Posts

Showing posts from July, 2022

انبیاء کرام علیہ السلام اگر دنیاوی تدبیر کو اختیار کرے تو نا سمجھ لوگ ان کے علم غیب پر اعتراض کرتے ہیں مگر اللہ تعالی نے یعقوب علیہ السلام کی تدبیر ناکام ہونے کے باوجود انہیں صاحب علم کہاں ہے :-

انبیاء کرام علیہ السلام اگر دنیاوی تدبیر کو اختیار کرے تو نا سمجھ لوگ ان کے علم غیب پر اعتراض کرتے ہیں مگر اللہ تعالی نے یعقوب علیہ السلام کی تدبیر ناکام ہونے کے باوجود انہیں صاحب علم کہاں ہے :-  ترجمۂ کنز الایمان اور جب وہ داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے حکم دیا تھا وہ کچھ انہیں اللہ سے بچا نہ سکتا ہاں یعقوب کے جی کی ایک خواہش تھی جو اس نے پوری کرلی اور بیشک وہ صاحبِ علم ہے ہمارے سکھائے سے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔( سورۃ یوسف آیت نمبر 68)  تفسیر صراط الجنان {وَ لَمَّا دَخَلُوْا:اور جب وہ داخل ہوئے۔} آیت کا معنی یہ ہے کہ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بیٹوں کا مختلف دروازوں سے شہر میں داخل ہونا ان سے وہ چیز دور نہیں کرسکتا جو اللّٰہ تعالیٰ نے ان کے لئے مقدر فرما دی ہے، اللّٰہ تعالیٰ کی تقدیر کو دیکھا جائے تو ان کا ایک ہی دروازے سے داخل ہونا یا مختلف دروازوں سے داخل ہونا دونوں برابر ہے، ان کا مختلف دروازوں سے جانا اگرچہ اللّٰہ تعالیٰ کی تقدیر کو نہیں ٹال سکتا لیکن بد نظری سے بچنے کی یہ تدبیر اختیار کرنا حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دل کی ...

حضرت یوسف علیہ السلام کا علم غیب اور اختیار جس کی موت کی خبر دی اس کی موت لازمی ہوگیی :-

حضرت یوسف علیہ السلام کا علم غیب اور اختیار جس کی موت کی خبر دی اس کی موت لازمی ہوگیی :-  ترجمۂ کنز الایمان اے قید خانہ کے دونوں ساتھیو تم میں ایک تو اپنے رب (بادشاہ)کو شراب پلائے گا رہا دوسرا وہ سُولی دیا جائے گا تو پرندے اس کا سر کھائیں گے حکم ہوچکا اس بات کا جس کا تم سوال کرتے تھے۔( سورۃ یوسف آیت نمبر 41)  تفسیر صراط الجنان {یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ:اے قید خانے کے دونوں ساتھیو!۔} جب حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرنے اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی دعوت دینے سے فارغ ہوئے تو ان کے خواب کی تعبیر بیان فرمائی چنانچہ فرمایا کہ اے قید خانے کے دونوں ساتھیو! تم میں ایک یعنی بادشاہ کوشراب پلانے والا تو اپنے عہدے پر بحال کیا جائے گا اور پہلے کی طرح بادشاہ کو شراب پلائے گا اور تین خوشے جو خواب میں بیان کئے گئے ہیں اس سے مراد تین دن ہیں ، وہ اتنے ہی دن قید خانے میں رہے گا پھر بادشاہ اس کو بلالے گا اور جہاں تک دوسرے یعنی کچن کے انچارج کا تعلق ہے تو اسے سولی دی جائے گی پھر پرندے اس کا سر کھالیں گے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَال...

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-  ترجمۂ کنز الایمان وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَؕ-قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَؕ-اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ(23) اور وہ جس عورت کے گھر میں تھا اس نے اسے لبھایا کہ اپنا آپا نہ روکے اور دروازے سب بند کردئیے اور بولی آؤ تمہیں سے کہتی ہوں کہا اللہ کی پناہ وہ عزیز تو میرا رب یعنی پرورش کرنے والا ہے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا بیشک ظالموں کا بھلا نہیں ہوتا۔( سورۃ یوسف آیت نمبر 23)  تفسیر صراط الجنان {هُوَ فِیْ بَیْتِهَا:وہ جس عورت کے گھر میں تھے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی انتہائی پاکدامنی بیان فرمائی ہے، آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام انتہائی حسین و جمیل تھے، جب زلیخا نے آپ عَلَیْہِ...