حضرت شمویل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے علم غیب سے طالوت بھی جانتے تھے اللہ تعالی ایک نہر سے لشکروں کو آزمانے والا ہے:-
*حضرت شمویل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے علم غیب سے طالوت بھی جانتے تھے اللہ تعالی ایک نہر سے لشکروں کو آزمانے والا ہے:-* ترجمۂ کنز الایمان پھر جب طالوت لشکروں کو لے کر شہر سے جدا ہوا بولا بیشک اللہ تمہیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے تو جو اس کا پانی پیے وہ میرا نہیں اور جو نہ پیے وہ میرا ہے مگر وہ جو ایک چُلو اپنے ہاتھ سے لے لے تو سب نے اس سے پیا مگر تھوڑوں نے پھر جب طالوت اور اس کے ساتھ کے مسلمان نہر کے پار گئے بولے ہم میں آج طاقت نہیں جالوت اور اس کے لشکروں کی بولے وہ جنہیں اللہ سے ملنے کا یقین تھا کہ بارہا کم جماعت غالب آئی ہے زیادہ گروہ پر اللہ کے حکم سے اور اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ پھر جب سامنے آئے جالوت اور اس کے لشکروں کے عرض کی اے رب ہمارے ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمارے پاؤں جمے رکھ اورکافر لوگوں پرہماری مدد کر۔ *( سورۃ البقرہ آیت نمبر 249/250)* تفسیر صراط الجنان {فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ: پھر جب طالوت لشکروں کو لے کر شہر سے جدا ہوا۔} اب جس جہاد کا تذکرہ چلتا آرہا ہے اس کے واقعات کا بیان ہے ۔ طالوت اپنے لشکر کو لے کر بیت المقدس سے روانہ ...