اہلے حدیث منافق یارسول اللہ ﷺ کہنے پر اعترض کرتے ہیں وہ قرآن کی اس آیت کو بھی نہیں مانتے ہی زبان سے خود کو مسلمان کہتے ہیں مگر کفر میں دوڑے جاتے ہیں
اہلے حدیث منافق یارسول اللہ ﷺ کہنے پر اعترض کرتے ہیں وہ قرآن کی اس آیت کو بھی نہیں مانتے ہی زبان سے خود کو مسلمان کہتے ہیں مگر کفر میں دوڑے جاتے ہیں :-*
یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْۚۛ-وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْاۚۛ-سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَۙ-لَمْ یَاْتُوْكَؕ- یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖۚ -یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْاؕ-وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْــٴًـاؕ -اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْؕ-لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ ۚۖ-وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۴۱)
ترجمۂ کنز العرفان
اے رسول! جو کفر میں دوڑے جاتے ہیں تمہیں غمگین نہ کریں (یہ وہ ہیں ) جو اپنے منہ سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے حالانکہ ان کے دل مسلمان نہیں اور کچھ یہودی بہت جھوٹ سنتے ہیں ، اُن دوسرے لوگوں کی (بھی) خوب سنتے ہیں جو آپ کی بارگاہ میں نہیں آئے۔ یہ اللہ کے کلام کو اس کے مقامات کے بعد بدل دیتے ہیں ۔ یہ (آپس میں ) کہتے ہیں : اگر تمہیں یہ (تحریف والا) حکم ملے تو اسے لے لینا اور اگر تمہیں یہ نہ ملے تو بچنا اور جسے اللہ گمراہ کرنا چاہے تو ( اے مخاطب!) تو ہرگز اسے اللہ سے بچانے کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو پاک کرنے کا اللہ نے ارادہ نہیں فرمایا۔ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔ *(سورۃ المائدہ آیت نمبر 41)*
تفسیر صراط الجنان
{ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ : جو کفر میں دوڑے جاتے ہیں تمہیں غمگین نہ کریں۔} یہاں سے منافقین کی حرکتوں کا بیان ہے ۔سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ’’ *یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ* ‘‘ کے مبارک خطاب سے عزت عطا فرمائی اور حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تسکینِ قلب کا سامان مہیا فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، میں آپ کا ناصر و معین (یعنی مددگار) ہوں۔ منافقین کے کفر میں جلدی کرنے یعنی اُن کے کفر ظاہر کرنے اور کفار کے ساتھ دوستیاں کرلینے سے آپ رنجیدہ نہ ہوں۔پھر منافقین کی منافقت کا بیان فرمایا کہ صرف زبان سے کلمہ پڑھتے ہیں اور دل سے ایمان نہیں لاتے۔
یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْۚۛ-وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْاۚۛ-سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَۙ-لَمْ یَاْتُوْكَؕ- یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖۚ -یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْاؕ-وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْــٴًـاؕ -اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْؕ-لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ ۚۖ-وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۴۱)
ترجمۂ کنز العرفان
اے رسول! جو کفر میں دوڑے جاتے ہیں تمہیں غمگین نہ کریں (یہ وہ ہیں ) جو اپنے منہ سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے حالانکہ ان کے دل مسلمان نہیں اور کچھ یہودی بہت جھوٹ سنتے ہیں ، اُن دوسرے لوگوں کی (بھی) خوب سنتے ہیں جو آپ کی بارگاہ میں نہیں آئے۔ یہ اللہ کے کلام کو اس کے مقامات کے بعد بدل دیتے ہیں ۔ یہ (آپس میں ) کہتے ہیں : اگر تمہیں یہ (تحریف والا) حکم ملے تو اسے لے لینا اور اگر تمہیں یہ نہ ملے تو بچنا اور جسے اللہ گمراہ کرنا چاہے تو ( اے مخاطب!) تو ہرگز اسے اللہ سے بچانے کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو پاک کرنے کا اللہ نے ارادہ نہیں فرمایا۔ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔ *(سورۃ المائدہ آیت نمبر 41)*
تفسیر صراط الجنان
{ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ : جو کفر میں دوڑے جاتے ہیں تمہیں غمگین نہ کریں۔} یہاں سے منافقین کی حرکتوں کا بیان ہے ۔سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ’’ *یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ* ‘‘ کے مبارک خطاب سے عزت عطا فرمائی اور حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تسکینِ قلب کا سامان مہیا فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، میں آپ کا ناصر و معین (یعنی مددگار) ہوں۔ منافقین کے کفر میں جلدی کرنے یعنی اُن کے کفر ظاہر کرنے اور کفار کے ساتھ دوستیاں کرلینے سے آپ رنجیدہ نہ ہوں۔پھر منافقین کی منافقت کا بیان فرمایا کہ صرف زبان سے کلمہ پڑھتے ہیں اور دل سے ایمان نہیں لاتے۔
Comments
Post a Comment