہیں کب اُٹھایا جائے گا؟(سورۃ النمل آیت نمبر 60) تفسیر صراط الجنان      {  قُلْ  : تم فرماؤ۔}   اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ مشرکین نے رسولِ کریم     صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے قیامت کے  آنے کا وقت دریافت کیا تھا،ان کے بارے میں  یہ آیت نازل ہوئی اور آیت کا معنی یہ ہے کہ صرف  اللہ تعالیٰ ہی غیب جانتاہے، اس کے علاوہ اور کوئی غیب نہیں جانتا اور قیامت قائم ہونے کا وقت بھی اسے ہی معلوم ہے اور آسمانوں  میں  جتنے فرشتے ہیں  اور زمین میں    جتنے انسان ہیں  وہ نہیں  جانتے کہ انہیں  دوبارہ کب اٹھایا...

*’’ دَآبَّةُ الْاَرْض ‘‘ کا تعارف وہ ایک ایسا جانور ہوگا جو مومن اور کافر دونوں کے دل کے ایمان کو بھی جانتا ہوں ہوگا انبیاء کرام بھی لوگوں کے دلوں کے ایمان کو جانتے ہیں :-

*’’ دَآبَّةُ الْاَرْض ‘‘ کا تعارف وہ ایک ایسا جانور ہوگا جو مومن اور کافر دونوں کے دل کے ایمان کو بھی جانتا ہوں ہوگا انبیاء کرام بھی لوگوں کے دلوں کے ایمان کو جانتے ہیں :-  ترجمۂ کنز العرفان      اور جب ان پر با ت آپڑے گی توہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو لوگوں سے کلام کرے گا اس لیے کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہ کرتے تھے۔(سورۃ النمل آیت نمبر 82)  تفسیر صراط الجنان      { وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ : اور جب ان پر با ت آپڑے گی۔} مفسرین نے ’’بات  آپڑنے‘‘ کے مختلف معنی بیان کئے ہیں۔ ( 1 ) جب کفارپر عذاب آناواجب ہوجائے گا۔ ( 2 ) جب ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب (کا وقوع لازم) ہوجائے گا۔ ( 3 ) جب ان پر حجت پوری ہو جائے گی۔یہ اس وقت ہو گا جب لوگ نیک کاموں کی دعوت دینا اور برے کاموں سے منع کرنا ترک کردیں گے۔بعض مفسرین کے نزدیک یہ اس وقت ہو گا جب کفار کی اصلاح کی کوئی امید باقی نہ رہے گی اور یہ امید قیامت قائم ہونے سے پہلے آخری زمانے میں ختم ہوگی۔ (خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۸۲ ، ۳ / ۴۱۹)   ابو البر...

حضور ﷺ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تخلیق سے پہلے بھی نبی تھے جن کا یہ عقیدہ ہے 40 سال کی عمر میں نبوت ملی وہ اپنی جہالت میں گمراہ ہیں :-

حضور ﷺ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تخلیق سے پہلے بھی نبی تھے جن کا یہ عقیدہ ہے 40 سال کی عمر میں نبوت ملی وہ اپنی جہالت میں گمراہ ہیں :-  ترجمۂ کنز العرفان          اور تم امید نہ رکھتے تھے کہ تمہاری طرف کوئی کتاب بھیجی جائے گی لیکن تمہارے رب کی طرف سے رحمت ہے تو تم ہرگز کافروں کا مددگار نہ ہونا۔(سورۃ القصص آیت نمبر 83)   تفسیر صراط الجنان          { وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ : اور تم امید نہ رکھتے تھے کہ تمہاری طرف کوئی کتاب بھیجی جائے گی۔} ممکن ہے کہ اس آیت کا ظاہری معنی مراد ہو،اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ اے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے علاوہ کسی اور سبب سے قرآن مجید ملنے کی امید نہ رکھتے تھے، اور جب اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے آپ کی طرف قرآن مجید نازل فرمایا ہے تو آپ پہلے کی طرح اب بھی کافروں کے مددگار نہ ہونے پر قائم رہیں ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہاں بظاہر خطاب حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی ...

جنہوں نے اولیاء اللہ کو اپنا دشمن بنالیا وہ سمجھتے جن آیات سے کافروں کے بتوں کا ردد ہوا وہاں اولیاء اللہ مراد ہیں قرآن کے نزول کے وقت صحابہ ہی اولیاء اللہ تھے گویا قرآن صحابہ کے ردد میں نازل ہوا ہیں :-

جنہوں نے اولیاء اللہ کو اپنا دشمن بنالیا وہ سمجھتے جن آیات سے کافروں کے بتوں کا ردد ہوا وہاں اولیاء اللہ مراد ہیں قرآن کے نزول کے وقت صحابہ ہی اولیاء اللہ تھے گویا قرآن صحابہ کے ردد میں نازل ہوا ہیں :-   ترجمۂ کنز العرفان      جنہوں نے الله کے سوا اورمددگاربنارکھے ہیں ان کی مثال مکڑی کی طرح ہے،جس نے گھر بنایا اور بیشک سب گھروں میں کمزور گھر مکڑی کا گھرہوتا ہے۔کیا اچھا ہوتا اگر وہ جانتے۔(سورۃ العنکبوت آیت نمبر 41)  تفسیر صراط الجنان      {  مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ  : جنہوں    نے   اللہ کے سوا اورمددگار بنارکھے ہیں  ان کی مثال۔}   یعنی وہ لوگ جنہوں نے  اللہ تعالیٰ کو واحد معبود ماننے کی بجائے بتوں  کو معبود بنا رکھا ہے اور ان کے ساتھ امیدیں  وابستہ کی  ہوئی ہیں  اور در حقیقت ان بتوں کے عاجز اور بے اختیار ہونے کی مثال مکڑی کی طرح ہے جس نے اپنے رہنے کے لئے جالے سے گھر بنایا جو کہ انتہائی کمزور ہے اور یہ گھر نہ اس سے گرمی دور کر سکتا ہے نہ سردی ...

حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا قرآن کی آیت سے علم غیب کے ذریعے سے 9 سال کے اندر رومی کی قاميابی کی شرط لگانا اس کی بنیاد آیت میں چند سالوں کا ذکر ہیں چند سال کی زیادہ سے زیادہ مدت 9 سال ہوتی ہیں :-

حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا قرآن کی آیت سے علم غیب کے ذریعے سے 9 سال کے اندر رومی کی قاميابی کی شرط لگانا اس کی بنیاد آیت میں چند سالوں کا ذکر ہیں چند سال کی زیادہ سے زیادہ مدت 9 سال ہوتی ہیں :-  ترجمۂ کنز العرفان      الم۔ رومی مغلوب ہوگئے۔قریب کی زمین میں اور وہ اپنی شکست کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔ چند سالوں میں ۔ پہلے اور بعد حکم الله ہی کا ہے اور اس دن ایمان والے خوش ہوں گے۔ الله کی مدد سے۔وہ جس کی چاہے مدد کرتا ہے اور وہی غالب، مہربان ہے۔(الروم آیت نمبر 1/5)  تفسیر صراط الجنان      { الٓمّٓ } یہ حروفِ مُقَطَّعات میں سے ایک حرف ہے ،اس کی مراد اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔   { غُلِبَتْ : مغلوب ہوگئے۔} شانِ نزول : ایران اور روم کے درمیان جنگ جاری تھی اورچونکہ ایران کے رہنے والے مجوسی تھے، اس لئے عرب کے مشرکین اُن کا غلبہ پسند کرتے تھے جبکہ رومی اہلِ کتاب تھے، اس لئے مسلمانوں کو اُن کا غلبہ اچھا معلوم ہوتا تھا۔ایک مرتبہ ایران کے بادشاہ خسرو پرویز نے رومیوں سے جنگ کرنے کے لئے اپنا لشکر بھیجا تو رو ...

جن آیت کے نزول کا مقصد کافروں کے سوال کا جواب نہ دینا ہو ان آیت سے انبیاء کرام اولیاء اللہ کا ردد کرنے والے صرف انکار کی آیات پر ایمان رکھتے جن آیات حدیث میں علم غیب کا اظہار ہیں ان آیات کو نہ ماننا ان کا کفر ہیں انکار کی آیت ہی ان کی آخری دلیل ہیں چائے اس آیت کے بعد کتنی ہی آیت علم غیب کے لئے نازل ہوی ہو :-

جن آیت کے نزول کا مقصد کافروں کے سوال کا جواب نہ دینا ہو ان آیت سے انبیاء کرام اولیاء اللہ کا ردد کرنے والے صرف انکار کی آیات پر ایمان رکھتے جن آیات حدیث میں علم غیب کا اظہار ہیں ان آیات کو نہ ماننا ان کا کفر ہیں انکار کی آیت ہی ان کی آخری دلیل ہیں چائے اس آیت کے بعد کتنی ہی آیت علم غیب کے لئے نازل ہوی ہو :-  ترجمۂ کنز العرفان        بیشک قیامت کا علم الله ہی کے پاس ہے اور وہ بارش اتارتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ بیشک الله علم والا، خبردار ہے۔(سورۃ لقمان آیت نمبر 34)  تفسیر صراط الجنان        {اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ : بیشک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔} شانِ نزول : یہ آیت حارث بن عمرو کے بارے میں نازل ہوئی جس نے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو کر قیامت کا وقت دریافت کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ میں نے کھیتی بوئی ہے، مجھے خبر دیجئے کہ بارش کب آئے گی ؟اور میر...

حضور ﷺ آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تخلیق کا وقت اور دن بھی جانتے ہیں اور صحابی کی موت کا وقت بھی مگر ایمان نہ لانے والے علم غیب کو نہیں مانتے :-

حضور ﷺ آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام کی تخلیق کا وقت اور دن بھی جانتے ہیں اور صحابی کی موت کا وقت بھی مگر ایمان نہ لانے والے علم غیب کو نہیں مانتے :- چنانچہ حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں  ،حضور ِاقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے میرا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا: ’’  اللہ  تعالیٰ نے زمین کو ہفتہ کے دن پیدا فرمایا اور اتوار کے دن زمین میں  پہاڑوں  کو پیدا کیا اور پیر کے دن درختوں  کو پیدا کیا اور منگل کے دن ناپسندیدہ چیزوں  کو پیدا کیا اور بدھ کے دن نور کو پیدا کیا اور جمعرات کے دن زمین پر چلنے والے جانداروں  کو پیدا کیا اور تمام مخلوق کے آخر میں  حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  کو جمعہ کے دن، اس کی ساعات میں  سے آخری ساعت میں ، عصر کے بعد سے رات کے وقت کے درمیان پیدا کیا۔(مسلم،کتاب صفۃ القیامۃ والجنّۃ والنار،باب ابتداء الخلق وخلق آدم علیہ السلام ، ص۱۵۰۰ ، الحدیث:     ۲۷(۲۷۸۹) )  حضرت خزرج رَضِیَ اللہ تَعَالٰی...

صحابہ کس طرح حضور ﷺ کے علم غیب پر ایمان رکھتے تھے اور حضور ﷺ کے علم غیب کو اللہ تعالی کا ہی علم سمجھتے تھے پہلے حضور ﷺ نے علم غیب کا اظہار کیا اس کے بعد اللہ تعالی نے قرآن کی آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کی تصدیق کی :-

صحابہ کس طرح حضور ﷺ کے علم غیب پر ایمان رکھتے تھے اور حضور ﷺ کے علم غیب کو اللہ تعالی کا ہی علم سمجھتے تھے پہلے حضور ﷺ نے علم غیب کا اظہار کیا اس کے بعد اللہ تعالی نے قرآن کی آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کی تصدیق کی :- ترجمۂ کنز العرفان        اور جب مسلمانوں نے لشکر دیکھے تو کہنے لگے:یہ وہ ہے جس کا ہمیں الله اور اس کے رسول نے وعدہ دیا تھا اور الله اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا اور اس بات نے ان کے ایمان اور الله کی رضا پر راضی ہونے کو اور زیادہ کردیا۔(سورۃ الاحزاب آیت نمبر 22)  تفسیر صراط الجنان اور حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے اصحاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے ارشاد فرمایا: ’’ آئندہ نو یا دس راتوں میں لشکر تمہاری طرف آنے والے ہیں ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ اس مدت کے پورا ہونے پر لشکرآ گئے تو کہا: یہ ہے وہ جس کا ہمیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے وعدہ دیا تھا۔‘‘ اور اس کے تمام وعدے سچے ہیں ، سب...

حضور ﷺ ماحی اور حاشر ہیں کفر کو مٹانے والے حشر کے دن مومنوں کو اپنے قدموں میں پنہاں دینے والے ہیں انبیاء کرام ایمان جنت کے سبب وسیلہ ہوتے ہیں :-

حضور ﷺ ماحی اور حاشر ہیں کفر کو مٹانے والے حشر کے دن مومنوں کو اپنے قدموں میں پنہاں دینے والے ہیں انبیاء کرام ایمان جنت کے سبب وسیلہ ہوتے ہیں :- (1)حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میری مثال اورمجھ سے پہلے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے بہت حسین وجمیل ایک گھر بنایا،مگر اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ، لوگ اس کے گرد گھومنے لگے اورتعجب سے یہ کہنے لگے کہ اس نے یہ اینٹ کیوں نہ رکھی ؟پھرآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا میں (قصر ِنبوت کی) وہ اینٹ ہوں اورمیں خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ہوں۔ (مسلم، کتاب الفضائل، باب ذکر کونہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم النبیین، ص ۱۲۵۵، الحدیث: ۲۲(۲۲۸۶))         (2) حضرت ثوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے میرے لیے تمام...

حضور ﷺ نے علم غیب سے خلافت ِراشدہ کی مدت بھی بتا دیں عقل والوں کے لیے تو اس میں چاروں خلیفہ کی زندگی اور موت کی حد بھی ہیں :-

حضور ﷺ نے  علم غیب سے خلافت ِراشدہ کی مدت  بھی بتا دیں عقل والوں کے لیے تو اس میں چاروں خلیفہ کی زندگی اور موت کی حد بھی ہیں :-  ترجمۂ کنز العرفان          اللہ نے تم میں سے ایمان والوں اور اچھے اعمال کرنے والوں سے وعدہ فرمایا ہے کہ ضرورضرور انہیں زمین میں خلافت دے گا جیسی ان سے پہلوں کوخلافت دی ہے اور ضرورضرور اِن کے لیے اِن کے اُس دین کو جما دے گا جو ان کے لیے پسند فرمایا ہے اور ضرور ضرور ان کے خوف کے بعد ان( کی حالت)کو امن سے بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے، میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے اور جو اس کے بعد ناشکری کرے تو وہی لوگ نافرمان ہیں۔(سورۃ النور آیت نمبر 55) علامہ علی بن محمد خازن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں :اس آیت میں  حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ اور آپ کے بعد ہونے والے خلفائِ راشدین  رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی خلافت کی دلیل ہے کیونکہ ان کے زمانے میں  عظیم فتوحات ہوئیں  اور کسریٰ وغیرہ بادشاہوں  کے خزانے مسلمانوں  کے قبضہ میں  آئے اور...