Posts

Showing posts from May, 2020

شریت میں حضور ﷺ کا اختیار اور امت کی بھلائی پر نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حرص کی جھلک

شریت میں حضور ﷺ کا اختیار اور  امت کی بھلائی پر نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حرص کی جھلک:-*     اور لوگ تو اپنی اور اپنی اولاد کی بھلائی کے حریص ہوتے ہیں مگر یہ رسولِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اپنی امت کی بھلائی اور ان کی خیر خواہی پر حریص ہیں۔اب اُمت پر ان کی حرص اور شفقت کی جھلک ملاحظہ ہو  حضرت زید بن خالد جُہنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے، حضور پُر نور     صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا ’’اگر مجھے اپنی امت پر دشوار نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا اور عشاء کی نماز کو تہائی رات تک مؤخر کر دیتا۔ *( ترمذی، ابواب الطہارۃ، باب ما جاء فی السواک، ۱ / ۱۰۰، الحدیث:۲۳)*    مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خطبہ میں حج فرض ہونے کا بیان فرمایا۔اس پر ایک شخص نے کہا، کیا ہر سال فرض ہے؟ نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَ...

اِجماع حجت ہے اتحاد امّت کے لئے بد مذہب والوں کو اپنے کفریا عقیدہ اور گستاخی سے توبہ کر کے اہلے سنّت جماعت کے علم کی پیروی کرنا چائے جو سب سے بڑی جماعت ہیں

اِجماع حجت ہے اتحاد امّت کے لئے بد مذہب  والوں کو اپنے کفریا عقیدہ اور گستاخی سے توبہ کر کے اہلے سنّت جماعت کے علم کی پیروی کرنا چائے  جو سب سے   بڑی جماعت ہیں :-*      ترجمۂ کنز العرفان          اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔ علامہ عبداللہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں ’’ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اجماع حجت ہے کیونکہ اللہ  تعالیٰ نے صادقین کے ساتھ رہنے کا حکم فرمایا، اس سے اُن کے قول کو قبول کرنا لازم آتا ہے۔ *(مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۹ ، ص ۴۵۸ )*          نیز اس حدیثِ پاک سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اجماع حجت ہے، چنانچہ حضرت انس بن مالک  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے، نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا ’’ اِنَّ اُمَّتِیْ لَا تَجْتَمِعُ عَلٰی ضَلَالَۃٍ فَاِذَا رَاَیْتُمْ اِخْتِلَافًا فَعَلَیْکُمْ بِالسَّوَادِ الْاَعْظَمِ ‘‘بے شک میری امت کبھی گمراہی پر جمع نہ ہو گی،تو جب...

ہر مسجد اللہ‎ تعالیٰ کا گھر نہیں ہوتی کچھ مسجد گستاخ رسول کا اڈا ہوتا ہیں* *اس لئے ہر مسجد میں نماز نہیں پڑھنی چائے* *مسجد کے نام پر بھی مسلمانوں کے ایمان کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے:*

ہر مسجد اللہ‎ تعالیٰ کا گھر نہیں ہوتی کچھ مسجد گستاخ رسول کا اڈا ہوتا ہیں* *اس لئے ہر مسجد میں نماز نہیں پڑھنی چائے*  *مسجد کے نام پر بھی مسلمانوں کے ایمان کو  نقصان پہنچایا جا سکتا ہے:*   ترجمۂ کنز العرفان              اور (کچھ منافق ) وہ (ہیں ) جنہوں نے نقصان پہنچانے کے لئے اور کفر کے سبب اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کے لئے اور اس شخص کے انتظار کے لئے مسجد بنائی جو پہلے سے اللہ اور اس کے رسول کا مخالف ہے اور وہ ضرور قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے تو صرف بھلائی کا ارادہ کیا تھا اور اللہ گواہ ہے کہ وہ بیشک جھوٹے ہیں ۔ (اے حبیب!) آپ اس مسجد میں کبھی کھڑے نہ ہوں ۔بیشک وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے پرہیزگاری پر رکھی گئی ہے وہ اس کی حقدار ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو۔ اس میں وہ لوگ ہیں جو خوب پاک ہونا پسند کرتے ہیں اور اللہ خوب پاک ہونے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ *(سورۃ التوبہ آیت نمبر 107/108)*  تفسیر صراط الجنان                { وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا  :  اور وہ جنہو...

حضور ﷺ کو اور صحابہ کو دیکھنا بھی وسیلہ ہیں اس لئے صحابہ اور تابعین جنگ میں بھی کامیاب تھے آخرت میں بھی کامیاب ہونگے ہم دن رات دیوبندی وہابی اہلے حدیث کو دیکھتے ہیں کامیابی کیسے حاصل ہو تابعی کی تعریف اور ان کے فضائل:-*

حضور ﷺ کو اور صحابہ کو دیکھنا بھی وسیلہ ہیں اس لئے صحابہ اور تابعین جنگ میں بھی کامیاب تھے آخرت میں بھی کامیاب ہونگے ہم دن رات دیوبندی وہابی اہلے حدیث کو دیکھتے ہیں کامیابی کیسے حاصل ہو تابعی کی تعریف اور ان کے فضائل:-*  صحابۂ کرام   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  کی حالت ِ ایمان میں زیارت کرنے والے حضرات کوتابعین کہا جاتا ہے اور یہ لفظ بھی غالباً اسی آیتِ مبارکہ سے لیا گیا ہے۔ ان کے زمانے کے بارے میں حضرت   عبداللہ  بن مسعود  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   سے روایت ہے، حضور پُر نور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا ’’بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں ، پھر جو لوگ  ان کے قریب ہیں ، پھر جو لوگ ان کے قریب ہیں۔   *(بخاری، کتاب الشہادات، باب لا یشہد علی شہادۃ جور اذا شہد، ۲/ ۱۹۳، الحدیث:   ۲۶۵۲)*   حضرت ابو سعید خدری  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   سے روایت ہے، نبی اکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا...

اولیا اللہ‎ کی یہ شان ہیں وہ اللہ‎ تعالیٰ کی قدرت سے دیکھتے ہیں سننتے ہیں پکڑتے ہیں دوری ان کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں بد مذہب والے اولیا اللہ‎ سے عداوت رکھتے ہیں جو خود تو جاہل ہیں اور جاہل بابا کے نام سے اولیا اللہ‎ کی توہین کرتے ہیں

اولیا اللہ‎ کی یہ شان ہیں وہ اللہ‎ تعالیٰ کی قدرت سے دیکھتے ہیں سننتے ہیں پکڑتے ہیں دوری ان کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں بد مذہب والے اولیا اللہ‎ سے  عداوت رکھتے  ہیں جو خود تو جاہل ہیں اور جاہل بابا کے نام سے اولیا اللہ‎ کی توہین کرتے ہیں :-* (1) حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے، حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے’’ جو میرے کسی ولی سے عداوت رکھے میں اسے اعلانِ جنگ دیتا ہوں اور میرے کسی بندے کا فرض  عبادتوں کے مقابلے میں دوسری عبادتوں کے ذریعے مجھ سے قریب ہونا مجھے زیادہ پسند نہیں اور میرا بندہ  (فرض عبادات کی  ادائیگی کے ساتھ) نَوافل کے ذریعے مجھ سے قریب ہوتا رہتا ہے، حتّٰی کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں ، پھر جب اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان ہو جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھیں ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پائوں بن جاتا ہے جن سے وہ چلتا ہے ، اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو اسے دیتا ہوں اور اگر میری پ...

کل کیا ہوگا حضور ﷺ جانتے ہیں اللہ‎ تعالیٰ کی عطا سے جو اس کا منکر ہو وہ کافر ہیں

کل کیا ہوگا حضور ﷺ جانتے ہیں اللہ‎ تعالیٰ کی عطا سے جو اس کا منکر ہو وہ کافر ہیں :-*    ترجمۂ کنز العرفان            جب تم ان کے پاس لوٹ کر جاؤگے تو یہ تم سے بہانے بنائیں گے ۔ تم فرماؤ : بہانے نہ بناؤ ہم ہرگز تمہاری بات پر یقین نہیں کریں گے اللہ نے ہمیں تمہاری خبریں دیدی ہیں اور اب اللہ اور اس کا رسول تمہارے کام دیکھیں گے پھر تمہیں اس کی طرف لوٹایا جائے گا جو غیب اور ظاہر کو جاننے والا ہے تو وہ تمہیں تمہارے اعمال بتادے گا۔ *(سورۃ التوبہ آیت نمبر 94)*  تفسیر صراط الجنان              {یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ :  تم سے بہانے بنائیں گے ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ اور آپ کے صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  جب غزوۂ تبوک سے واپس مدینہ منورہ پہنچیں گے تو غزوہ سے رہ جانے والے منافقین جھوٹے بہانے بنا کر اور باطل عذر پیش کر کے آپ سب کو راضی کرنے کی کوشش کریں گے۔ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ ان سے فرما دینا کہ بہانے...

رشتہ داری کے لئے بد مذہب کی نماز جنازہ پڑھنا اور بھائی چارہ کے لئے کافروں کی میت میں شامل ہونا قرآن کی اس آیات کے خلاف ہیں کافر، فاسق اور مسلمان کے جنازے سے متعلق چند شرعی مسائل

*رشتہ داری کے لئے بد مذہب کی نماز جنازہ پڑھنا اور بھائی چارہ کے لئے کافروں کی میت میں شامل ہونا قرآن کی اس آیات کے خلاف ہیں کافر، فاسق اور مسلمان کے جنازے سے متعلق چند شرعی مسائل:-*   ترجمۂ کنز العرفان              اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز جنازہ نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا۔ بیشک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور نافرمانی کی حالت میں مرگئے ۔ *(سورۃ التوبہ آیت نمبر 84)*  تفسیر صراط الجنان                { وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا :  اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز جنازہ نہ پڑھنا ۔} اس آیت میں سرکارِ مدینہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم        کو منافقین کے جنازے کی نماز اور ان کے دفن میں شرکت کرنے سے منع فرمایا گیا اور اس کا شانِ نزول یہ ہے کہ  عبداللہ  بن اُبی بن سلول منافقوں کا سردار تھا، جب وہ مرگیا تو اس کے بیٹے حضرت  عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ...

دنیا میں اولیا اللہ‎ سے اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی علامت دنیا والے ان سے محبت کرتے ہیں اللہ‎ تعالیٰ کے دشمن وہ جو اولیا اللہ‎ سے عداوت رکھتے ہیں

دنیا میں اولیا اللہ‎ سے  اللہ  تعالیٰ کے راضی ہونے کی علامت  دنیا والے ان سے محبت کرتے ہیں اللہ‎ تعالیٰ کے دشمن وہ جو اولیا اللہ‎ سے عداوت رکھتے ہیں :-*      کسی بندے سے دنیا میں اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی ایک علا مت یہ ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کے نیک بندے راضی ہوں اور اسے نیک اعمال کی توفیق ملے ۔ جب اللہ  عَزَّوَجَلَّ  کسی سے راضی ہوتا ہے تو فرشتوں میں اعلان ہوتا ہے کہ ہم اس سے راضی ہیں تم بھی اس سے راضی ہو جاؤ پھر تما م زمین والوں کے دلوں میں اس کی محبت پڑ جا تی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے، حضور پُر نور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کو ند اکی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت رکھتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو۔ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام  اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام  آسمانی مخلوق میں ندا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت فرماتا ہے لہ...

کلمہ پڑھنے والے کو مذاق میں حضور ﷺ کے علم غیب پر اعتراض کرنے کی وجہ سے اللہ‎ تعالیٰ نے کافر کہا جان بوجھ کر علم پر اعتراض کرنے والے توبہ کرے

کلمہ پڑھنے والے کو  مذاق میں حضور ﷺ کے علم غیب پر اعتراض کرنے کی وجہ سے   اللہ‎ تعالیٰ نے کافر کہا جان بوجھ کر علم پر اعتراض کرنے والے توبہ کرے :-*   ترجمۂ کنز العرفان            بہانے نہ بنا ؤ تم ایمان ظاہر کرنے کے بعد کافر ہوچکے ۔ اگر ہم تم میں سے کسی کو معاف کر دیں تو دوسروں کو عذاب دیں گے کیونکہ وہ مجرم ہیں ۔ *(سورۃ التوبہ آیت نمبر 66)*  تفسیر صراط الجنان            { لَا تَعْتَذِرُوْا : بہانے نہ بنا ؤ۔} اللہ  تعالیٰ نے منافقین کی جانب سے پیش کردہ عذر و حیلہ قبول نہ کیا اور ان کے لئے یہ فرمایا کہ بہانے نہ بنا ؤ تم ایمان ظاہر کرنے کے بعد کافر ہوچکے ۔ *(خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۶۶ ، ۲ / ۲۵۷ ، ملخصاً )*     *آیت’’ لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ  ‘‘سے حاصل ہونے والی معلومات:*   اس آیت سے معلوم ہو اکہ ایمان ایسی چیز نہیں کہ جو دنیا میں کبھی کسی سے ختم ہی نہیں ہو سکتی کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے پہلے ان کے ایمان کا ذکر فرمایا پھر ان کا ایمان ...

حضور ﷺ کے علم غیب پر اعتراض کرنا منافق اور کافروں کا کام ہیں

حضور ﷺ کے علم غیب پر اعتراض  کرنا منافق اور کافروں کا کام ہیں :-*   ترجمۂ کنز العرفان      اور اے محبوب! اگرآپ ان سے پوچھیں تو کہیں گے کہ ہم تو صرف ہنسی کھیل کررہے تھے ۔تم فرماؤ: کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی مذاق کرتے ہو۔ *(سورۃ التوبہ آیت نمبر 65)*  تفسیر صراط الجنان        { اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ : ہم تو صرف ہنسی کھیل کررہے تھے ۔} اس آیت کا ایک شانِ نزول یہ ہے کہ غزوۂ تبوک میں جاتے ہوئے منافقین کے تین گروپوں میں سے دو رسولِ کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے بارے میں مذاق اڑاتے  ہوئے کہتے تھے کہ ان کا خیال ہے کہ یہ روم پر غالب آجائیں گے، کتنا بعید خیال ہے اور ایک گروپ بولتا تو نہ تھا مگر ان باتوں کو سن کر ہنستا تھا۔ حضور پُرنور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ان کو طلب فرما کر ارشاد فرمایا کہ تم ایسا ایسا کہہ رہے تھے؟  انہوں نے کہا :ہم راستہ طے کرنے کے لئے ہنسی کھیل کے طور پر دل لگی کی باتیں کررہے تھے اس پر ...

Rasoolallah ﷺ Ka Ilm e Gaib

🌹Rasoolallah ﷺ Ka Ilm e Gaib* Ahle Sunnat Wa Jama'at Ka Aqeeda - Allah Ta'ala A'alimul Gaib Hai Aur Yeh Sifat Allah Ta'ala Ki Khaas Sifat Hai Aur Rasoolallah ﷺ A'alim e Gaib Hai Matlab Allah Ta'ala Ne Rasoolallah ﷺ Ko Gaib Ka Ilm Diya Hai. Note - Sureh Ana'am Ki Ayat No.50 Aur Sureh A'araaf Ki Ayat No.188 Me Allah Ta'ala Ne Jo Rasoolallah ﷺ Se Kahelwaya Hai Ke "Aap Farma Do Ke Mai Gaib Nahi Jaanta" To Iss Ayat Me Rasoolallah ﷺ Keliye Zaati Ilm e Gaib Ki Nafi Ki Gayi Hai Na Ke Atayi. Dekhiye Tafseer e Neshapuri, Shifa Shareef, Naseemur Riyaz Aur Tafseer e Khaazin. 1 - Sureh Aale Imran Ayat No.179  *Tarjuma* - Allah Musalmano Ko Iss Haal Par Chhodhne Ka Nahi Jiss Par Tum Ho Jab Tak Juda Na Karde Gande Ko Suthre Se Aur Allah Ki Shaan Nahi Ke Aye A'am Logo Tumhe Gaib Ka Ilm Dede Haa Allah Chun Leta Hai Apne Rasoolo Se Jise Chahe To Iman Lao Allah Aur Uske Rasoolo Par Aur Agar Iman Lao Aur Parhezgari Karo To Tumhare Liye Bada Sawab Hai...

ان آیات سے معلوم ہوا کہ یہ کہنا جائز ہے کہ اللہ رسول عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہمیں ایمان دیا، دوزخ سے بچایا وغیرہ وغیرہ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ رسول عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دیتے ہیں اور آئندہ بھی دیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ جو دیتا ہے وہ حضو ر پُر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہی کے ذریعے سے دیتا ہے۔ نفع و نقصان پہنچانے کی نسبت نیک بندوں کی طرف کرنا جائز ہے:-

ان آیات  سے معلوم ہوا کہ یہ کہنا جائز ہے کہ اللہ رسول عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ہمیں ایمان دیا، دوزخ سے بچایا وغیرہ وغیرہ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ رسول عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  دیتے ہیں اور آئندہ بھی دیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ جو دیتا ہے وہ حضو ر پُر نور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہی کے ذریعے سے دیتا ہے۔  نفع و نقصان پہنچانے کی نسبت نیک بندوں کی طرف کرنا جائز ہے:-    ترجمۂ کنز العرفان          اور (کیا اچھا ہوتا) اگر وہ اس پر راضی ہوجاتے جو اللہ اور اس کے رسول نے انہیں عطا فرمایا اور کہتے کہ ہمیں اللہ کافی ہے ۔ عنقریب اللہ اور اس کا رسول ہمیں اپنے فضل سے اور زیادہ عطا فرمائیں گے ۔ بیشک ہم اللہ ہی کی طرف رغبت رکھنے والے ہیں ۔(سورۃ التوبہ آیت نمبر 59)  تفسیر صراط الجنان            { وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ :     اوراگر و...

ان حدیث سے معلوم ہوا کہ حضوراکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے کسی فعل پر اعتراض کرنا کفر ہے اور علم غیب کا انکار بھی ہزاروں حدیث کا انکار ہیں اور ہر نماز قرآن پڑھنے والا مسلمان نہیں ہوتا جو کم عمر اور کم عقل ہونگے وہ جماعتی ہیں

ان  حدیث سے  معلوم ہوا کہ حضوراکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے کسی فعل   پر اعتراض کرنا کفر ہے اور علم غیب کا انکار بھی ہزاروں حدیث کا انکار ہیں اور ہر نماز قرآن پڑھنے والا مسلمان نہیں ہوتا جو کم عمر اور کم عقل ہونگے وہ جماعتی ہیں :-* بخاری و مسلم کی روایت میں ہے کہ رسولِ کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  مالِ غنیمت تقسیم فرما رہے تھے تو      ذُوالخُوَیْصِرَہ ْ نے کہا  یا رسولَ اللہ عدل کیجئے ۔حضور پُر نور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : تجھے خرابی ہو ، میں عدل نہ کروں گا تو عدل کون کرے گا ؟ حضرت عمر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ      نے عر ض کی: مجھے اجازت دیجئے کہ اس (منافق) کی گردن مار دوں۔ حضورِ اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو اس کے اور بھی ہمراہی ہیں کہ تم ان کی نمازوں کے سامنے اپنی نمازوں کو اور ان کے روزوں کے سامنے اپنے روزوں کو حقیر دیکھو گے ، وہ قر...

علماء اور اَولیاء کی تقلید اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے غیر مقلید بد مذہب والوں کی تقلید شیطان کی اطاعت ہے

علماء اور اَولیاء کی تقلید اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے غیر مقلید بد مذہب والوں کی تقلید شیطان کی اطاعت ہے :-*   یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے پادریوں اور علماء کو معبود بنا کر ان کی کوئی باقاعدہ عبادت نہیں کی تھی بلکہ خدا کے  حکم کو چھوڑ کر ان کے حکم کو اپنے لئے شریعت بنالیا تھا اور اسی کو اللہ  تعالیٰ نے فرمایا کہ انہوں نے خدا بنالئے چنانچہ پادریوں اور درویشوں سے متعلق ان کی اِس روِش کے بارے میں حضرت عدی بن حاتم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں : میں حضور پُر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت میرے گلے میں سونے کی صلیب تھی۔ آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا ’’عدی! اس بت کو دور کر دو۔ نیز صحابی فرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سورۂ براءت سے پڑھ رہے تھے’’  اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ (یعنی عیسائیوں ، یہودیوں نے اپنے درویشوں اور علماء کو اللہ کے سوا رب بنا لیا) پھ...

احکامِ شریعت نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سپرد ہیں

احکامِ شریعت نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے سپرد ہیں :- سنن ابو داؤد اور ابن ماجہ میں حضرت مقدام بن معدیکرب  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ      سے روایت ہے، سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا:سن لو ! مجھے قرآن کے ساتھ اس کا مثل ملا یعنی حدیث، دیکھو!کوئی پیٹ بھرا اپنے تخت پر بیٹھے یہ نہ کہے کہ یہی قرآن لئے رہو جو اس میں حلال ہے اسے حلال جانو، جو اس میں حرام ہے اسے حرام مانو۔ (حالانکہ) اِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلُ مَا حَرَّمَ اللہُ ‘‘جو کچھ       اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے حرام کیا وہ بھی اس کی مثل ہے جسے اللہ  عَزَّوَجَلَّ  نے حرام کیا۔       ( ابو داؤد، کتاب السنّۃ، باب فی لزوم السنّۃ،       ۴ / ۲۶۵ ، الحدیث: ۴۶۰۴ ، وابن ماجہ، کتاب السنّۃ، باب تعظیم حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ الخ، ۱ / ۱۵ ، ا...

کافروں اور بد مذہبوں سے دور رہا جائے

کافروں اور بد مذہبوں سے دور رہا جائے:-*   ترجمۂ کنز العرفان        اے ایمان والو! اپنے باپ اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ سمجھو اگر وہ ایمان کے مقابلے میں کفر کو پسند کریں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی کرے گا تو وہی ظالم ہیں ۔ *(سورۃ التوبہ  آیت نمبر 23)*  تفسیر صراط الجنان          { لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ :  اپنے باپ اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ سمجھو۔} جب مسلمانوں کو مشرکین سے تَرک ِمُوالات کا حکم دیا گیا تو بعض لوگوں نے کہا: یہ کیسے ممکن ہے کہ آدمی اپنے باپ بھائی وغیرہ قرابت داروں سے ترک ِتعلق کرے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ کفار سے موالات یعنی قلبی محبت کا تعلق جائز نہیں چاہے ان سے کوئی بھی رشتہ ہو۔ *(خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۲۳، ۲ / ۲۲۴)*      اللہ  تعالیٰ کے نافرمانوں یعنی کافروں ، بے دینوں اور گمراہوں کے ساتھ میل جول ، رسم وراہ، مَوَدَّت ومحبت اُن کی ہاں میں ہاں ملانا اُن کی خوشامد میں رہنا سب ممنوع ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:  وَ لَا تَرْ...

حضرت عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضور ﷺ کے علم غیب کے اظہار سے ایمان لاے علم غیب اور یا رسول اللہ‎ کے منکر تم بھی ایمان لیے آؤ :-

حضرت عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضور ﷺ کے علم غیب کے اظہار سے ایمان لاے علم غیب اور یا رسول اللہ‎ کے منکر تم بھی ایمان لیے آؤ :-    ترجمۂ کنز العرفان        اے نبی !جو قیدی تمہارے ہاتھ میں ہیں ان سے فرماؤ،اگر اللہ تمہارے دل میں بھلائی دیکھے گا تو جو مال تم سے لیا گیااس سے بہتر تمہیں عطا فرمائے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔  تفسیر صراط الجنان          { یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ  :   اے نبی۔} شانِ نزول:  یہ آیت حضرت عباس بن عبد المطلب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو سید عالم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے چچا ہیں۔یہ کفارِ قریش کے ان دس سرداروں میں سے تھے جنہوں نے     جنگِ بدر میں لشکرِ کفار کے کھانے کی ذمہ داری لی تھی اور یہ اس خرچ کے لئے بیس اوقیہ سونا ساتھ لے کر چلے تھے لیکن ان کے ذمے جس دن کھلانا تجویز ہوا تھا خاص اسی روز جنگ کا واقعہ پیش آیا اور قِتال میں کھانے کھلانے کی فرصت ومہلت نہ ملی تو ...

یا رسول اللہ‎ کہنا تو صحابہ کی سنت ہیں یا رسول اللہ‎ کے منکر منافقوں کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا حکم شانِ فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ

یا رسول اللہ‎ کہنا تو صحابہ کی سنت ہیں یا رسول اللہ‎ کے منکر منافقوں کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا حکم شانِ فاروق اعظم  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  :--*   اس شانِ نزول سے حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی عظمت و شان ظاہر ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کا مقام ایسا بلند ہے کہ اللہ  تعالیٰ آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی رائے کے مطابق قرآنِ مجید کی آیات نازل فرماتا ہے ، ترمذی شریف میں حضرت   عبداللہ   بن عمر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے رایت ہے، تاجدارِ رسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا ’’  اللہ  عَزَّوَجَلَّ  نے عمر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی زبان اور دل پر حق جاری فرما دیا ہے۔ حضرت  عبداللہ بن عمر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں : جب کبھی لوگوں میں کوئی معاملہ در پیش ہوا اور اس کے بارے میں لوگوں نے کچھ کہا اور حضرت عمر فاروق...

اہلے حدیث خبیث نماز کی قرات میں کھڈے ہو کر یا نبی پڑھتے ہیں مگر نماز کے باہر یا رسول اللہ‎ پر اعترض کرتے ہیں ان کا اس آیات اور بہت سے حدیث پر ایمان نہیں ہیں یہ اپنی جہالت میں گمراہ ہیں

اہلے حدیث خبیث نماز کی قرات میں کھڈے ہو کر یا نبی پڑھتے ہیں مگر نماز کے باہر یا رسول اللہ‎ پر اعترض کرتے ہیں ان کا اس آیات اور بہت سے حدیث پر ایمان نہیں ہیں یہ اپنی جہالت میں گمراہ ہیں :- یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠(۶۴)  ترجمۂ کنز العرفان          اے نبی! اللہ تمہیں کافی ہے اور جو مسلمان تمہارے پیروکار ہیں ۔(سورۃ الانفال آیت نمبر 64)  تفسیر صراط الجنان            { یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ   :  اے نبی! اللہ      تمہیں کافی ہے۔}  اس سے پہلی آیت میں      اللہ  تعالیٰ نے کفار کے دھوکہ دینے کی صورت میں نبی اکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   سے اپنی مدد و نصرت کا وعدہ فرمایا تھا اور اس آیت میں  اللہ      تعالیٰ  نے مطلقاً ہر حال میں اپنے حبیب      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی مدد ونصرت اور کا...

مومن کی فراست سے ڈرو وہ اللہ‎ کے نور سے دیکھتا ہیں منافق کی منافقت سے ڈرو وہ ہر اچھے عمل میں بدعت شرک دیکھتا ہیں

مومن کی فراست سے ڈرو وہ اللہ‎ کے نور سے دیکھتا ہیں منافق کی منافقت سے ڈرو  وہ ہر اچھے عمل میں بدعت شرک دیکھتا ہیں :-*   ترجمۂ کنز العرفان        اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو تمہیں حق و باطل میں فرق کردینے والا نور عطا فرما دے گا اور تمہارے گناہ مٹا دے گا اور تمہاری مغفرت فرما دے گا اوراللہ بڑے فضل والا ہے۔  تفسیر صراط الجنان            { اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ : اگر تم اللہ  سے ڈرو گے۔}جو شخص رب تعالیٰ سے ڈرے اور اس کے حکم پر چلے تو اللہ  تعالیٰ اسے تین خصوصی انعام عطا فرمائے گا ۔        پہلا انعام یہ کہ اسے فُرقان عطا فرمائے گا۔ یعنی  اللہ  تعالیٰ اس کے دل کو ایسا نور اور توفیق عطا کرے گا جس سے وہ حق و باطل کے درمیان فرق کر لیا کرے۔ *(خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۹، ۲ / ۱۹۱)*                    مومن کی فراست کے بارے میں حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَل...

کسی صحابی کو اگر نماز کی حالت میں حضور ﷺ آواز دے تو اس پر لازم ہیں وہ نماز چھوڈ کر حضور ﷺ کے حکم پر عمل کرے بعد میں وہی سے اپنی نماز پوری کرے اور دیوبندی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں نماز میں حضور ﷺ کا خیال جانور اور بیوی سے صوحبت کے خیال سے بدتر ہیں

کسی صحابی کو اگر  نماز کی حالت میں حضور ﷺ آواز دے تو اس پر لازم ہیں وہ نماز چھوڈ کر حضور ﷺ کے حکم پر عمل کرے بعد میں وہی سے اپنی نماز پوری کرے اور دیوبندی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں نماز میں حضور ﷺ کا خیال جانور اور بیوی  سے صوحبت کے خیال سے  بدتر ہیں :-*   ترجمۂ کنز العرفان          اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤ جب وہ تمہیں اس چیز کے لئے بلائیں جو تمہیں زندگی دیتی ہے اور جان لو کہ اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجا تا ہے اور یہ کہ اسی کی طرف تمہیں اٹھایا جائے گا۔ *(سورۃ انفال آیت نمبر 24)*  تفسیر صراط الجنان             { اِسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ  :اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر حاضر ہو۔}اس آیت میں واحد کا صیغہ ’’دَعَا ‘‘ اس لئے ذکر کیا گیا کہ حضور سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا بلانا  اللہ  عَزَّوَجَلَّ  ہی کا بلانا ہے۔ *(خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۴ ، ۲ / ۱۸۸...

امام کے پیچھے قرآن پڑھنے کی ممانعت:-

امام کے پیچھے قرآن پڑھنے کی ممانعت:-*   ترجمۂ کنز العرفان         اور اے حبیب! جب تم ان کے پاس نشانی نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تم نے خود ہی کیوں نہ بنا لی؟ تم فرماؤ: میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف میرے رب کی طرف سے وحی بھیجی جاتی ہے۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں کھول دینے والے دلائل ہیں اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔ اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ *(سورۃ اعراف آیت نمبر 203/204)* علامہ عبداللہ  بن احمد نسفی  رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں ’’ اس آیت سے ثابت ہوا کہ جس وقت قرآنِ کریم  پڑھا جائے خواہ نماز میں یا خارجِ نماز اُس وقت سننا اور خاموش رہنا واجب ہے۔  *(مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۰۴، ص ۴۰۱)*        یاد رہے کہ اس آیتِ مبارکہ کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ، ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں خطبہ کو بغور سننے اور خاموش رہنے کا حکم ہے۔اور ایک قول یہ ہے کہ اس آیت سے نماز و خطبہ دونوں میں بغور سننے اور خاموش رہنے کا وجوب ...

مخلوق میں سے کسی کو معبود مان کر پکارنا شرک ہے ورنہ ہر گز شرک نہیں :

مخلوق میں سے کسی کو معبود مان کر پکارنا شرک ہے ورنہ ہر گز شرک نہیں : -   ترجمۂ کنز العرفان          بیشک وہ جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو وہ تمہاری طرح بندے ہیں تو تم انہیں پکارو پھراگر تم سچے ہو تو انہیں چاہیے کہ وہ تمہیں جواب دیں ۔ ( سورۃ اعراف آیت نمبر 194)  تفسیر صراط الجنان            { اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ  : بیشک وہ (بت) جنہیں تم  اللہ کے سوا پوجتے ہو۔} آیت میں لفظ’’ تَدْعُوْنَ‘ کا معنی ہے تَعْبُدُوْنَ ‘‘      یعنی جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے کافرو! صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی بجائے جن بتوں کی تم عبادت کرتے ہو اور تم انہیں اپنا معبود کہتے ہو یہ بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ کے مملوک اور مخلوق ہیں جس طرح تم ہو اور اللہ تعالیٰ کے مملوک و مخلوق کسی طرح پوجے جانے کے قابل نہیں ، اس کے باوجود بھی اگر تم انہیں اپنا معبود کہتے ہو تو تم نفع پہچانے اور نقصان دور کرنے کے سلسلے میں انہیں پکارو ، پھر اگر تم اپنے گمان کے مطابق سچے ہو کہ یہ اس چیز ک...

علم غیب کے انکار کی حکمت

علم غیب کے انکار کی حکمت :-*   ترجمۂ کنز العرفان              تم فرماؤ، میں اپنی جان کے نفع اور نقصان کا خود مالک نہیں مگر جواللہ چاہے اور اگر میں غیب جان لیا کرتا تومیں بہت سی بھلائی جمع کرلیتا اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچتی۔ میں تو ایمان والوں کو صرف ڈراور خوشخبری سنانے والا ہوں ۔  تفسیر صراط الجنان                {قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ  :  تم فرماؤ، میں اپنی جان کے نفع اور نقصان کا اتنا ہی مالک ہوں جتنا اللہ چاہے ۔} آیت کا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اس آیت میں حضورِ اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کمال درجے کی عاجزی، عظمت ِ الہٰی اور عقیدہ ِ توحید کے اظہار کا حکم فرمایا گیا کہ سرکارِ دوعالم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس جو قدرت و اختیار اور علم ہے خواہ اپنی ذات کے متعلق یا دوسروں کے بارے میں ، یونہی دنیاوی چیزوں کے بارے میں یا قیامت، آخرت اور جنت کے بارے میں وہ تمام کا...