اللہ تعالیٰ کی ذات صفات کا کوئی احاطہ نہیں کر سکتا مگر اہلے حدیث فرقے نے اللہ تعالیٰ کو عرش تک محدود کر دیا حالانکہ حدیث میں ذکر ہیں اللہ تعالیٰ جگہ سے پاک ہیں قرآن حدیث میں جہاں بھی اللہ تعالیٰ کے لئے جسم کے اعضاء کا ذکر ہیں اس کا حقیقی معنی اللہ جانے جو جگہ پر موجود ہوتا ہے وہ جگہ سے بڑا نہیں ہو سکتا اللہ سب سے بڑا ہیں
اللہ تعالیٰ کی ذات صفات کا کوئی احاطہ نہیں کر سکتا مگر اہلے حدیث فرقے نے اللہ تعالیٰ کو عرش تک محدود کر دیا حالانکہ حدیث میں ذکر ہیں اللہ تعالیٰ جگہ سے پاک ہیں قرآن حدیث میں جہاں بھی اللہ تعالیٰ کے لئے جسم کے اعضاء کا ذکر ہیں اس کا حقیقی معنی اللہ جانے جو جگہ پر موجود ہوتا ہے وہ جگہ سے بڑا نہیں ہو سکتا اللہ سب سے بڑا ہیں :-*
ترجمۂ کنز العرفان
وہ جانتا ہے جو کچھ ان لوگوں کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور لوگوں کا علم اسے نہیں گھیر سکتا۔ *(سورۃ طٰہٰ آیت نمبر 110)*
تفسیر صراط الجنان
{ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ :وہ جانتا ہے جو کچھ ان لوگوں کے آگے ہے ۔} یعنی اللہ تعالیٰ کا علم بندوں کی ذات و صفات، ان کے گزشتہ اور آئندہ کے تمام اَحوال اور دنیا و آخرت کے جملہ اُمور کا اِحاطہ کئے ہوئے ہے ۔
{ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا : اور لوگوں کا علم اسے نہیں گھیر سکتا ۔} یعنی پوری کائنات کا علم اللہ تعالیٰ کی ذات کا احاطہ نہیں کر سکتا ، اس کی ذات کا اِدراک کائنات کے علوم کی رسائی سے برتر ہے ، وہ اپنے اَسماء و صفات ، آثارِ قدرت اور حکمت کی صورتوں سے پہچانا جاتا ہے ۔ فارسی کا ایک شعر ہے:
کجا دریابد او را عقلِ چالاک
کہ اوبالا تر است ازحدِ ادراک
نظر کن اندر اسماء وصفاتَش
کہ واقف نیست کس از کنہِ ذاتَش
یعنی تیز عقل اس کی ذات کا ادراک کس طرح کر سکتی ہے کیونکہ وہ تو فہم و ادراک کی حد سے ہی بالا تر ہے، لہٰذا تم اس کے اسماء و صفات میں غورو فکر کرو کہ اس کی ذات کی حقیقت سے کوئی واقف ہی نہیں ۔
بعض مفسرین نے اس آیت کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ مخلوق کے علوم اللہ تعالیٰ کی معلومات کا احاطہ نہیں کر سکتے۔ *(روح البیان، طہ، تحت الآیۃ : ۱۱۰ ، ۵ / ۴۳۰ ، ابو سعود، طہ، تحت الآیۃ : ۱۱۰ ، ۳ / ۴۹۲ ، ملتقطاً )*
ترجمۂ کنز العرفان
وہ جانتا ہے جو کچھ ان لوگوں کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور لوگوں کا علم اسے نہیں گھیر سکتا۔ *(سورۃ طٰہٰ آیت نمبر 110)*
تفسیر صراط الجنان
{ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ :وہ جانتا ہے جو کچھ ان لوگوں کے آگے ہے ۔} یعنی اللہ تعالیٰ کا علم بندوں کی ذات و صفات، ان کے گزشتہ اور آئندہ کے تمام اَحوال اور دنیا و آخرت کے جملہ اُمور کا اِحاطہ کئے ہوئے ہے ۔
{ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا : اور لوگوں کا علم اسے نہیں گھیر سکتا ۔} یعنی پوری کائنات کا علم اللہ تعالیٰ کی ذات کا احاطہ نہیں کر سکتا ، اس کی ذات کا اِدراک کائنات کے علوم کی رسائی سے برتر ہے ، وہ اپنے اَسماء و صفات ، آثارِ قدرت اور حکمت کی صورتوں سے پہچانا جاتا ہے ۔ فارسی کا ایک شعر ہے:
کجا دریابد او را عقلِ چالاک
کہ اوبالا تر است ازحدِ ادراک
نظر کن اندر اسماء وصفاتَش
کہ واقف نیست کس از کنہِ ذاتَش
یعنی تیز عقل اس کی ذات کا ادراک کس طرح کر سکتی ہے کیونکہ وہ تو فہم و ادراک کی حد سے ہی بالا تر ہے، لہٰذا تم اس کے اسماء و صفات میں غورو فکر کرو کہ اس کی ذات کی حقیقت سے کوئی واقف ہی نہیں ۔
بعض مفسرین نے اس آیت کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ مخلوق کے علوم اللہ تعالیٰ کی معلومات کا احاطہ نہیں کر سکتے۔ *(روح البیان، طہ، تحت الآیۃ : ۱۱۰ ، ۵ / ۴۳۰ ، ابو سعود، طہ، تحت الآیۃ : ۱۱۰ ، ۳ / ۴۹۲ ، ملتقطاً )*
Comments
Post a Comment