Posts

Showing posts from October, 2022

*Kya Jo Kam Huzoor ﷺ Ne Na Kiya Wo Bhi Bid'at Gumrahi Hai* ❓

*Kya Jo Kam Huzoor ﷺ Ne Na Kiya Wo Bhi Bid'at Gumrahi Hai* ❓🔍 Kuch Log Kehte Hai Huzoor ﷺ Ne Jo Na Kiya Aur Na Hukm Diya Wo Kam Karna Bid'at Gumrahi Aur Jahennam Me Le Jane Wala Kam Hai_ ❓ *Bukhari* Vol *2* Hadees *1177* _Hazrat Ayesha Siddiqa رضي الله عنها Farmati Hain Huzoor ﷺ Ne Kabhi Chasht Ki Namaz Nahi Padhi_ *Lekin Me Khud Padhti Hon* *Hazrat Ayesha رضي الله عنها Wo Kam Karti Jo Huzoor ﷺ Ne Na Kiya But Aap Karti Thi* _To Maloom Hua Ki Jo Acche Kam Hai Usko Bhale Hi Aaqa ﷺ Ne Kiye Aur Na Hukm Diya To Wo Karna Bid'at Nahi Aur Na Galat Balke Ye Sahabiya Se Sabit Hai Warna Ummat Ki Maa Kabhi Aisa Na Karti_ 📗📄👇🏼

Innovation, in the (Bid'at)light of facts

☆ Innovation, in the   (Bid'at)light of facts  Question: What is the literal meaning of innovation?  ●Answer: 'Innovation' is an Arabic word which means 'inventing something new without any precedent.  So, in the famous book of Arabic dictionary, Al-Manjad, the meaning of innovation is defined as “Ikhtira wa Sanaa la ali example” which means creating and inventing something new without any previous example.  ○Question: What is called heresy in the language of Shariat?  Answer: In the Shari'ah, innovation is defined as anything that did not happen during the blessed time of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him), so Imam Yahya bin Sharaf Nawi, while praising innovation, writes: "Al-Bida'a hai ahahad malam yakin fi ahad Rasulullah Swallallaahu 'alaihi wa sallam" is such an innovation.  It is to invent a new work which did not exist in the era of Prophet Muhammad (peace be upon him).  (Nawi, Tahzeeb Asmaa Wal-Lught. 3:22.) ...

☆ بدعت، حقائق کے اُجالے میں

☆ بدعت، حقائق کے اُجالے میں ○سوال: بدعت کا لغوی معنی کیا ہے؟ ●جواب: ’بدعت‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہوتا ہے ’کسی سابقہ نمونہ کے بغیر کوئی نئی چیز ایجاد کرنا۔ چنانچہ عربی لغت کی مشہور کتاب ’المنجد‘ میں بدعت کا معنی یوں بیان کیا گیا ہے’اخترعه وصنعه لا علی مثال‘ یعنی کسی سابقہ مثال کے بغیر کوئی نئی چیز بنانا اور ایجاد کرنا ○سوال: شریعت کی زبان میں بدعت کسے کہتے ہیں ؟ ●جواب: شریعت میں بدعت ہر اس کام کو کہتے ہیں جو حضور ﷺ کے زمانہ مبارک میں نہ ہوا، چنانچہ امام یحییٰ بن شرف نووی بدعت کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’البدعة ھی احداث ما لم یکن فی عھد رسول اللہ ﷺ‘ بدعت ایسے نئے کام کا ایجاد کرنا ہے جو عہد رسالت مآب ﷺ میں نہ ہو- (نووی ،تہذیب الاسماء واللغت۔۳:۲۲۔) کچھ لوگ بدعت کی تعریف اس طرح سے کرتے ہیں کہ: وہ کام جو حضور ﷺاور خلفائے راشدین کے زمانے میں نہ ہوا وہ بدعت ہے۔ حالانکہ یہ تعریف خود ساختہ ہے جسے کسی عالم نے نہیں بیان کیا۔ اور صحیح حدیث کی روشنی میں بالکل غلط ہے۔ کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں تراویح کے نماز کی باضابطہ جماعت قائم کرنے کے بعد ارشاد فر مایا کہ: یہ ک...

حضرت ذوالقرنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا علم غیب قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کا نکلنا :-

حضرت ذوالقرنین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کا علم غیب قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کا نکلنا :-  ترجمۂ کنز الایمان کہا یہ میرے رب کی رحمت ہے پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا اسے پاش پاش کردے گا اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔( سورۃ الکہف آیت نمبر 98)  تفسیر صراط الجنان {قَالَ:کہا۔} حضرت ذوالقرنین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے کہا کہ یہ دیوار میرے رب عَزَّوَجَلَّ کی رحمت اور اس کی نعمت ہے کیونکہ یہ یاجوج اور ماجوج کے نکلنے میں  رکاوٹ ہے، پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا اور قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کے خُروج کا وقت آپہنچے گا تو میرا رب عَزَّوَجَلَّ اس دیوار کو پاش پاش کردے گا اور میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے ان کے نکلنے کا جو وعدہ فرمایا ہے وہ اور اس کے علاوہ ہر وعدہ سچا ہے۔( خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۹۸، ۳ / ۲۲۶، جلالین، الکہف، تحت الآیۃ: ۹۸، ص۲۵۲، ملتقطاً)  یاجوج اور ماجوج کے نکلنے سے متعلق ترمذی شریف میں  حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  ...