حضرت جبریل کے گھوڑے کے قدم کی خاک کی برکت سے بے جان بچھڑا بولنے لگا
حضرت جبریل کے گھوڑے کے قدم کی خاک کی برکت سے بے جان بچھڑا بولنے لگا :-* ترجمۂ کنز العرفان تو اس نے ان لوگوں کے لیے ایک بے جان بچھڑا نکال دیا جس کی گائے جیسی آواز تھی تو لوگ کہنے لگے: یہ تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا معبود ہے اور موسیٰ بھول گئے ہیں *۔(سورۃ طٰہٰ آیت نمبر 88)* تفسیر صراط الجنان { فَاَخْرَ جَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا : تو اس نے ان لوگوں کے لیے ایک بے جان بچھڑا نکال دیا۔}یہ بچھڑا سامری نے بنایا اور اس میں کچھ سوراخ اس طرح رکھے کہ جب ان میں ہوا داخل ہو تو اس سے بچھڑے کی آواز کی طرح آواز پیدا ہو ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ اَسْپِ جبریل کی خاک زیرِ قدم ڈالنے سے زندہ ہو کر بچھڑے کی طر ح بولتا تھا۔ *(خازن، طہ، تحت الآیۃ : ۸۸ ،۳ / ۲۶۱)* { فَقَالُوْا : تولوگ کہنے لگے۔} یعنی بچھڑے سے آواز نکلتی دیکھ کرسامری اور اس کے پیروکار کہنے لگے: یہ تمہارا معبود ہے اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا معبود ہے اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ...