مومن کی فراست سے ڈرو وہ اللہ‎ کے نور سے دیکھتا ہیں منافق کی منافقت سے ڈرو وہ ہر اچھے عمل میں بدعت شرک دیکھتا ہیں

مومن کی فراست سے ڈرو وہ اللہ‎ کے نور سے دیکھتا ہیں منافق کی منافقت سے ڈرو  وہ ہر اچھے عمل میں بدعت شرک دیکھتا ہیں :-*
  ترجمۂ کنز العرفان       
اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو تمہیں حق و باطل میں فرق کردینے والا نور عطا فرما دے گا اور تمہارے گناہ مٹا دے گا اور تمہاری مغفرت فرما دے گا اوراللہ بڑے فضل والا ہے۔
 تفسیر صراط الجنان         
  { اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ : اگر تم اللہ  سے ڈرو گے۔}جو شخص رب تعالیٰ سے ڈرے اور اس کے حکم پر چلے تو اللہ  تعالیٰ اسے تین خصوصی انعام عطا فرمائے گا ۔       
پہلا انعام یہ کہ اسے فُرقان عطا فرمائے گا۔ یعنی  اللہ  تعالیٰ اس کے دل کو ایسا نور اور توفیق عطا کرے گا جس سے وہ حق و باطل کے درمیان فرق کر لیا کرے۔ *(خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۹، ۲ / ۱۹۱)*                   
مومن کی فراست کے بارے میں حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا’’  اِتَّقُوْا فَرَاسَۃَ الْمُؤْمِنِ فَاِنَّہٗ یَنْظُرُ بِنُوْرِ اللہِ ‘‘ مومن کی فراست و دانائی سے ڈرو وہ  اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ *(معجم الاوسط، باب الباء، من اسمہ بکر، ۲ / ۲۷۱ ، الحدیث:  ۳۲۵۴)*       
امیر المومنین حضرت عثمان غنی  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دورِ خلافت میں ایک مرتبہ ایک شخص آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی بارگاہ میں حاضر ی کے لئے جا رہا تھا کہ راستے میں ایک اجنبیہ عورت پر اس کی نگاہ پڑ گئی۔ جب حضرت عثمان غنی  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا: ہمارے پاس بعض حضرات اس حالت میں آتے ہیں کہ ان کی آنکھ میں زنا کا اثر ہوتا ہے۔ اس شخص نے عرض کی : کیا ابھی وحی بند نہیں ہوئی؟ فرمایا : یہ وحی نہیں بلکہ مومن کی فراست ہے۔  *(تفسیر قرطبی، الحجر، تحت الآیۃ: ۷۵ ، ۵ / ۳۳ ، الجزء العاشر )*           
دوسرا انعام یہ کہ اس کے سابقہ گناہ مٹا دیئے جائیں گے اور تیسرا نعام یہ ہے کہ  اللہ  تعالیٰ اس کے عیبوں کو چھپا لے گا

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-