Posts

Showing posts from April, 2020

Shirk Kise Kehte Hai? Shirk Ki Sirf 3 Qisme Hai

Shirk Kise Kehte Hai? Shirk Ki Sirf 3 Qisme Hai 1- Shirk Fizzaat :-- 1 Se Zayaada Khuda Maanna Ya Kisi Ko Khuda Ke Jaisa Maanna Jaise Majoosi 2 Khuda Maante Hai Ek Khaaliq e Sharr Aur Doosra Khaaliq e Khair Aur Mushrikeen To Caroro Khuda Maante Hai. Ma'az Allah Summa Ma'az Allah 2- Shirk Fissifaat :-- Khuda Keliye Beta, Beti Aur Biwi Maanna Jaise Isaayio Ne Hazrate Isa Alaihissalaam Ko Allah Ka Beta Maana Aur Hazrate Mariyam Radiallahu Anha Ko Allah Ki Biwi Maana Ma'az Allah Summa Ma'az Allah 3- Shirk Fil Afa'al :-- Khuda Keliye Madadgaar Maanna Jaise Mushrikeen Ka Aqeeda Tha Ke Baarish Barsaana Aasmaan Ke Khuda Ka Kaam Hai Lekin Zameen Se Darakht, Phal, Phool Ugaana Zameen Ke Khuda Ka Kaam Hai, Jab Tak Partnership Baraabar Nahi Chalti Tab Tak Na Barish Ho Sakti Hai Na Zameen Se Kuchh Ugaaya Ja Sakta Hai_ Ma'az Allah Summa Ma'az Allah Yeh 3 Shirk Ki Qismo Ke Alaawa Na Koi 4thi Qism Hai Na Koi 5vi Qism Hai Kyunke Qura'an Aur Hadees Me Sirf...

اہلے حدیث منافق یارسول اللہ ﷺ کہنے پر اعترض کرتے ہیں وہ قرآن کی اس آیت کو بھی نہیں مانتے ہی زبان سے خود کو مسلمان کہتے ہیں مگر کفر میں دوڑے جاتے ہیں

اہلے حدیث منافق یارسول اللہ  ﷺ کہنے پر اعترض کرتے ہیں وہ قرآن کی اس آیت کو بھی نہیں مانتے ہی زبان سے خود کو مسلمان کہتے ہیں مگر کفر میں دوڑے جاتے ہیں :-* یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْۚۛ-وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْاۚۛ-سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَۙ-لَمْ یَاْتُوْكَؕ- یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖۚ -یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْاؕ-وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْــٴًـاؕ -اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْؕ-لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ ۚۖ-وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۴۱)  ترجمۂ کنز العرفان        اے رسول! جو کفر میں دوڑے جاتے ہیں تمہیں غمگین نہ کریں (یہ وہ ہیں ) جو اپنے منہ سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے حالانکہ ان کے دل مسلمان نہیں اور کچھ یہود...

شَعَآىٕرَ اللّٰه وہ نشانی جس کو اللہ‎ والوں سے نصبت ہو اگر کسی جانور کو اللہ‎ والوں سے نصبت ہوجاے تو وہ حرام کیسے ہوجاےگا حرام تو تب ہوگا جب جانور کو اللہ‎ والوں کے نام سے ذبح کیا جائے جو ایسے جانور پر حرام اور شرک کا فتویٰ دے وہ خود جانور ہیں جو عقل نہیں رکھتے یا پھر وہ لوگوں کی نیت کا علم رکھتا ہیں

شَعَآىٕرَ اللّٰه وہ نشانی جس کو اللہ‎ والوں سے نصبت ہو اگر کسی جانور کو اللہ‎ والوں سے نصبت ہوجاے تو وہ حرام کیسے ہوجاےگا حرام تو تب ہوگا جب جانور کو اللہ‎ والوں کے نام سے ذبح کیا جائے جو ایسے جانور پر حرام اور شرک کا فتویٰ دے وہ خود جانور ہیں  جو عقل نہیں رکھتے  یا پھر وہ لوگوں کی نیت کا علم رکھتا ہیں :-*    ترجمۂ کنز العرفان    اے ایمان والو! تمام عہد پورے کیا کرو۔ تمہارے لئے چوپائے جانور حلال کردیے گئے سوائے ان کے جو (آگے) تمہارے سامنے بیان کئے جائیں گے لیکن احرام کی حالت میں شکار حلال نہ سمجھو۔ بیشک اللہ جو چاہتا ہے حکم فرماتا ہے۔ *(سورۃ المائدہ آیت نمبر 1)*  تفسیر صراط الجنان      (1)  حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   نے فرمایا کہ ان عقود یعنی عہدوں سے مراد ایمان اور وہ عہد ہیں جو حرام و حلال کے متعلق قرآنِ پاک میں لئے گئے۔    { اُحِلَّتْ لَكُمْ : تمہارے لئے حلال کردئیے گئے۔} یہاں سے حلال جانوروں کابیان کیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا کہ جن کی حرمت شریعت میں بیان ہوئی ہے ان کے سوا تما...

حضور ﷺ کا علم غیب حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی موت بیماری سے نہیں ہوگی :-

حضور ﷺ کا علم غیب حضرت جابر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی موت بیماری سے نہیں ہوگی :-  تفسیر صراط الجنان            { یَسْتَفْتُوْنَكَ : تم سے فتویٰ پوچھتے ہیں۔}      آیتِ مبارکہ میں  کَلَالَہ کی وراثت کا بیان کیا گیا ہے۔  کَلَالَہ  اس کو کہتے ہیں جو اپنے بعد نہ باپ چھوڑے، نہ اولاد۔ اس آیت کے شانِ نزول کے متعلق بخاری و مسلم میں ہے کہ حضرت جابر بن  عبداللہ      رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  بیمار تھے تو سرکارِ مدینہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ            حضرت صدیق اکبر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ      کے ساتھ ان کی عیاد ت کے لئے تشریف لائے، حضرت جابر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ           بے ہوش تھے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے وضو فرما کر اس کا پانی اُن پر ڈالا توانہیں اِفاقہ ہوا          (آنکھ کھول کر د...

Jumma mubarak saheri mubarak ramzan mubarak aache din ki mubarak dena mustahab Amal he

*Jumma mubarak saheri mubarak ramzan mubarak aache din ki mubarak dena mustahab Amal he*  aap ke liye ye sab din aacha ho ye bhi dua he or dua ke liye kisi waqat or din ki pabandi nahi he hadees me zikar he jis ko Allah rasool  ﷺ haram kaha us ki siwa sab jaiyaz he  kisi din ki mubarak baad ko biddat kahna ya us per ittraz karna dewbandi wahabhi Ahle hadees biddati jammat ka kaam he ye log apni jihalat me khud gumraha he kisi amal per ittraz ke liye quran hadees ki dalil ki jarorat hoti he jo ye kahe jis kaam ko Allah rasool ne nahi kiya he ye jahilo ka usool he deen me sirf wahi usool qabol kiya jata he jo quran hadees me mawjood he apni taraf se koi usool bana ye sirf nabi ka kaam he ittraz karne walo ke quran hadees se 4 dalil post ke sath he وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ (۱۱۶)مَتَاعٌ قَلِیْلٌ۪-وَّ ...

بڑی جماعت حق جماعت ہونے کی دلیل ہیں مذہب اہلِ سنت و جماعت ہے کیونکہ یہی مسلمانوں کی اکثریت کا ہے اور یہی بڑی جماعت ہے۔ مسلمانوں کا اجماع حجت اور دلیل ہے جو مسلمانوں کی بڑی جماعت سے جدا ہوا وہ جہنم میں گرا۔:

 *بڑی جماعت حق جماعت ہونے کی دلیل ہیں مذہب اہلِ سنت و جماعت ہے کیونکہ یہی مسلمانوں کی اکثریت کا ہے اور یہی بڑی جماعت ہے۔ مسلمانوں کا اجماع حجت اور دلیل ہے جو مسلمانوں کی بڑی جماعت سے جدا ہوا وہ جہنم میں گرا۔:-* ترجمۂ کنز العرفان      اور جو اس کے بعد کہ اس کے لئے ہدایت بالکل واضح ہوچکی رسول کی مخالفت کرے اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے تو ہم اسے ادھر ہی پھیر دیں گے جدھر وہ پھرتا ہے اور اسے جہنم میں داخل کریں گے اور وہ کتنی بری لوٹنے کی جگہ ہے۔ *(سورۃ النساء آیت نمبر 115)*  تفسیر صراط الجنان        { وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ  : اور جو رسول کی مخالفت کرے۔}  اس آیت میں دو چیزوں سے منع کیا گیاہے جو حقیقت میں ایک ہیں۔ پہلی چیز کہ رسول  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی مخالفت جائز نہیں اور دوسری بات کہ مسلمانوں کے راستے سے ہٹ کر چلنا جائز نہیں کیونکہ مسلمانوں کا راستہ اطاعت ِ رسول کا راستہ ہے تو اس سے ہٹنا اطاعتِ رسول سے ہٹنا ہوگا۔          یہ آیت اس بات کی دلیل ہے ک...

جس نے حضور ﷺ کے علم غیب پر اعترض کیا اس نے اللہ‎ تعالیٰ کے سکھانے پر اعترض کیا نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے علمِ غیب سے متعلق چند ضروری باتیں

*جس نے حضور ﷺ کے علم غیب پر اعترض کیا اس نے اللہ‎ تعالیٰ کے سکھانے پر اعترض کیا نبی اکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے علمِ غیب سے متعلق چند ضروری باتیں :  ترجمۂ کنز العرفان            اور اے حبیب! اگر تمہارے اوپراللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ان میں ایک گروہ نے آپ کو (صحیح فیصلہ کرنے سے) ہٹانے کا ارادہ کیا تھا حالانکہ وہ اپنے آپ ہی کو گمراہ کررہے تھے اور آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور آپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو آپ نہ جانتے تھے اور آپ پر اللہ کا فضل بہت بڑا ہے۔ *(سورۃ النساء آیت نمبر 113)*  تفسیر صراط الجنان                  { وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ  : اور تمہیں وہ سب کچھ سکھادیا جو تم نہ جانتے تھے۔}   یہ آیتِ مبارکہ حضورِ اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ  کی عظیم مدح پر مشتمل ہے۔  اللہ  عَزَّوَجَلَّ  نے فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی ...

فرض نماز کے بعد بلند آواز سے اللہ‎ تعالیٰ کا ذکر کرنا

فرض نماز کے بعد بلند آواز سے اللہ‎ تعالیٰ کا ذکر کرنا :-*   ترجمۂ کنز العرفان          پھر جب تم نماز پڑھ لوتو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پر لیٹے اللہ کو یاد کرو پھر جب تم مطمئن ہو جاؤ توحسب ِ معمول نماز قائم کرو بیشک نماز مسلمانوں پر مقررہ وقت میں فرض ہے۔ *(سورۃ النساء آیت نمبر 103)*  تفسیر صراط الجنان            {فَاذْكُرُوا اللّٰهَ : تو اللہ کو یاد کرو۔}  یعنی ذکرِ الٰہی کی ہر حال میں ہمیشگی کرو اور کسی حال میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر سے غافل نہ رہو۔ حضرت عبداللہ بن عباس            رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر فرض کی ایک حد معیَّن فرمائی سوائے ذکر کے کہ اس کی کوئی حد نہ رکھی بلکہ فرمایا کہ ذکر کرو کھڑے بیٹھے کروٹوں پر لیٹے، رات میں ہو یا دن میں ،خشکی میں ہو یا تری میں ،سفر میں اور حضر میں ، غناء میں اور فقر میں ، تندرستی اور بیماری میں پوشیدہ اور ظاہر۔ *( تفسیر طبری، النساء، تحت الآیۃ: ۱۰۳ ، ۴ / ۲۶۰)*             ...

سفر میں دو نمازوں کو جمع کرنے کا شرعی حکم:-*

سفر میں دو نمازوں کو جمع کرنے کا شرعی حکم:-* ترجمۂ کنز العرفان          پھر جب تم نماز پڑھ لوتو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پر لیٹے اللہ کو یاد کرو پھر جب تم مطمئن ہو جاؤ توحسب ِ معمول نماز قائم کرو بیشک نماز مسلمانوں پر مقررہ وقت میں فرض ہے۔ *(سورۃ النساء آیت نمبر 103)* {كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا : مقررہ وقت پر فرض ہے۔} نماز کے اوقات مقرر ہیں لہٰذا لازم ہے کہ ان اوقات کی رعایت کی جائے۔              اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سفر میں دو نمازیں جمع نہیں ہو سکتیں۔ احادیث میں بھی سفر کے دوران دو نمازوں کو جمع کرنے کی نفی کی گئی ہے ،چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں ’’میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کبھی کوئی نماز اس کے غیر وقت میں پڑھی ہو مگر دو نمازیں کہ ایک ان میں سے نمازِمغرب ہے جسے  مُزدلفہ میں عشاء کے وقت پڑھا تھا اور وہاں فجر بھی روز کے معمولی وقت سے پہلے تاریکی میں پڑھی تھی۔ *( مسلم، کتاب الحج، باب استحباب زیادۃ التغلیس بص...

دیوبندی فرقے میں اللہ‎ تعالیٰ کے لئے جھوٹ بولنا ممکن ہیں حوالہ ویڈیو لنک میں ہیں

 *دیوبندی فرقے میں اللہ‎ تعالیٰ کے لئے جھوٹ بولنا ممکن ہیں حوالہ ویڈیو لنک میں ہیں :- اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَؕ-لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِؕ-وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ (۸۷)  *ترجمۂ کنز العرفان*            اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور وہ ضرور تمہیں قیامت کے دن اکٹھا کرے گا جس میں کوئی شک نہیں اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی۔  تفسیر صراط الجنان              { وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا :اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی۔} ارشاد فرمایا کہ اللہ  عَزَّوَجَلَّ سے زیادہ کس کی بات سچی یعنی اس سے زیادہ سچا کوئی نہیں اس لیے کہ اللہ  عَزَّوَجَلَّ کاجھوٹ بولنا ناممکن و محال ہے کیونکہ جھوٹ عیب ہے اور ہر عیب اللہ  عَزَّوَجَلَّ  کیلئے محال ہے، وہ جملہ عیوب سے پاک ہے۔       *اِمکانِ کِذب کا رد:*      مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کسی کلام میں جھوٹ کا ممکن ہونا ذاتی طو...

کافر، مرتد ، بد مذہب کو دوست بنانا اور ان سے دلی محبت رکھنا حرام ہے اگرچہ وہ کلمہ پڑھتا ہو اور اپنے کو مسلمان کہتا ہو؛-

کافر، مرتد ، بد مذہب کو دوست بنانا اور ان سے دلی محبت رکھنا حرام ہے اگرچہ وہ کلمہ پڑھتا ہو اور اپنے کو مسلمان کہتا ہو؛-*  ترجمۂ کنز العرفان          وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ جیسے وہ کافر ہوئے کاش کہ تم بھی ویسے ہی کافر ہوجاؤ پھرتم سب ایک جیسے ہو جاؤ۔ توتم ان میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ جب تک وہ اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کریں پھر اگر وہ منہ پھیریں تو انہیں پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو اور ان میں کسی کو نہ دوست بناؤ اور نہ ہی مددگار۔تو تمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہوگئے حالانکہ اللہ نے ان کے اعمال کے سبب ان (کے دلوں ) کو الٹا دیا ہے۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تم اسے راہ دکھاؤ جسے اللہ نے گمراہ کر دیا اور جسے اللہ گمراہ کردے تو ہرگز تو اس کے لئے (ہدایت کا) راستہ نہ پائے گا۔ *(سورۃ النساء آیت نمبر 88/89)*  تفسیر صراط الجنان  {فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ : تو تمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہوگئے ؟ } اس آیت کاشانِ نزول یہ ہے کہ منافقین کی ایک جماعت کھلم کھلا مرتد ہوکر مشرکین سے جاملی۔ ان کے بارے میں صحابۂ ک...

یہودیوں کے غلام آج کے مولویوں کو بھی قرآن کا کچھ حصّہ ملا حضور ﷺ کے علم غیب کے انکار کا ثبوت تو ملا مگر اظہار کا ثبوت نہ ملا اس لئے وہ سب بھی گمراه ہیں :-

*یہودیوں کے غلام آج کے مولویوں کو بھی قرآن کا کچھ حصّہ ملا حضور ﷺ کے علم غیب کے انکار کا ثبوت تو ملا مگر اظہار کا ثبوت نہ ملا اس لئے وہ سب بھی گمراه ہیں :- اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَؕ (۴۴)  *ترجمۂ کنز العرفان*          کیا تم نے ان لوگوں کو نہ دیکھا جنہیں کتاب سے ایک حصہ ملا کہ وہ گمراہی خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راستے سے بھٹک جاؤ۔ *(سورۃ النساء آیت نمبر 44* )  *تفسیر صراط الجنان*            { اَلَمْ تَرَ  : کیا تم نے نہ دیکھا۔}  یہاں یہودیوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ ان لوگوں کو اللہ  تعالیٰ کی کتاب یعنی تورات ملی جس سے اُنہوں نے حضرت موسیٰ      عَلَیْہِ السَّلَام  کی نبوت کوتو پہچانا لیکن  اِمامُ الانبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے متعلق جو کچھ تورات میں بیان کیا تھا اس حصّہ سے محروم رہے اور آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ...

مزار پر انوار پر حاضر ہو کر حاجتیں اور مغفرت طلب کرنے کے 5 واقعات

*مزار پر انوار پر حاضر ہو کر حاجتیں اور مغفرت طلب کرنے کے  5 واقعات:*      حضورِ اکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی بارگاہ میں حاضری کا یہ طریقہ صرف آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ظاہری حیات ِ مبارکہ میں نہ تھا بلکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے وصالِ مبارک کے بعد بھی یہ عرض و معروض باقی رہی اور آج تک ساری امت میں چلتی آرہی ہے۔چنانچہ      (1) امیر المومنین حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دورِ خلافت میں قحط پڑ گیا تو صحابی رسول حضرت بلال بن حارث المزنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے سلطانِ دو جہاں  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی قبرِ انور پر حاضر ہو کر عرض کی: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، اپنی امت کے لئے بارش کی دعا فرما دیجئے وہ ہلاک ہو رہی ہے۔ سرکارِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے خواب میں ان سے ارشاد فرمایا: تم حضرت عمر رَضِیَ ا...

صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا عقیدہ حضور ﷺ سے جنّت مانگنے کو بھی شرک نہیں سمجھتے حضور ﷺ کے صحابہ کا شوقِ رفاقت:-

*صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم   کا عقیدہ حضور ﷺ سے جنّت مانگنے کو بھی شرک نہیں سمجھتے حضور ﷺ کے صحابہ کا شوقِ رفاقت:-*      اس سے معلوم ہو اکہ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی رفاقت صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  کو بہت محبوب تھی اور دنیا کی رفاقت کے ساتھ ساتھ اُخروی رفاقت کا شوق بھی ان کے دلوں میں رچا بسا تھا اور وہ اس کے لئے بڑے فکر مند ہوا کرتے تھے۔ ذیلی سُطور میں صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم     کے شوقِ رفاقت کے چند اور واقعات ملاحظہ ہوں ، چنانچہ حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں ’’میں رات کو  رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمتِ اقدس میں رہا کرتا تھا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے وضو کیلئے پانی لایا کرتا اور دیگر خدمت بھی بجا لایا کرتا تھا۔ایک روز آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے مجھ سے فرمایا : سَلْ...

صحابی حضرت انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ دنیا میں جنّت کی خوشبوں محسوس کر لیتے ہیں اور وہابی کو دور سے سننے میں شرک نظر آتا ہیں صحابی کا جذبۂ شہادت:-

*صحابی  حضرت انس بن نضر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ دنیا میں جنّت کی خوشبوں محسوس کر لیتے ہیں اور وہابی کو دور سے سننے میں شرک نظر آتا ہیں صحابی  کا جذبۂ شہادت:-*          حضرت انس بن مالک  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں ’’میرے چچا حضرت انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ غزوۂ بدر میں نہ جاسکے ، انہوں نے نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے عرض کی :آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے مشرکین  سے جو پہلی جنگ کی تھی میں اس میں حاضر نہ ہو سکا۔  اگر اب اللہ تعالیٰ نے مجھے کسی غزوہ میں شرکت کا موقع دیا تو اللہ تعالیٰ  دکھا دے گا جو میں کروں گا،  پھر جب غزوۂ اُحد کا موقع آیا توکچھ لوگ بھاگنے لگے، حضرت انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے عرض کی: اے میرے پروردگار  عَزَّوَجَلَّ ان بھاگنے والوں میں جومسلمان ہیں ، میں ان کی طرف سے معذرت خواہ  ہوں اور جو مشرک ہیں ، میں اُن سے بری ہوں۔ پھر آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَن...

قرانی دعا سے مسلمان کے لئے غیر اللہ‎ کو مددگار کہنا تو اس آیت سے ثابت ہیں بد مذہب والے اپنی جہالت میں کافروں کی آیت سے غیر اللہ‎ کی مدد کو شرک کہتے ہیں :-

*قرانی دعا سے مسلمان کے لئے  غیر اللہ‎ کو مددگار کہنا تو اس آیت سے ثابت ہیں بد مذہب والے اپنی جہالت میں کافروں کی آیت سے غیر اللہ‎ کی مدد کو شرک کہتے ہیں :- وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَاۚ-وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا ﳐ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ (۷۵)  *ترجمۂ کنز العرفان*            اور تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ کے راستے میں نہ لڑو اور کمزور مرد وں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر (نہ لڑو جو) یہ دعا کررہے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس شہر سے نکال دے جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنادے اور ہمارے لئے اپنی بارگاہ سے کوئی مددگار بنادے۔ *(سورۃ النساء آیت نمبر 75)*  *تفسیر صراط الجنان*              { وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ  : اور تمہیں کی...

ایک اہم نکتہ جب کوئی عقیدہ کسی معقول دلیل سے ثابت ہو جائے تو اسے مان لینا لازم ہے۔ دلیل سے ثابت ہوجانے کے بعد خواہ مخواہ مخصوص قسم کی دلیل کا مطالبہ کرنا یہودیوں کا کام ہے اور اس میں بھی ایسے لوگوں کامقصد ماننا نہیں ہوتا بلکہ مفت کی بحث کرنا ہوتا ہے۔ جیسے مسلمانوں میں رائج بہت سے معمولات ایسے ہیں جو معقول شرعی دلیل سے ثابت ہیں لیکن بعض لوگوں کا خواہ مخواہ اِصرار ہوتا ہے کہ نہیں ، اسے حضور سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے زمانے سے ثابت کرو، اسے بخاری سے ثابت کرو۔ یہ طرزِ عمل سراسر جاہلانہ ہے اور ایسے لوگوں کو سمجھانا بے فائدہ ہوتا ہے۔:-

ایک اہم نکتہ جب کوئی عقیدہ  کسی معقول دلیل سے ثابت ہو جائے تو اسے مان لینا لازم ہے۔ دلیل سے ثابت ہوجانے کے بعد خواہ مخواہ مخصوص قسم کی دلیل کا مطالبہ کرنا یہودیوں کا کام ہے اور اس میں بھی ایسے لوگوں کامقصد ماننا نہیں ہوتا بلکہ مفت کی بحث کرنا ہوتا ہے۔ جیسے مسلمانوں میں رائج بہت سے معمولات ایسے ہیں جو معقول شرعی دلیل سے ثابت ہیں لیکن بعض لوگوں کا خواہ مخواہ اِصرار ہوتا ہے کہ نہیں ، اسے حضور سید المرسلین   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کے زمانے سے ثابت کرو، اسے بخاری سے ثابت کرو۔ یہ طرزِ عمل سراسر جاہلانہ ہے اور ایسے لوگوں کو سمجھانا بے فائدہ ہوتا ہے۔:- وہ لوگ جو کہتے ہیں (کہ) اللہ نے ہم سے وعدہ لیا تھا کہ ہم کسی رسول کی اس وقت تک تصدیق نہ کریں جب تک وہ ایسی قربانی پیش نہ کرے جسے آگ کھاجائے ۔ اے حبیب! تم فرمادو(کہ) بیشک مجھ سے پہلے بہت سے رسول تمہارے پاس کھلی نشانیاں اور وہی (معجزات) لے کر آئے جو تم نے کہے تھے پھر اگر تم سچے ہوتو تم نے انہیں کیوں شہید کیا؟۔ (سورۃ آل عمران آیت نمبر 183) {اَلَّذِیْنَ  قَالُوْا  : وہ جو کہتے ہیں۔} ...

علمِ غیب کا انکار کرنے والے جاہل منافقوں جب انکار اور اقرار دونوں قسم کی آیت اور حدیث ہوگی تو اقرار والی آیت اور حدیث سے عقیدہ بنےگا ایسا تو نہیں ہو سکتا علمِ غیب دینے کے بعد واپس لے لے ایسا ہو سکتا ہیں پہلے علمِ غیب نہ دیا ہو بعد میں دیا ہو :-

علمِ غیب کا انکار کرنے والے جاہل منافقوں جب انکار اور اقرار دونوں قسم کی آیت اور حدیث ہوگی تو اقرار والی آیت اور حدیث سے عقیدہ بنےگا ایسا تو نہیں ہو سکتا علمِ غیب دینے کے بعد واپس لے لے ایسا ہو سکتا ہیں پہلے علمِ غیب نہ دیا ہو بعد میں دیا ہو :-  سے متعلق 10 احادیث:       (1) حضرت معاذ بن جبل  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’میں نے اپنے رب  عَزَّوَجَلَّ   کو دیکھا، اس نے اپنا دستِ قدرت میرے کندھوں کے درمیان رکھا، میرے سینے میں اس کی ٹھنڈک محسوس ہوئی، اسی وقت ہر چیز مجھ پر روشن ہوگئی اور میں نے سب کچھ پہچان لیا۔ ( سنن ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ ص، ۵ / ۱۶۰ ، الحدیث:  ۳۲۴۶)       (2) سنن ترمذی میں ہی حضرت  عبداللہ       بن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے مروی روایت میں ہے کہ ’’جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب میرے علم میں آگیا ۔ ( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ...

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تفسیر اور اور بخاری شریف کی حدیث سے ثابت ہیں حضور ﷺ کو قیامت تک کا غیب کا علم ہیں اللہ‎ تعالیٰ نے مسلمانوں اور منافقوں کو جدا کر دیا جو غیب کے علم کا انکار کرے وہ منافق ہے اے منافقوں قرآن کی جس آیت سے تم غیب کے علم کا انکار کرتے ہو وہ قرآن کی آخری آیت تو نہیں کے جس سے عقیدہ بنایا جائے :-

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تفسیر اور اور بخاری شریف کی حدیث سے ثابت ہیں حضور ﷺ کو قیامت تک کا غیب کا علم ہیں اللہ‎ تعالیٰ نے مسلمانوں اور منافقوں کو جدا کر دیا جو غیب کے علم کا انکار کرے وہ منافق ہے اے  منافقوں قرآن کی جس آیت سے تم غیب کے علم کا انکار کرتے ہو وہ قرآن کی آخری آیت تو نہیں کے جس سے عقیدہ بنایا جائے :- اللہ کی یہ شان نہیں کہ مسلمانوں کو اس حال پر چھوڑے جس پر (ابھی) تم ہو جب تک وہ ناپاک کو پاک سے جدا نہ کردے اور (اے عام لوگو!) اللہ تمہیں غیب پر مطلع نہیں کرتا البتہ اللہ اپنے رسولوں کو مُنتخب فرمالیتا ہے جنہیں پسند فرماتا ہے تو تم اللہ اور اس کے رسولوں پرایمان لاؤ اور اگر تم ایمان لاؤ اور متقی بنو تو تمہارے لئے بہت بڑا اجر ہے۔(سورۃ آل عمران آیت نمبر 179) { مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ  عَلَیْهِ :  اللہ‎ کی یہ شان نہیں کہ مسلمانوں کو اس حال پر چھوڑے جس پر (ابھی) تم ہو ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے صحابہ! رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  ، یہ حال نہیں رہے گا کہ منافق و مومن ملے جلے رہیں بلکہ عنقریب اللہ ع...

شہداء کی شان جن کے لئے اللہ‎ تعالیٰ فرماتا ہیں ان کو مردہ خیال بھی نہ کرو مگر بد مذہب والے اللہ‎ تعالیٰ کے فرمان کو بھی نہیں مانتے اور کفر کرتے :-

شہداء کی شان جن کے لئے اللہ‎ تعالیٰ فرماتا ہیں ان کو مردہ خیال بھی نہ کرو مگر بد مذہب والے اللہ‎ تعالیٰ کے فرمان کو بھی نہیں مانتے اور کفر کرتے :- اور جو اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ہر گز انہیں مردہ خیال نہ کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں ، انہیں رزق دیا جاتا ہے۔(سورۃ آل عمران آیت نمبر 169) {وَ لَا تَحْسَبَنَّ  الَّذِیْنَ  قُتِلُوْا  فِیْ  سَبِیْلِ  اللّٰهِ  اَمْوَاتًا : اور جو اللہ  کی راہ میں شہید کئے گئے ہر گز انہیں مردہ خیال نہ کرنا ۔ }  شانِ نزول: اکثر مفسرین کا قول ہے کہ یہ آیت شہداء احد کے حق میں نازل ہوئی ۔ حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے مروی ہے کہ سرکارِ دو عالم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’ جب تمہارے بھائی اُحد میں شہید ہوئے  تو اللہ  تعالیٰ نے ان کی اَرواح کو سبز پرندوں کے جسم عطا فرمائے ،وہ جنتی نہروں پر سیر کرتے پھرتے ہیں ، جنتی میوے  کھاتے ہیں ، سونے کی اُن قندیلوں میں رہتے ہیں جو عرش کے نیچے لٹک رہی ہیں۔جب ان شہداء کرام ...

نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کی اللہُ تَعَالٰی کی اطاعت حضور ﷺ کی تعظیم اللہُ تَعَالٰی ہیں حضور ﷺ کے علم پر اعترض اللہُ تَعَالٰی کے علم پر اعترض ہیں انکار کرنے والے کا ٹھکانہ جہنم ہیں :-

نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     کی  اطاعت کی اللہُ تَعَالٰی کی اطاعت حضور ﷺ کی تعظیم اللہُ تَعَالٰی ہیں حضور ﷺ کے علم پر اعترض اللہُ تَعَالٰی کے علم پر اعترض ہیں انکار کرنے والے کا ٹھکانہ جہنم ہیں :-  { اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ : اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کرو۔} حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے  مروی ہے کہ جب یہ آیت ’’ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ ‘‘ نازل ہوئی تو عبد اللہ  بن اُبی منافق  نے اپنے ساتھیوں سے کہا ’’محمد (مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) اپنی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرح قرار دے رہے ہیں اور یہ حکم کر رہے ہیں کہ ہم ان سے اسی طرح محبت کریں جس طرح عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (البحر المحیط، اٰل عمران، تحت الآیۃ : ۳۲، ۲ / ۴۴۹) اور فرمایا گیا کہ اے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ ان سے فر...

سورہ مریم آیت سے اولیاء رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کی کرامات بھی ثابت ہوتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُن کے ہاتھوں پر خوارق یعنی خلافِ عادت چیزیں ظاہر فرماتا ہے۔:-

سورہ مریم آیت سے اولیاء رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ  کی کرامات بھی ثابت ہوتی ہیں کہ اللہ  تعالیٰ اُن کے ہاتھوں پر خوارق یعنی خلافِ عادت چیزیں ظاہر فرماتا ہے۔:- تو اس کے رب نے اسے اچھی طرح قبول کیا اور اسے خوب پروان چڑھایا اور زکریا کواس کا نگہبان بنا دیا، جب کبھی زکریا اس کے پاس اس کی نماز پڑھنے کی جگہ جاتے تواس کے پاس پھل پاتے۔ (زکریا نے) سوال کیا، اے مریم! یہ تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: یہ اللہ کی طرف سے ہے، بیشک اللہ جسے چاہتا ہے بے شمار رزق عطا فرماتا ہے۔(سورۃ المریم آیت نمبر 37) { وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا : ان کے پاس نیا پھل پاتے۔} اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کو بہت عظمت عطا فرمائی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا  کے پاس بے موسم کے پھل آتے جو جنت سے اترتے اور حضرت مریم  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا  نے کسی عورت کا دودھ نہ پیا۔ جب حضرت زکریا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام  حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا  کے پاس  جاتے تو وہاں بے موسم کے پھل پاتے۔ ایک مرتبہ آپ...

ماں کے پیٹ میں کیا ہے زکریا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام جانتے ہیں یحییٰ علیہ السلام ہیں حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کرنے والے اصل میں اپنی نافرمانی اور جہالت کا اظہار کرتے ہیں جو نہ تفسیر پڑھتے ہی نہ ان کے دل میں اپنے نبی کی تعظیم ہوتی ہیں :-

ماں کے پیٹ میں کیا ہے زکریا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام جانتے ہیں یحییٰ علیہ السلام ہیں حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کرنے والے اصل میں اپنی نافرمانی  اور جہالت کا اظہار کرتے ہیں جو نہ تفسیر پڑھتے ہی نہ ان کے دل میں اپنے نبی کی تعظیم ہوتی ہیں :- تو فرشتوں نے اسے پکار کر کہاجبکہ وہ اپنی نماز کی جگہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے کہ بیشک اللہ آپ کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے جو اللہ کی طرف کے ایک کلمہ کی تصدیق کرے گا اور وہ سردارہو گا اور ہمیشہ عورتوں سے بچنے والا اور صالحین میں سے ایک نبی ہوگا۔(سورۃ آل عمران آیت نمبر 39) { فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓىٕكَةُ : تو فرشتوں نے اسے پکار کر کہا۔} حضرت زکریا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام  بڑے عالم تھے، بارگاہِ الٰہی  عَزَّوَجَلَّ میں قربانیاں آپ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  ہی پیش کیا کرتے تھے اور مسجد شریف میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی اجازت کے بغیر کوئی داخل نہیں ہوسکتا تھا، جس وقت محراب میں آپ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نماز میں مشغول تھے اور باہر آدمی داخلے...

قرآن کی ہر آیت غیب کی خبریں ہیں اور قرآن میں ہر خشک اور تر کا بیان ہیں :-

قرآن کی ہر آیت غیب کی خبریں ہیں اور قرآن میں ہر خشک اور تر کا بیان ہیں :- یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم خفیہ طور پر تمہیں بتاتے ہیں اور تم ان کے پاس موجود نہ تھے جب وہ اپنی قلموں سے قرعہ ڈالتے تھے کہ ان میں کون مریم کی پرورش کرے گا اور تم ان کے پاس نہ تھے جب وہ جھگڑ رہے تھے۔(سورۃ آل عمران آیت نمبر 44) {ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ : یہ غیب کی خبریں ہیں۔} اس آیت میں فرمایا گیا کہ حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کا واقعہ غیب کی خبروں میں سے ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو غیب کے علوم عطا فرمائے ہیں۔ تمام انبیاء  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات جو قرآن و حدیث میں آئے سب غیب کی خبریں ہیں۔      {اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ  : جب وہ اپنی قلموں سے قرعہ ڈال رہے تھے۔}  چونکہ بہت سے لوگ حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا      کی پرورش کے امیدوار تھے۔ اس لئے آپس میں بحث و مباحثہ کے بعد انہوں نے قرعہ اندازی پر فیصلہ چھوڑ دیا چنانچہ جن قلموں سے تورا...

مثبت اور منفی جیسی انسان کی سوچ ہوگی ویسے ہی قرآن اور حدیث سے مسائل نظر آیینگے مریم رضی اللہ عنہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے عیسی علیہ السلام منافق گستاخوں کو حضور ﷺ کے علم غیب میں کمی نظر آتی ہیں :-

مثبت اور  منفی جیسی انسان کی سوچ ہوگی ویسے ہی قرآن اور حدیث سے مسائل نظر آیینگے  مریم رضی اللہ عنہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے عیسی علیہ السلام منافق گستاخوں کو حضور ﷺ کے علم غیب میں کمی نظر آتی ہیں :- اور یاد کرو جب فرشتوں نے مریم سے کہا، اے مریم! اللہ تجھے اپنی طرف سے ایک خاص کلمے کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح ،عیسیٰ بن مریم ہوگا۔ وہ دنیا و آخرت میں بڑی عزت والا ہوگا اور اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہوگا۔(سورة آل عمران آیت نمبر 45) { اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ : بیشک اللہ تجھے بشارت دیتا ہے۔} حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو  کلمۃُ اللہ  اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کے جسم شریف کی پیدائش کلمہ’’ کُن ‘‘ سے ہوئی، باپ اور ماں کے نطفہ سے نہ ہوئی۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَؕ-خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ( آل عمران  :۵۹)        ترجمہکنزُالعِرفان : بےشک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے۔ اُسے مٹی سے پیدا کیا پھر اسے فرمایا ’...

نماز میں رفع یدین کی ممانعت:

نماز میں رفع یدین کی ممانعت: قرآن و حدیث کی روشنی میں ہم اہلسنّت و جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ ہمارے پیارے آقا حضور نبی اکرم نور مجسم شفیع معظم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نماز میں پہلے رفع یدین فرماتے تھے لیکن بعد میں آپ نے رفع یدین کرنا چھوڑ دیا اور نماز میں بار بار رفع یدین کرنے سے آپ نے منع فرمایا ہے قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ما اتکم الرسول فخذوہ وما نھکم عنہ فانتھوا واتقوا اللہ اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو اور اللہ سے ڈرو ۔ (پارہ ٢٨، سورہ الحشر ، آیت ٧) حدیث شریف:حضرت سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم گھر سے نکل کر ہمارے پاس مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا مجھے کیا ہے کہ میں تمہیں رفع الیدین کرتے دیکھ رہا ہوں ۔ جیسے سرکش گھوڑے دُمیں ہلاتے ہیں ۔ نماز میں سکون سے رہو ۔ (صحیح مسلم جلد١ ، ص ١٨١، سنن نسائی جلد ١ ، ص ١٧٦، ابوداؤد جلد١ ، ص ١٤٣، سنن الکبریٰ جلد ٢، ص ٢٨١، ابن حبان جلد ٣، ص ١٧٨، المعجم الکبیر جلد ٢ ، ص ٢٠٢) حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وس...

امام کے پیچھے قراءت منع ھے

امام کے پیچھے قراءت منع ھے  قرآن و حدیث کی روشنی میں اہلسنّت و جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ ہم نماز میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہیں پڑھتے کیونکہ امام کی قرأت ہی مقتدی کی قرأت ہوتی ہے ۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ واذا قری القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو ۔ (پارہ ٩، رکوع ١٤سورہ الانفال آیت نمبر٢٠٤) احادیث مبارکہ:حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایاکہ امام اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے تو جب امام تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ قرأت کرے تو تم چپ رہو ۔(نسائی ج ١ص١٤٦ ، ابن ماجہ ص٦١، مشکوٰۃ ص٨١) ٭ حضرت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ''جس شخص کا امام ہو تو امام کی قرأت (ہی) مقتدی کی قرأت ہے ۔  (ابن ماجہ ص٦١،مصنف ابن شیبہ ج١ص٤١٤) ٭ حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا ''جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھے تو امام کی قرأت اسے کافی ہے ''۔ (موطا اما...

فرشتہ کا علم غیب ہر بچے کا عمل رزق، دنیا میں رہنے کی مدت اور بد بخت یا سعادت مند ہونا جانتے ہیں اور انبیاء کرام علم میں فرشتوں سے افضل ہوتے ہیں :-

فرشتہ کا علم غیب ہر بچے کا عمل رزق، دنیا میں رہنے کی مدت اور بد بخت یا سعادت مند ہونا جانتے ہیں اور انبیاء کرام علم میں فرشتوں سے افضل ہوتے ہیں :-  { هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ : وہی ہے جو ماؤں کے پیٹوں میں تمہاری صورت بناتا ہے ۔} ایک بے قدر چیز کو انسانی شکل میں ڈھال دینا، اسے مرد یا عورت، گورا یا کالا، خوب صورت یا بدصورت بنانا اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہے۔ ماں کے پیٹ میں بچے کی شکل بنانا، اس میں روح پھونکنا، اس کی تقدیر لکھنا یہ سب کچھ فرشتہ کرتا ہے لیکن فرشتہ چونکہ        اللہ تعالیٰ کے حکم اور اختیار سے کرتا ہے لہٰذا فرمایا کہ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ  ہی ہے جو ماؤں کے پیٹوں میں تمہاری صورتیں بناتا ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا ’’ تم میں سے ہر ایک کی خِلْقَت اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک جمع رکھی جاتی ہے، پھر وہ خون کے لوتھڑے کی صورت ہو جاتا ہے، پھر گوشت کی بوٹی کی طرح ہو جاتا ہے، پھر    ...

بد مذہب اہلے حدیث جن کے دلوں میں ٹیڑھا پن ہے متشابہ آیت سے لوگوں کو گمراه کرتے ہیں اللہ‎ تعالیٰ کے لئے جسم ثابت کرتے ہیں جو تمام معتبر تفسیر کے خلاف ہیں :-

بد مذہب اہلے حدیث جن کے دلوں میں ٹیڑھا پن ہے متشابہ آیت سے لوگوں کو گمراه کرتے ہیں اللہ‎ تعالیٰ کے لئے جسم ثابت کرتے ہیں جو تمام معتبر تفسیر کے خلاف ہیں :-  وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری اس کی کچھ آیتیں صاف معنی رکھتی ہیں وہ کتاب کی اصل ہیں اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اِشتباہ ہے تووہ لوگ جن کے دلوں میں ٹیڑھا پن ہے وہ (لوگوں میں ) فتنہ پھیلانے کی غرض سے اور ان آیات کا (غلط) معنیٰ تلاش کرنے کے لئے ان متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑتے ہیں حالانکہ ان کا صحیح مطلب اللہ ہی کو معلوم ہے اور پختہ علم والے کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اورعقل والے ہی نصیحت مانتے ہیں ۔(سورۃ آل عمران آیت نمبر 7) { اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ : صاف معنیٰ رکھنے والی آیتیں۔}  قرآن پاک میں دو طرح کی آیات ہیں :   (1) مُحْکَمْ   ، یعنی جن کے معانی میں کوئی اِشْتِبَاہ نہیں بلکہ قرآن سمجھنے کی اَہلیت رکھنے والے کو آسانی سے سمجھ آجاتے ہیں۔  (2) مُتَشَابِہْ یعنی  وہ آیات جن کے ظاہری معنیٰ یا تو سمجھ ہی نہیں آتے جیسے حروفِ مقطعات ،یعنی بعض سورتوں کے ...