جو آیات کافروں کے سوال کے جواب نہ دینے کے لئے ہو وہ آیت حضور ﷺ کے علم غیب کے انکار کی دلیل کیسے ہوگی اس آیت میں ذاتی علم غیب کی نفی ہیں خود سے جاننے کی حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کرنے والے کیا قرآن کی دوسری آیات پر ایمان نہیں رکھتے :-
جو آیات کافروں کے سوال کے جواب نہ دینے کے لئے ہو وہ آیت حضور ﷺ کے علم غیب کے انکار کی دلیل کیسے ہوگی اس آیت میں ذاتی علم غیب کی نفی ہیں خود سے جاننے کی حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کرنے والے کیا قرآن کی دوسری آیات پر ایمان نہیں رکھتے :- ترجمۂ کنز العرفان تم فرماؤ: الله کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب نہیں جانتا اور لوگ نہیں جانتے کہ انہیں کب اُٹھایا جائے گا؟(سورۃ النمل آیت نمبر 60) تفسیر صراط الجنان { قُلْ : تم فرماؤ۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ مشرکین نے رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے قیامت کے آنے کا وقت دریافت کیا تھا،ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور آیت کا معنی یہ ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی غیب جانتاہے، اس کے علاوہ اور کوئی غیب نہیں جانتا اور قیامت قائم ہونے کا وقت بھی اسے ہی معلوم ہے اور آسمانوں میں جتنے فرشتے ہیں اور زمین میں جتنے انسان ہیں وہ نہیں جانتے کہ انہیں دوبارہ کب اٹھایا...