کیا دعا کے بعد ہاتھ منہ پر پھیرنا سنت ہے؟
کیا دعا کے بعد ہاتھ منہ پر پھیرنا سنت ہے؟ سوال کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا دعا کے بعد ہاتھ منہ پر پھیرنا سنت ہے ؟ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ *جی ہاں !* دعا کے بعد ہاتھ منہ پر پھیرنا سنت ہے اور اس میں حکمت یہ ہے کہ دعا مانگتے ہوئے گویا بندے کے ہاتھ خیر و برکت سے بھر جاتے ہیں ، تو اب حکم ہے کہ وہ خیر و برکت اپنے اعلیٰ و اشرف حصے یعنی چہرے پر اُلٹا لے ، تاکہ اس کے ذریعے وہ خیر و برکت سارے بدن میں سرایت کر جائے ۔ جامع ترمذی میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : ’’ كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا رفع يديه في الدعاء لم يحطهما حتى يمسح بهما وجهه ‘‘ *ترجمہ :* نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جب دعا میں ہاتھ اٹھاتے ، تو چہرہ انور پر ہاتھ پھیرے بغیر نیچے نہ کرتے ۔ *( جامع الترمذی ، ابواب الدعوات ، باب ماجاء فی رفع الایدی عند الدعاء ، ج 2 ، ص 649 ، مطبوعہ لاھور)* ابو داؤد شریف میں حدیثِ پاک ہے : ’’ ان النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا دعا فرفع...