Posts

Showing posts from May, 2022

ہر آنکھ زنا کرتی ہیں سوائے متقی اور پرہیزگار کے ہر عورت اپنے آپ کو زنا کیلئے پیش کرتی ہے

ہر آنکھ زنا کرتی ہیں سوائے متقی اور پرہیزگار کے ہر عورت اپنے آپ کو زنا کیلئے پیش کرتی ہے بے پردگی سے سوائے متقی اور پرہیز گار کے زنا سے مراد دل کے خیالات کا زنا اکثریت کو ہدایت نہ ملنے کی یہی وجہ ہیں ہدایت چاہیے تو اس پر سب سے زیادہ عمل کی ضرورت ہے :-  سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: زنا میں انسان کے ہر عضو کا حصہ ہوتا ہے‘ آنکھیں زنا کرتی ہیں اور ان کا زنا دیکھنا ہے‘ ہاتھ زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا پکڑنا اور گرفت کرنا ہے‘ پیر زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا چلنا ہے‘ منہ زنا کرتا ہے اس کا زنا بوسہ وکنار ہے ‘دل خواہش کرتا اور تمنا وآرزو کرتا ہے جب کہ شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی ہوئی زنا میں مبتلا ہوتی ہے یا اسے جھٹلاکر زنا سے باز رہتی ہے۔ ﴿مسند امام احمد ‘ حدیث نمبر8752﴾  اس گناہ سے بچنے کی تاکید کرتے ہوئے اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: قُلْ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ أَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَہُمْ ۔ ترجمہ: اے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم! ایمان والے مردوں سے فرمادیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور ...

حضور ﷺ اگر نماز کی حالت میں بھی کسی صحابی کو آواز دے تو اس پر واجب ہیں نماز چھوڑ کر پہلے حکم پر عمل کرے اور دیوبندی مولوی نے اپنی کتاب میں لکھا ہیں نماز میں حضور ﷺ کا خیال جانور سے برا ہیں یہ منافقوں کی دشمنی ہیں :-

حضور ﷺ اگر نماز کی حالت میں بھی کسی صحابی کو آواز دے تو اس پر واجب ہیں نماز چھوڑ کر پہلے حکم پر عمل کرے اور دیوبندی مولوی نے اپنی کتاب میں لکھا ہیں نماز میں حضور ﷺ کا خیال جانور سے برا ہیں یہ منافقوں کی دشمنی ہیں :-  ترجمۂ کنز الایمان اے ایمان والو اللہ ورسول کے بلانے پر حاضر ہو جب رسول تمہیں اس چیز کے لیے بلائیں جو تمہیں زندگی بخشے گی اور جان لو کہ اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہوجا تا ہے اور یہ کہ تمہیں اسی کی طرف اٹھنا ہے۔( سورۃ انفال آیت نمبر 24)  تفسیر صراط الجنان {اِسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ:اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر حاضر ہو۔}اس آیت میں واحد کا صیغہ ’’دَعَا‘‘ ا س لئے ذکر کیا گیا کہ حضور سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا بلانا اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کا بلانا ہے۔( خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۴، ۲ / ۱۸۸) رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب بھی بلائیں تو ان کی بارگاہ میں حاضر ہونا ضروری ہے: اس آیت سے ثابت ہو اکہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ...

امام کے پیچھے قرآن پڑھنے کی ممانعت:-

امام کے پیچھے قرآن پڑھنے کی ممانعت:-  ترجمۂ کنز الایمان اور اے محبوب جب تم ان کے پاس کوئی آیت نہ لاؤ تو کہتے ہیں تم نے دل سے کیوں نہ بنائی۔ تم فرماؤ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف میرے رب سے وحی ہوتی ہے یہ تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں کھولنا ہے اور ہدایت اور رحمت مسلمانوں کے لیے ۔ اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو۔( سورۃ الاعراف آیت نمبر 203/204)  تفسیر صراط الجنان {وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ:اور جب قرآن پڑھا جائے۔} اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کی عظمت بیان فرمائی تھی کہ قرآنِ پاک کی آیات تو تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں کھول دینے والے دلائل ہیں اور ایمان لانے والے لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے اورا س آیت میں بتایا ہے کہ اس کی عظمت وشان کا تقاضا یہ ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنا جائے اور خاموش رہا جائے۔ (تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۰۴، ۵ / ۴۳۹) علامہ عبداللہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ اس آیت سے ثابت ہوا کہ جس وقت قرآنِ کریم پڑھا جائے خواہ نماز میں یا خارجِ ن...

*نبی کا معنی غیب کی خبریں دینے والا اہلسنت و جماعت کے سوا کوئی بھی باطل فرقہ نبی کا معنی نہیں جانتے یا جان بوجھ چھپاتے ہیں :-

*نبی کا معنی  غیب کی خبریں دینے والا اہلسنت و جماعت کے سوا کوئی بھی باطل فرقہ نبی کا معنی نہیں جانتے یا جان بوجھ چھپاتے ہیں :-  ترجمۂ کنز الایمان وہ جو غلامی کریں گے اس رسول بے پڑھے غیب کی خبریں دینے والے کی جسے لکھا ہوا پائیں گے اپنے پاس توریت اور انجیل میں وہ انہیں بھلائی کا حکم دے گا اور برائی سے منع فرمائے گا اور ستھری چیزیں ان کے لیے حلال فرمائے گا اور گندی چیزیں ان پر حرام کرے گا اور ان پر سے وہ بوجھ اور گلے کے پھندے جو ان پر تھے اتا رے گا تو وہ جو اس پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اترا وہی بامراد ہوئے۔ *( سورۃ الاعراف آیت نمبر 157)*  تفسیر صراط الجنان {اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ:وہ جو رسول کی غلامی کرتے ہیں۔}مفسرین کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس آیت میں رسول سے سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مراد ہیں۔ آیت میں تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ذکر وصف ِرسالت سے فرمایا گیا کیونکہ آپ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کی مخلوق کے درمیان واسطہ...

*تعظیم اور توہین کا دارومدار ر زمانے کے عرف پر ہوتا ہے اس لئے اللہ تعالی کے لیے مکر الفاظ استعمال نہیں ہوگا جن بد مذہب والوں نے قرآن کے ترجمے میں اللہ تعالی کے لیے مکر الفاظ کا استعمال کیا ہیں ان کو مکار کہہ کے دیکھ لو برا لگتا ہیں یا نہیں مکر کرنے والے کو مکار کہتے ہیں :-

*تعظیم اور توہین کا دارومدار ر زمانے کے عرف پر ہوتا ہے اس لئے اللہ تعالی کے لیے مکر الفاظ استعمال نہیں ہوگا جن بد مذہب والوں نے قرآن کے ترجمے میں اللہ تعالی کے لیے مکر الفاظ کا استعمال کیا ہیں ان کو مکار کہہ کے دیکھ لو برا لگتا ہیں یا نہیں مکر کرنے والے کو مکار کہتے ہیں :- اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ (99)  ترجمۂ کنز الایمان کیا اللہ کی خفی تدبیر سے نڈر ہیں تو اللہ کی خفی تدبیر سے نڈر نہیں ہوتے مگر تباہی والے۔ *( سورۃ الاعراف آیت نمبر 99)*  تفسیر صراط الجنان { اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ:کیا وہ اللہ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہیں۔} مکر کے لغوی معنی ہیں ’’خفیہ تدبیر‘‘ جبکہ عام محاورہ میں دھوکہ اور فریب کو’’ مکر‘‘ کہا جاتا ہے، یہاں اس کا لغوی معنی یعنی خفیہ تدبیر مراد ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے خاص غضب کا ذکر ہے چنانچہ فرمایا گیا ’’کیا کفار اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہیں اور اس کے ڈھیل دینے اور دُنیوی نعمتیں دینے پر مغرور ہو کر اس کے عذاب سے بے فکر ہوگئے ہیں سن لو! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ...