Posts

Showing posts from June, 2020

حضرت جبریل کے گھوڑے کے قدم کی خاک کی برکت سے بے جان بچھڑا بولنے لگا

حضرت جبریل کے گھوڑے کے قدم کی خاک کی برکت سے بے جان بچھڑا بولنے لگا :-*   ترجمۂ کنز العرفان        تو اس نے ان لوگوں کے لیے ایک بے جان بچھڑا نکال دیا جس کی گائے جیسی آواز تھی تو لوگ کہنے لگے: یہ تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا معبود ہے اور موسیٰ بھول گئے ہیں *۔(سورۃ طٰہٰ آیت نمبر 88)*  تفسیر صراط الجنان          { فَاَخْرَ جَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا  :  تو اس نے ان لوگوں  کے لیے ایک بے جان بچھڑا نکال دیا۔}یہ بچھڑا سامری نے بنایا اور اس میں  کچھ سوراخ اس طرح رکھے کہ جب ان میں  ہوا داخل ہو تو اس سے بچھڑے کی آواز کی طرح آواز پیدا ہو ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ اَسْپِ جبریل کی خاک زیرِ قدم ڈالنے سے زندہ ہو کر بچھڑے کی طر ح بولتا تھا۔ *(خازن، طہ، تحت الآیۃ :  ۸۸ ،۳ / ۲۶۱)*    { فَقَالُوْا :  تولوگ کہنے لگے۔} یعنی بچھڑے سے آواز نکلتی دیکھ کرسامری اور اس کے پیروکار کہنے لگے: یہ تمہارا معبود ہے اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا معبود ہے اور حضرت موسیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ...

اہلِ ایمان کی شفاعت کی دلیل حضور ﷺ نے علم غیب سے سب کچھ ظاہر کر دیا کون کس کی شفاعت کریگا اپنی شفاعت چاہتے ہو تو اپنے علم پر اعتراض کروں نہ کے شفاعت کرنے والے نبی پر

اہلِ ایمان کی شفاعت کی دلیل حضور ﷺ نے علم غیب سے سب کچھ ظاہر کر دیا کون کس کی شفاعت کریگا اپنی شفاعت چاہتے ہو تو اپنے علم پر اعتراض  کروں نہ کے شفاعت کرنے والے نبی پر :-* ترجمۂ کنز العرفان    اس دن کسی کی شفاعت کام نہ دے گی سوائے اس کے جسے رحمٰن نے اجازت دیدی ہو اور اس کی بات پسند فرمائی ہو۔  علامہ علی بن محمد خازن   رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  :یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے قیامت کے دن مومن   کے علاوہ کسی اور کی شفاعت نہ ہو گی اور کہا گیا ہے کہ شفاعت کرنے والے کا درجہ بہت عظیم ہے اور یہ اسے ہی حاصل ہو گا جسے  اللہ تعالیٰ اجازت عطا فرمائے گا اور وہ  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  پسندیدہ ہو گا۔  *(خازن، طہ، تحت الآیۃ  :۱۰۹  ،۳ / ۲۶۴)*  شفاعت سے متعلق  6 اَحادیث:  یاد رہے کہ  اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے مقبول بندوں  کو گناہگار مسلمانوں  کی شفاعت کرنے کی اجازت عطا فرمائے گا اور یہ مقرب بندے  اللہ  تعالیٰ کی دی ہوئی اجازت سے گناہگاروں کی شفاع...

اللہ‎ تعالیٰ کی ذات صفات کا کوئی احاطہ نہیں کر سکتا مگر اہلے حدیث فرقے نے اللہ‎ تعالیٰ کو عرش تک محدود کر دیا حالانکہ حدیث میں ذکر ہیں اللہ‎ تعالیٰ جگہ سے پاک ہیں قرآن حدیث میں جہاں بھی اللہ‎ تعالیٰ کے لئے جسم کے اعضاء کا ذکر ہیں اس کا حقیقی معنی اللہ‎ جانے جو جگہ پر موجود ہوتا ہے وہ جگہ سے بڑا نہیں ہو سکتا اللہ سب سے بڑا ہیں

اللہ‎ تعالیٰ کی ذات صفات کا کوئی احاطہ نہیں کر سکتا مگر اہلے حدیث فرقے نے اللہ‎ تعالیٰ کو عرش تک محدود کر دیا حالانکہ حدیث میں ذکر ہیں اللہ‎ تعالیٰ جگہ  سے پاک ہیں قرآن حدیث میں جہاں بھی اللہ‎ تعالیٰ کے لئے جسم کے اعضاء کا ذکر ہیں اس کا حقیقی معنی اللہ‎ جانے  جو  جگہ پر موجود ہوتا ہے وہ جگہ سے بڑا نہیں ہو سکتا اللہ سب سے بڑا ہیں :-*   ترجمۂ کنز العرفان        وہ جانتا ہے جو کچھ ان لوگوں کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور لوگوں کا علم اسے نہیں گھیر سکتا۔ *(سورۃ طٰہٰ آیت نمبر 110)*  تفسیر صراط الجنان          {  یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ  :وہ جانتا ہے جو کچھ ان لوگوں  کے آگے ہے ۔} یعنی اللہ تعالیٰ کا علم بندوں  کی ذات و صفات، ان کے گزشتہ اور آئندہ کے تمام اَحوال اور دنیا و آخرت کے جملہ اُمور کا اِحاطہ کئے ہوئے ہے ۔    { وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا  : اور لوگوں کا علم اسے نہیں  گھیر سکتا ۔}  یعنی پوری کائنات کا علم   اللہ تعالیٰ کی ذات کا اح...

تمام نبی بشر ہوتے ہیں کہنے اور ماننے میں فرق ہوتا اپنے جیسا بشر کہنا برابری کے لئے ہوتا ہیں اگر اس فرق کو نہیں سمجھتے ہو تو گنہگار باپ کو بھی گنہگار کہا کرو

تمام نبی بشر ہوتے ہیں  کہنے اور ماننے میں فرق ہوتا اپنے جیسا بشر کہنا برابری کے لئے ہوتا ہیں اگر اس فرق کو نہیں سمجھتے ہو تو گنہگار باپ کو بھی گنہگار کہا کرو :-*   ترجمۂ کنز العرفان      ان کے دل کھیل میں پڑے ہوئے ہیں اور ظالموں نے آپس میں خفیہ مشورہ کیا کہ یہ (نبی) تمہارے جیسے ایک آدمی ہی تو ہیں تو کیا تم خود دیکھنے کے باوجود جادو کے پاس جاتے ہو؟ *(سورۃ انبیاء آیت نمبر 3)*  تفسیر صراط الجنان        {   لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ   :ان کے دل کھیل میں  پڑے ہوئے ہیں  ۔} دل کھیل میں  پڑے ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ  اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل ہیں  اور بعض مفسرین فرماتے ہیں  کہ جو دل دنیا کے احوال میں  مشغول اور آخرت کے احوال سے غافل ہو وہ کھیل میں  پڑ اہوا ہے۔ *(خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ  : ۳ ، ۳ / ۲۷۱ ، روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ : ۳ ، ۵ / ۴۵۲ ، ملتقطاً )*  {    وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى ﳓ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا   :  اور ظالموں  نے آپس ...

فرشتوں کی تسبیح کی کیفیت حضور ﷺ نے ہمیں علم غیب سے بتایا جنّت میں مومن کی تسبیح بھی ایسے ہوگی دنیا میں کم سے کم اتنا تو ہو چلتے پھر تے تسبیح پڑھی جائے

فرشتوں  کی تسبیح کی کیفیت حضور ﷺ نے ہمیں علم غیب سے بتایا جنّت میں مومن کی تسبیح بھی ایسے ہوگی دنیا میں کم سے کم اتنا تو ہو چلتے پھر تے تسبیح پڑھی جائے :-*   ترجمۂ کنز العرفان       *رات اور دن اس کی پاکی بیان کرتے ہیں ،وہ سستی نہیں کرتے۔*  تفسیر صراط الجنان        {   یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ   :   رات اوردن اس کی پاکی بیان کرتے ہیں ۔}   یعنی فرشتے ہر وقت اللہ  تعالیٰ کی تسبیح اور پاکی بیان کرتے رہتے ہیں  اور اس میں     وہ کسی طرح کی سستی نہیں  کرتے۔   *( خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ   : ۲۰، ۳ / ۲۷۳)*   علامہ اسماعیل حقی  رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’فرشتوں  کے لئے تسبیح ایسے ہے جیسے ہمارے لئے سانس لینا تو جس طرح ہمارا کھڑ ا ہونا ، بیٹھنا،کلام کرنا اور دیگر کاموں  میں  مصروف ہونا ہمیں  سانس لینے سے مانع نہیں  ہوتا اسی طرح فرشتوں کے کام انہیں  ...

حضور ﷺ کا یہ کہنا میں نے کبھی حضرت اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا ایسا وہی کہہ سکتا ہیں جس نے اس کی پوری زندگی کا مشاہدہ کیا ہو فرشتوں کا خوفِ خدا:

حضور ﷺ کا یہ کہنا میں نے کبھی حضرت اسرافیل  عَلَیْہِ السَّلَام  کو ہنستے ہوئے نہیں  دیکھا ایسا وہی کہہ سکتا ہیں جس نے اس کی پوری زندگی کا مشاہدہ کیا ہو فرشتوں  کا خوفِ خدا: -* فرشتے  اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر، اس کی پکڑ اور اس کے قہر سے کس قدر خوف زدہ رہتے ہیں اس سلسلے میں  4  اَحادیث ملاحظہ ہوں  (1) حضرت جابر   رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ  سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہ    تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا ’’میں معراج کی رات فرشتوں  کے پاس سے گزرا تو حضرت جبرئیل  عَلَیْہِ  السَّلَام   اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے اس چادر کی طرح تھے جو اونٹ کی پیٹھ پر ڈالی جاتی ہے۔  *(معجم الاوسط، باب العین، من اسمہ عبد الرحمٰن  ، ۳ / ۳۰۹،   الحدیث  : ۴۶۷۹)*  (2) ایک روایت میں ہے کہ حضرت جبرئیل   عَلَیْہِ  السَّلَام  سیّد المرسَلین  صَلَّی  اللہ    تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰل...

HER HADEES KA TALUK MUSLMAN SE NAHI HOTA

*SHEIKH NAJDI. HER HADEES KA TALUK MUSLMAN SE NAHI HOTA* َ            [किस्त - - 1] 1]💥इस्लाम में कुफ्फार मुर्दे और मोमिन मुर्दो का फर्क (अन्तर) : 💥 💥✒️ शेख नज्दी (मोहम्मद बिन अब्दुल वहाब), जो हम्फ्रे और लॉरेंस नामक  यहूदी और ईसाई जासूस के संपर्क में था , वह न केवल सहाबा कराम (रिज्वान-अल्लाह तआला अलैहिम अज्मइन) के मकबरों को ध्वस्त कर दिया, बल्कि पवित्र रौज-ए-अकदस (ﷺ) को भी ध्वस्त करने का इरादा रखता था। यह उसकी हार्दिक शत्रुता का परिणाम था - यही कारण है कि उनके अनुयायियों के लेखन, नज्दिया - वहाबीया संप्रदाय के बड़े मुल्लों के किताबों में अल्लाह  के प्यारों के लिए अपमान से भरे हुए हैं। जिसका जी चाहे वो नज्दी मुल्ला इस्माईल देहलवी, सिद्दीक हसन भोपाली, खुर्रम अली और रशीद अहमद गंगोही आदि के अमान्य लेखन को उठाएँ और देखें कि वे सभी प्रकार के अपमानों से भरे हैं। उनमें से एक! अम्बिया (अलैहिमुस्सलाम), शोहदा और अल्लाह के वलीयों की कब्रों का अपमान कर ध्वस्त करना इस संप्रदाय का आदर्श बन गया है। 1) 🖍️ - इस शीर्षक के तहत सबसे पहले 'काफीर' और "मोमीन" मुर...

مخلوق کے دل میں اولیا اللہ کی محبت ڈالنا اللہ‎ تعالیٰ اور فرشتوں کی طرف سے ہوتا* *ان کی نفرت ڈالنا شیطان کا کام ہیں گنہہ تو ہر جگہ ہوتا بد نام صرف مزار کو کیوں کیا جاتا ہیں* *محبوبیت کی دلیل اور ولی کی علامت:

مخلوق کے دل میں اولیا اللہ کی محبت  ڈالنا اللہ‎ تعالیٰ اور فرشتوں کی طرف سے ہوتا*  *ان کی نفرت ڈالنا شیطان کا کام ہیں گنہہ تو ہر جگہ ہوتا بد نام صرف مزار کو کیوں کیا جاتا ہیں*  *محبوبیت کی دلیل اور ولی کی علامت: --*  حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پُر نور  صَلَّی  اللہ   تَعَالٰی   عَلَیْہِ   وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جب  اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبریل  عَلَیْہِ  السَّلَام  کو ند اکی جاتی ہے کہ  اللہ  تعالیٰ فلاں   بندے سے محبت رکھتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو۔ حضرت جبریل  عَلَیْہِ   السَّلَام اس سے محبت کرتے ہیں ۔ پھر حضرت جبریل  عَلَیْہِ السَّلَام آسمانی مخلوق میں ندا کرتے ہیں کہ  اللہ  تعالیٰ فلاں بندے سے محبت فرماتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو، چنانچہ  آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ، پھر زمین والوں  میں  اس کی مقبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ *(بخاری،...

ادب کی کوئی حد نہیں جتنا ذیارہ ادب ہوگا اتنا تقویٰ پرہیزگاری ہوگی ادب کو شرک بدعت حرام کہنا گمراہی ہے جو ادب سریت کے مخالف ہو وہی گمراہی ہیں مقدس جگہ کا ادب و احترام کرنا چاہئے کہ یہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے۔ اسی وجہ سے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاءِ عظام رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کے مزارات اور اس سرزمین کا ادب کیا جاتا ہے جہاں وہ آرام فرما ہیں ۔ ہمارے بزرگانِ دین مقدس مقامات کا ادب کس طرح کیا کرتے تھے اس سلسلے میں ایک حکایا ت ملاحظہ ہو

ادب کی کوئی حد نہیں جتنا ذیارہ ادب ہوگا اتنا تقویٰ پرہیزگاری ہوگی  ادب کو شرک بدعت حرام کہنا گمراہی ہے  جو ادب سریت کے مخالف ہو وہی گمراہی ہیں مقدس جگہ کا ادب و احترام کرنا چاہئے کہ یہ انبیاءِ کرام  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی سنت ہے۔ اسی وجہ سے انبیاءِ کرام  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  اور اولیاءِ عظام  رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِمْ  کے مزارات اور اس سرزمین کا ادب کیا جاتا ہے جہاں وہ آرام فرما ہیں ۔ ہمارے بزرگانِ دین مقدس مقامات کا ادب کس طرح کیا کرتے تھے اس سلسلے میں ایک حکایا ت ملاحظہ ہو :-*      ترجمۂ کنز العرفان       *پھر وہ جب آگ کے پاس آئے تو ندا فرمائی گئی کہ اے موسیٰ۔ بیشک میں تیرا رب ہوں تو تو اپنے جوتے اتار دے بیشک تو پاک وادی طویٰ میں ہے۔* حضرت امام شافعی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  : میں  نے  (مدینہ منورہ میں ) حضرت امام مالک رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کے دروازے پر خراسان کے گھوڑوں کا ایک ایسا ریوڑ دیکھا  کہ میں...

سوال پوچھنے کی وجہ لاعلمی ہونا ضرور ی نہیں علم غیب کے منکر ایسی حدیث کو دلیل بناتے حضرت عبد اللہ بن انیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو حضور ﷺ عصا کے ساتھ جنت میں چہل قدمی کی بصارت دی

سوال پوچھنے کی وجہ لاعلمی ہونا ضرور ی نہیں علم غیب کے منکر ایسی حدیث کو دلیل بناتے  حضرت  عبد اللہ  بن انیس  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کو حضور ﷺ عصا کے ساتھ جنت میں چہل قدمی  کی بصارت دی :-*  ترجمۂ کنز العرفان           *اور اے موسیٰ! یہ تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟*  تفسیر صراط الجنان            { وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى  :اور اے موسیٰ! یہ تمہارے دائیں  ہاتھ میں  کیا ہے؟} اس سوال کی حکمت یہ ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  اپنے عصا کو دیکھ لیں  اور یہ بات قلب میں  خوب راسخ ہوجائے کہ یہ عصا ہے تاکہ جس وقت وہ سانپ کی شکل میں  ہو تو آپ کے خاطر مبارک پر کوئی پریشانی نہ ہو یا یہ حکمت ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو مانوس کیا جائے تاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے کلام کی ہیبت کا اثر کم ہو۔ *(مدارک، طہ، تحت الآیۃ : ۱۷ ، ص ۶۸۸)*        اس آیت سے معلوم ہوا کہ سوال ہمیشہ...

اولیا اللہ‎ کو اِلہام سے بھی علم غیب حاصل ہوجاتا ہیں

اولیا اللہ‎ کو اِلہام سے بھی علم غیب  حاصل ہوجاتا ہیں :-*  ترجمۂ کنز العرفان  جب ہم نے تمہاری ماں کے دل میں وہ بات ڈال دی جو اس کے دل میں ڈالی جانی تھی۔ *(سورۃ طٰہٰ آیت نمبر 38)*  تفسیر صراط الجنان    { اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ :جب ہم نے تمہاری ماں کے دل میں  وہ بات ڈال دی ۔}  اس سے پہلی آیت میں  اللہ  تعالیٰ نے جس احسان کا تذکرہ فرمایا یہاں  سے اس کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ جب آپ کی ولادت کے وقت آپ کی ماں کویہ اندیشہ ہوا کہ فرعون آپ کو قتل کر ڈالے گا تو ہم نے اس کے دل میں   ڈال کر یا خواب کے ذریعے سے اِلہام کیا کہ اس بچے کو صندوق میں  رکھ کر دریائے نیل میں   ڈال دے، پھر دریا اسے کنارے پر ڈال دے گا تاکہ اسے وہ فرعون اٹھالے جو میرا بھی دشمن ہے اور اس کا بھی دشمن ہے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ  عَلَیْہِ   الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی والدہ نے ایک صندو ق بنایا اور اس میں  روئی بچھائی اور حضرت موسیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو اس میں ...

آزر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا باپ تھا یا چچا؟*

آزر حضرت ابراہیم  عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   کا باپ تھا یا چچا؟*     ترجمۂ کنز العرفان    جب اپنے باپ سے فرمایا: اے میرے باپ! تم کیوں ایسے کی عبادت کررہے ہو جو نہ سنتا ہے اور نہ دیکھتا ہے اور نہ تجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔  تفسیر صراط الجنان      {  اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ  :جب اپنے باپ سے فرمایا: اے میرے باپ! تم کیوں ایسے کی عبادت کررہے ہو۔}   اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم   عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  نے اپنے بت پرست  (عُرفی)   باپ آزَر سے فرمایا ’’ عبادت معبود کی انتہائی تعظیم ہے اور اس کا وہی مستحق ہو سکتا ہے جو اوصاف وکمال والا اور نعمتیں  دینے والا ہو اور وہ صرف  اللہ تعالیٰ ہے جس کا کوئی شریک نہیں ، اس لئے عبادت کا مستحق بھی صرف وہی ہے، جبکہ تم جن بتوں  کی عبادت کررہے ہو ان کا حال یہ ہے کہ یہ نہ توسنتے ہیں ، نہ دیکھتے ہیں    اور نہ ہی تمہارے کسی کام آسکتے ہیں  بلکہ یہ خود تمہا...

موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام زمین سے لوہے محفوظ کے قلم کی آواز سنن سکتے ہیں

موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام زمین سے لوہے محفوظ کے قلم کی آواز سنن سکتے ہیں :-*  ترجمۂ کنز العرفان        اور ہم نے اسے طور کی دائیں جانب سے پکارا اور ہم نے اسے اپنا راز کہنے کیلئے مقرب بنایا۔ *(سورۃ مریم آیت نمبر 52)*  تفسیر صراط الجنان          {وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ  :اور ہم نے اسے طور کی دائیں  جانب سے پکارا ۔}     طور ایک پہاڑ کا نام ہے جو مصر اور مَدْیَن کے درمیان ہے۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مدین سے آتے ہوئے طور کی اس جانب سے جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کے دائیں  طرف تھی ایک درخت سے ندا دی گئی    ’ یٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ  *(قصص  : ۳۰)*     *ترجمہکنزُالعِرفان*    :اے موسیٰ میں  ہی  اللہ  ہوں ، تمام جہانوں  کا پالنے والا ۔     اس کے بعد  اللہ  تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ ...

حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام غیب کی خبریں دینے والے رسول ہیں

حضرت اسماعیل  عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام غیب کی خبریں دینے والے رسول ہیں :-*   ترجمۂ کنز العرفان        اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو بیشک وہ وعدے کا سچا تھا اور غیب کی خبریں دینے والارسول تھا۔ *(سورۃ مریم آیت نمبر 54)*  تفسیر صراط الجنان          { وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ  :  اور کتاب میں  اسماعیل کو یاد کرو۔}  حضرت اسماعیل  عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  حضرت ابراہیم  عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے فرزند ہیں      اور سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  آپ  عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد سے ہیں ۔  اس آیت میں  حضرت اسماعیل  عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کے دو وصف بیان کئے گئے۔    (1) آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  وعدے کے سچے تھے ۔ یاد رہے کہ تمام انبیاءِ کرام  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  وعدے کے سچے...

قرآنِ مجید کا درس دینے سے متعلق اہم تنبیہ قرآن کی آیت سے خود عقیدہ بنانا گمراہی ہیں اس لئے بینا تفسیر پڑھنے والے گمراہ ہوتے ہیں مفسرین قرآن کی تفسیر اس طرح کرتے ہیں کسی بھی آیت کے خلاف نہ ہو عام انسان قرآن کی ہر آیت کی حکمت اس کا نزول کا مقصد یاد نہیں رکھ سکتا

قرآنِ مجید کا درس دینے سے متعلق اہم تنبیہ قرآن کی آیت سے خود عقیدہ بنانا گمراہی ہیں اس لئے بینا تفسیر پڑھنے والے گمراہ ہوتے ہیں مفسرین قرآن کی تفسیر اس طرح کرتے ہیں کسی بھی آیت کے خلاف نہ ہو عام انسان قرآن کی ہر آیت کی حکمت اس کا نزول کا مقصد یاد نہیں رکھ سکتا :-* یاد رہے کہ جو شخص عالِم نہیں  اس کا درسِ قرآن دینا جائز نہیں ہاں  اگر وہ کسی سُنّی ، صحیح العقیدہ ماہر عالِم کی لکھی ہوئی تفسیر سے صرف وہی الفاظ پڑھ کر سناتا ہے جو انہوں  نے لکھے ہیں  اور اس کی اپنی طرف سے کوئی وضاحت یا تشریح نہیں  کرتا تو یہ جائز ہے، یونہی علماء میں  سے بھی انہیں  ہی درسِ قرآن دینا چاہئے جنہوں  نے معتبر علماءِ کرام کی تفاسیر، اَحادیث اور ان کی شروحات، فقہی اَحکام اور دیگر ضروری علوم کا مُعْتَدْبِہا   (اچھا خاصا)   مطالعہ کیا ہو۔ درسِ قرآن دینے والا ہر شخص ان  3   اَحادیث کو ضرور اپنے پیش ِنظر رکھے :  (1)  حضرت  عبد اللہ  بن عباس  رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا   سے روایت ہے، حضورِ ا...

نماز کی قرات میں کھڈے ہو کر حضرت یحیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر سلام پڑھنے والے حضور ﷺ پر کھڈے ہو کر سلام پر اعتراض کرنے والے نبی مرتے نہیں انتقال کرتے ہیں مرتے وہ ہیں جو دنیا کے لئے جیتے ہیں

نماز کی قرات میں کھڈے ہو کر حضرت یحیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر سلام پڑھنے والے حضور ﷺ پر کھڈے ہو کر  سلام پر اعتراض کرنے والے نبی مرتے نہیں انتقال کرتے ہیں مرتے وہ ہیں جو دنیا کے لئے جیتے ہیں :-*   ترجمۂ کنز العرفان        اور اس پر سلامتی ہے جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ فوت ہوگا اورجس دن وہ زندہ اٹھایا جائے گا۔ *(سورۃ مریم آیت نمبر 15)*  تفسیر صراط الجنان          { وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ  :  اور اس پر سلامتی ہے ۔}  یعنی جس دن حضرت یحیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  پیدا ہوئے اس دن ان کے لئے شیطان سے امان ہے کہ وہ عام بچوں کی طرح آپ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کونہ چھوئے گا اور جس دن آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وفات پائیں  گے اس دن ان کے لئے عذابِ قبرسے امان ہے اور جس دن آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   کو زندہ اٹھایا جائے گا اس دن ان کے لئے قیامت کی سختی سے امان ہے ۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ پیدا ہونے، وفات پانے  اور زندہ ا...

اولیا اللہ‎ اور انبیاء کرام کو اگر بیٹا دینے والا کہے تو بد مذہب والوں کو شرک نظر آتا ہیں شرک ہر حال میں شرک ہوتا چائے حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام بیٹا دے یہ اپنی جہالت میں ذاتی اور عطائی کے فرق کو نہیں سمجھتے یا پھر انبیاء کرام کو فرشتوں سے کمتر ثابت کرنا چاہتے ہیں

اولیا اللہ‎ اور انبیاء کرام کو اگر بیٹا دینے والا کہے تو بد مذہب والوں کو شرک نظر آتا ہیں  شرک ہر حال میں شرک ہوتا چائے حضرت جبرئیل  عَلَیْہِ السَّلَام بیٹا دے یہ اپنی جہالت میں ذاتی اور عطائی کے فرق کو نہیں سمجھتے یا پھر انبیاء کرام کو فرشتوں سے کمتر ثابت کرنا چاہتے ہیں :-*  ترجمۂ کنز العرفان    مریم بولی: میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تجھے خدا کا ڈر ہے۔ کہا: میں توتیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں تا کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروں ۔ *(سورۃ مریم آیت نمبر 18/19)*  تفسیر صراط الجنان      {  قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ  :مریم بولی: میں تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں۔} جب حضرت مریم  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہا  نے خَلْوَت میں اپنے پاس ایک بے ریش نوجوان کو دیکھا تو خوفزدہ ہوگئیں  اور فرمایا کہ میں تجھ سے  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگتی ہوں ، اگر تم میں کچھ خدا خوفی ہے تو یہاں  سے چلے جاؤ۔ اس کلام سے آپ کی انتہائی پاکدامنی اور تقویٰ کا پتہ چلتا ہے کہ آپ نے چیخ کر کسی ا...

کسی بھی نبی کا نبوت کا علان نبوت ملنے کا وقت نہیں ہوتا نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بچپن میں ملنے والے عظیم ترین فضائل

کسی بھی نبی کا  نبوت کا علان نبوت ملنے کا وقت نہیں ہوتا نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کو بچپن میں  ملنے والے عظیم ترین فضائل:-*    ترجمۂ کنز العرفان          بچے نے فرمایا: بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں ، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔ *(سورۃ مریم آیت نمبر 30)* علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے چار بچوں  کو چار چیزوں  کے ساتھ فضیلت عطا کی:      (1) حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو کنویں  میں  وحی کے ساتھ فضیلت دی۔     (2) حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو جھولے میں کلام کرنے کے ساتھ فضیلت دی۔     (3) حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو فہم سے فضیلت دی۔     (4) حضرت یحیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو بچپن میں  نبوت عطا کر کے فضیلت دی۔    اور سب سے عظیم فضیلت اور سب سے بڑی نشانی وہ ہے جو ...

انبیاء کرام قیامت کی گبراہٹ سے محفوظ ہوتے ان پر ہر وقت ہر حال میں سلام بھیجنا جائزے ہیں قرآن میں کوئی پابندی نہیں کھڑے ہو کر بیٹھ کر جیسا چاہوں پڑھوں

انبیاء کرام قیامت کی گبراہٹ سے محفوظ ہوتے ان پر ہر وقت ہر حال میں سلام بھیجنا جائزے ہیں قرآن میں کوئی پابندی نہیں  کھڑے ہو کر بیٹھ کر جیسا چاہوں پڑھوں :-*   ترجمۂ کنز العرفان    اور مجھ پر سلامتی ہو جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن وفات پاؤں اور جس دن زندہ اٹھایا جاؤں ۔ *(سورۃ مریم آیت نمبر 33)*  تفسیر صراط الجنان      {  وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ  :اور مجھ پر سلامتی ہو۔}   آخر میں حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  نے ویساہی کلام کیا جوگزشتہ رکوع میں  حضرت یحیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کے حوالے سے گزر چکا ہے کہ میں  جس دن پیدا ہوا اس دن مجھ پر سلامتی ہو، جس دن وفات پاؤں اس دن مجھ پر سلامتی ہو اور جس دن زندہ اٹھایا جاؤں اس دن مجھ پر سلامتی ہو۔ جب حضرت عیسیٰ  عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   نے یہ کلام فرمایا توتمام لوگ خاموش ہوگئے اور ان کو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والدہ ماجدہ کے نیک، پرہیزگار ہونے  پر یقین آگیا کہ جوبچہ اس طرح کی باتیں  کر...

آزر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا باپ تھا یا چچا؟*

آزر حضرت ابراہیم  عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   کا باپ تھا یا چچا؟*     ترجمۂ کنز العرفان    جب اپنے باپ سے فرمایا: اے میرے باپ! تم کیوں ایسے کی عبادت کررہے ہو جو نہ سنتا ہے اور نہ دیکھتا ہے اور نہ تجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔  تفسیر صراط الجنان      {  اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ  :جب اپنے باپ سے فرمایا: اے میرے باپ! تم کیوں ایسے کی عبادت کررہے ہو۔}   اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم   عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  نے اپنے بت پرست  (عُرفی)   باپ آزَر سے فرمایا ’’ عبادت معبود کی انتہائی تعظیم ہے اور اس کا وہی مستحق ہو سکتا ہے جو اوصاف وکمال والا اور نعمتیں  دینے والا ہو اور وہ صرف  اللہ تعالیٰ ہے جس کا کوئی شریک نہیں ، اس لئے عبادت کا مستحق بھی صرف وہی ہے، جبکہ تم جن بتوں  کی عبادت کررہے ہو ان کا حال یہ ہے کہ یہ نہ توسنتے ہیں ، نہ دیکھتے ہیں    اور نہ ہی تمہارے کسی کام آسکتے ہیں  بلکہ یہ خود تمہا...

حضور ﷺ علم غیب سے ان لوگوں کو بھی جانتے ہیں اور ان کی نیکیاں کو بھی جو ہونے والا ہیں جن کی نیکیاں تِہامہ کے پہاڑوں کی مانند ہوں گی اعمال میں وزن سے محروم ہونے والے لوگ:

حضور ﷺ علم غیب سے ان لوگوں کو بھی جانتے ہیں اور ان کی نیکیاں کو بھی جو ہونے والا ہیں  جن کی نیکیاں تِہامہ کے پہاڑوں کی مانند ہوں گی اعمال میں وزن سے محروم ہونے والے لوگ: -*   وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا *(فرقان :۲۳)*   *ترجمہکنزُالعِرفان* : اور انہوں نے جو کوئی عمل کیا ہوگا ہم اس کی طرف قصد کرکے باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح (بے وقعت) بنادیں  گے جو روشندان کی دھوپ میں  نظر آتے ہیں ۔   اور حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہ     تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا ’’قیامت کے دن ایک بہت ہی موٹے تازے آدمی کو جب  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا تو ( اتنا بھاری بھر کم ہونے  کے باوجود)  اللہ  تعالیٰ کے نزدیک اس کا وزن ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہو گا، اور فرمایا کہ یہ آیت پڑھ لو   ’’فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا   ‘‘...

خارجیوں کا مختصر تعارف جن کو شرک کی بیماری تھی جو کبیرہ کو بھی شرک کہتے جیسے سجدہ تعظیم جو حدیث میں حرام ہیں اس کو شرک کہنا اس حدیث سے ثابت ہوا ہر نمازی کلمہ پڑھنے والا مسلمان نہیں ہوتا

خارجیوں  کا مختصر تعارف  جن کو شرک کی بیماری تھی جو کبیرہ کو بھی شرک کہتے  جیسے سجدہ تعظیم جو حدیث میں حرام ہیں اس کو شرک کہنا اس حدیث سے ثابت ہوا ہر نمازی کلمہ پڑھنے والا مسلمان نہیں ہوتا :-* صحیح بخاری میں تو خارجیو ں سے متعلق صراحت کے ساتھ مذکور ہے کہ آپ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ  سے ارشاد فرمایا ’’ تم اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں    کے مقابلے میں اور اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے مقابلے میں  حقیر جانو گے ،یہ قرآن پڑھیں  گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، یہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔  *( بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوّۃ فی الاسلام،  ۲ / ۵۰۳، الحدیث: ۳۶۱۰ )*  خارجیوں میں سب سے پہلا اور ان میں  سب سے بدتر شخص ذُوالْخُوَیصِرَہ  تمیمی تھا۔ اس نے حضور پُر نور  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی تقسیم پر اعتراض کر کے آپ کی شان میں  گستاخی کی تھی ۔ اس...

کسی بھی نبی کا مذاق اڑانا کفر ہیں جیسے طارق جمیل کا یوسف عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا مذاق اڑاکر کفر کرنا

کسی بھی نبی کا مذاق اڑانا کفر ہیں جیسے طارق جمیل کا یوسف عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا مذاق اڑاکر کفر کرنا :-*  ترجمۂ کنز العرفان      یہ ان کا بدلہ ہے جہنم ، کیونکہ انہوں نے کفر کیا اور میری آیتوں اور میرے رسولوں کو ہنسی مذاق بنالیا۔ *(سورۃ الکہف  آیت نمبر 106)*  تفسیر صراط الجنان        {ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ  :  یہ ان کا بدلہ جہنم ہے۔} ارشاد فرمایا کہ یہ جہنم ان کا بدلہ ہے کیونکہ انہوں  نے کفر کیا اور جس چیز پر ایمان لانا اور جس کا اقرار کرنا ضروری تھا اس کا انکار کیا اور انہوں نے قرآنِ پاک ،        اللہ تعالیٰ کی دیگر کتابوں اور اس کے رسولوں  کو ہنسی مذاق بنالیا۔  *( روح البیان، الکہف، تحت الآیۃ  : ۱۰۶، ۵ / ۳۰۵)*    اس سے معلوم ہوا کہ تمام کفر وں  سے بڑھ کر کفر نبی کی توہین اور ان کا مذاق اڑانا ہے جس کی سزا دنیا و آخرت دونوں  میں  ملتی ہے۔   *اہلِ حق علماء کا مذاق اڑانے والوں  کو نصیحت: -*    حضرت علامہ اسماعی...

جو کافر نبی کی نبوت کے منکر تھے وہی اپنے جیسا بشر کہتے تھے آج جو نبی کی عظمت کے منکر ہیں وہی اپنے جیسا بشر کہتے ہیں

جو کافر نبی کی نبوت کے منکر تھے وہی اپنے جیسا بشر کہتے تھے آج جو نبی کی عظمت کے منکر ہیں وہی اپنے جیسا بشر کہتے ہیں :-*   ترجمۂ کنز العرفان        تم فرماؤ: میں ( ظاہراً) تمہاری طرح ایک بشر ہوں مجھے وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہےتو جو اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہو اسے چاہیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے ۔ *( سورۃ الکہف آیت نمبر 110)*  تفسیر صراط الجنان          { قُلْ : تم فرماؤ۔} حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں      ’’اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو عاجزی کی تعلیم دی اور انہیں یہ کہنے کا حکم دیا کہ میں بھی تمہاری طرح آدمی ہوں          (یعنی جیسے تم انسان ہو اسی طرح میں  بھی انسان ہوں )  البتہ مجھے  (تم پر)     یہ خصوصیت حاصل ہے کہ میری طرف وحی آتی ہے اور وحی کے سبب   اللہ  تعالیٰ نے م...

جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں اللہ‎ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ماں کے پیٹ میں کیا ہیں زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تو نام کے ساتھ جانتے ہیں ماں کے پیٹ میں یحیٰ ہیں نام کے اہلے حدیث جو یا رسول اللہ‎ پر اعتراض کرتے ہیں ان خبیث کو اللہ‎ کے قرآن پر اعتراض ہونا چاہئے اپنے نبی کو یا سے مخاطب کیوں کیا

جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں اللہ‎ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ماں کے پیٹ میں کیا ہیں زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  تو نام کے ساتھ جانتے ہیں ماں کے پیٹ میں یحیٰ ہیں نام کے اہلے حدیث جو یا رسول اللہ‎ پر اعتراض کرتے ہیں ان خبیث کو اللہ‎ کے قرآن پر اعتراض ہونا چاہئے اپنے نبی کو یا سے مخاطب کیوں کیا :-* ترجمۂ کنز العرفان      اے زکریا! ہم تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحیٰ ہے ،اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی دوسرا نہ بنایا۔ *(سورۃ مریم آیت نمبر 7)*  تفسیر صراط الجنان        { یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ  :اے زکریا! ہم تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔}        اللہ  تعالیٰ نے حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  کی یہ دعا قبول فرمائی اور ارشاد فرمایا ’’ اے زکریا! ہم تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جو آپ کی طلب کے مطابق  (آپ کے علم اور آلِ یعقوب کی نبوت کا)  وارث ہو گا، اس کا نام یحیٰ ہے اور اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی دوسرا نہ بنایا کہ ا...

جان بوجھ کر گنہہ کرنے والے شیطان کے دوست ہیں سجدہ تعظیمی کو شرک کہنے والے بھی سلطان کے دوست ہیں جس حدیث میں سجدہ کے لئے منع ہے اس میں بھی حرام لکھا ہیں شرک نہیں کیا اللہ‎ تعالیٰ فرشتوں کو شرک کا حکم دیگا یا کسی کو سجدہ تعظیمی کرنے سے وہ وہ خدا بن جاتا ہے

جان بوجھ کر گنہہ کرنے والے شیطان کے دوست ہیں سجدہ تعظیمی کو شرک کہنے والے بھی سلطان کے دوست ہیں جس حدیث میں سجدہ کے لئے منع ہے اس میں بھی حرام لکھا ہیں شرک نہیں کیا اللہ‎ تعالیٰ فرشتوں کو شرک کا  حکم دیگا یا کسی کو سجدہ تعظیمی کرنے سے وہ وہ خدا بن جاتا ہے :-*    ترجمۂ کنز العرفان          اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا: آدم کو سجدہ کروتو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے ، وہ جنوں میں سے تھا تو وہ اپنے رب کے حکم سے نکل گیا تو (اے لوگو!) کیا تم اسے اور اس کی اولاد کو میرے سوا دوست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں ، ظالموں کیلئے کیا ہی برا بدلہ ہے۔  تفسیر صراط الجنان            { وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ  :  اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا: آدم کو سجدہ کرو۔} اس پورے رکوع میں  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  نے شیطان کے ابتدائی کردار کا بیان کیا اور لوگوں کو سمجھایا کہ جس طرح وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کرکے  مردود ہوا ، تم اس طرح نہ کرنا اور اس کی اط...

حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا معجزہ اور علم غیب

حضرت خضر  عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا معجزہ اور علم غیب :-* ترجمۂ کنز العرفان      خادم نے عرض کی: سنئے ! جب ہم نے اس چٹان کے پاس (آرام کیلئے) ٹھکانہ بنایا تھا تو بیشک میں مچھلی (کے متعلق بتانا) بھول گیا تھا اور مجھے شیطان ہی نے اس کا ذکر کرنا بھلادیا اور (ہوا یہ ہے کہ) مچھلی نے سمندر میں اپنا راستہ بڑا عجیب بنایا۔ موسیٰ نے فرمایا: یہی تو ہم چاہتے تھے پھر وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانات دیکھتے واپس لوٹ گئے۔ تو انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا جسے ہم نے اپنے پاس سے خاص رحمت دی تھی اور اسے اپنا علم لدنی عطا فرمایا۔ *(سورۃ الکہف آیت نمبر 63/65)* {فَوَجَدَا  :  تو انہوں نے پایا۔}    یعنی جب وہ دونوں  بزرگ واپس اسی جگہ پہنچے تو وہاں انہوں نے  اللّٰہ  تعالیٰ کے بندوں  میں  سے ایک بندہ پایا  جو چادر اوڑھے آرام فرما رہا تھا۔ یہ حضرت خضر  عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  تھے۔ لفظ خضر لغت میں تین طرح سے آیا ہے۔ (1) ’’   خا ‘‘کے نیچے زیر اور ضاد کے اوپ...

حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا علم غیب آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے

حضرت خضر  عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا علم غیب آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے :-*   ترجمۂ کنز العرفان            جواب دیا: آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔ اور آپ اس بات پر کس طرح صبر کریں گے جسے آپ کا علم محیط نہیں ۔ *(سورۃ الکہف آیت نمبر 67/68)*  تفسیر صراط الجنان              { قَالَ : کہا۔} حضرت خضر  عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  نے فرمایا: آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔ حضرت خضر  عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  نے یہ اس لئے فرمایا کہ وہ جانتے تھے کہ حضرت موسیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کوکچھ ناپسندیدہ اور ممنوع کام دیکھنا پڑیں  گے اور انبیاءِ کرام  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  سے ممکن ہی نہیں کہ وہ ممنوع کام دیکھ کر صبر کرسکیں ۔      *(خازن، الکھف، تحت الآیۃ : ۶۷، ۳ / ۲۱۹)*      { وَ كَیْفَ تَصْبِرُ  :  اور آپ کس طر...