Posts

Showing posts from December, 2021

حضرت شمویل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے علم غیب سے طالوت بھی جانتے تھے اللہ تعالی ایک نہر سے لشکروں کو آزمانے والا ہے:-

*حضرت شمویل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے علم غیب سے طالوت بھی جانتے تھے اللہ تعالی ایک نہر سے لشکروں کو آزمانے والا ہے:-*  ترجمۂ کنز الایمان  پھر جب طالوت لشکروں کو لے کر شہر سے جدا ہوا بولا بیشک اللہ تمہیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے تو جو اس کا پانی پیے وہ میرا نہیں اور جو نہ پیے وہ میرا ہے مگر وہ جو ایک چُلو اپنے ہاتھ سے لے لے تو سب نے اس سے پیا مگر تھوڑوں نے پھر جب طالوت اور اس کے ساتھ کے مسلمان نہر کے پار گئے بولے ہم میں آج طاقت نہیں جالوت اور اس کے لشکروں کی بولے وہ جنہیں اللہ سے ملنے کا یقین تھا کہ بارہا کم جماعت غالب آئی ہے زیادہ گروہ پر اللہ کے حکم سے اور اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ پھر جب سامنے آئے جالوت اور اس کے لشکروں کے عرض کی اے رب ہمارے ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمارے پاؤں جمے رکھ اورکافر لوگوں پرہماری مدد کر۔ *( سورۃ البقرہ آیت نمبر 249/250)*  تفسیر صراط الجنان  {فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ: پھر جب طالوت لشکروں کو لے کر شہر سے جدا ہوا۔} اب جس جہاد کا تذکرہ چلتا آرہا ہے اس کے واقعات کا بیان ہے ۔ طالوت اپنے لشکر کو لے کر بیت المقدس سے روانہ ...

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے

*حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے :-  ترجمۂ کنز الایمان  اے محبوب! کیا تم نے نہ دیکھا تھا انہیں جو اپنے گھروں سے نکلے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے تو اللہ نے ان سے فرمایا مرجاؤ پھر انہیں زندہ فرما دیا، بیشک اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے مگر اکثر لوگ ناشکرے ہیں۔ *( سورۃ البقرہ آیت نمبر 243)*  تفسیر صراط الجنان  {اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ: اے حبیب! کیا تم نے ان لوگوں کو نہ دیکھا تھا جو اپنے گھروں سے نکلے۔} بنی اسرائیل کی ایک جماعت تھی جس کے علاقے میں طاعون پھیل گیا تو وہ موت کے ڈر سے اپنی بستیاں چھوڑ کر بھاگ نکلے اور جنگل میں جا پڑے۔ یہ لوگ ہزاروں کی تعداد میں تھے، حکمِ الٰہی سے سب وہیں مر گئے، کچھ عرصہ کے بعد حضرت حِزقیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا سے انہیں اللہ تعالیٰ نے زندہ فرمایا اور وہ مدتوں زندہ رہے۔ *(در منثور، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۴۳،۱ / ۷۴۱)* *موت کے ڈر سے بھاگ کر جان نہیں بچائی جا سکتی:-*  اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ آدمی موت کے ڈر سے بھاگ کر...