Posts

Showing posts from April, 2022

*تمام مخلوق سے پہلے مومن حضور ﷺ ہیں :-

*تمام مخلوق سے  پہلے مومن حضور ﷺ ہیں :-  ترجمۂ کنز الایمان اس کا کوئی شریک نہیں مجھے یہی حکم ہوا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔ *( سورۃ الانعام آیت نمبر 163)*  تفسیر صراط الجنان { وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ:اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔} اوّلیت یا تو اس اعتبار سے ہے کہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کا اسلام اُن کی امت پر مقدم ہوتا ہے *(بیضاوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۶۳، ۲ / ۴۷۲)* یا اس اعتبار سے کہ سیّدِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اوّل مخلوقات ہیں تو ضرور اولُ المسلمین ہوئے۔ *(قرطبی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۶۳، ۴ / ۱۱۳، الجزء السابع)*  اس سے معلوم ہوا کہ ساری مخلوق میں سب سے پہلے مومن حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں۔ حضرت جبریل اور میکائیل عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پہلے بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عابد بلکہ نبی تھے۔ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ (ترجمہ:کیا میں تمہارا رب نہیں؟)کے جواب میں سب سے پہلے حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ ...

*عظمتِ مصطفٰی اور عظمتِ صحابہ کے دن کو مسلمان اچھا سمجھیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک بھی اچھا دن ہیں :-

*عظمتِ مصطفٰی اور عظمتِ صحابہ کے دن کو مسلمان اچھا سمجھیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک بھی اچھا دن ہیں :- حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں میں نظر فرمائی تو سب کے دلوں سے بہتر محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دل کو پایا تو انہیں اپنے لئے چن لیا اور اپنی رسالت کے ساتھ انہیں مبعوث فرمایا۔محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دل کے بعد بندوں کے دلوں میں نظر فرمائی تو ان کے صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے دلوں کو دیگر لوگوں کے دلوں سے بہتر پایا تو انہیں اپنے نبی کا وزیر بنادیا، یہ لوگ ان کے دین کی حمایت میں جنگ کرتے ہیں۔ پس جس چیز کو مسلمان اچھا سمجھیں تو وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک بھی اچھی ہے اور جسے مسلمان برا سمجھیں تو وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک بھی بری ہے۔ *(مسند امام احمد، مسند عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ، ۲ / ۱۶، الحدیث:  ۳۶۰۰)*

*بتوں کے نام سے جانور کو مخصوص کرنا یا جانور کی طرف نسبت سے جانور حرام نہیں ہوتا جب تک غیرِ خدا کے نام سے ذبح نہ کیا جائے :-*

*بتوں کے نام سے جانور کو مخصوص کرنا یا جانور کی طرف نسبت سے جانور حرام  نہیں ہوتا جب تک غیرِ خدا کے نام سے ذبح نہ کیا جائے :-*  ترجمۂ کنز الایمان اللہ نے مقرر نہیں کیا ہے کان چِرا ہوا اور نہ بجار اور نہ وصیلہ اور نہ حامی ہاں کافر لوگ اللہ پر جھوٹا افترا باندھتے ہیں اور ان میں اکثر نرے بے عقل ہیں۔ *( سورۃ المائدہ آیت نمبر 103)*  تفسیر صراط الجنان { مَا جَعَلَ اللّٰهُ : اللہ نے مقرر نہیں کیا۔} زمانۂ جاہلیت میں کفار کا یہ دستور تھا کہ جو اونٹنی پانچ مرتبہ بچے جنتی اور آخری مرتبہ اس کے نر ہوتا تواس کا کان چیر دیتے پھر نہ اس پر سواری کرتے اور نہ اس کو ذبح کرتے اور نہ پانی اور چارے پر سے ہنکاتے، اس کو بحیرہ کہتے۔ اور جب سفر درپیش ہوتا یا کوئی بیمار ہوتا تو یہ نذر کرتے کہ اگر میں سفر سے بخیریت واپس آؤں یا تندرست ہوجاؤں تو میری اونٹنی سائِبَہ ہے اور اس اونٹنی سے بھی نفع اُٹھانا بحیرہ کی طرح حرام جانتے اور اس کو آزاد چھوڑ دیتے اور بکری جب سات مرتبہ بچے جن دیتی تو اگر ساتواں بچہ نر ہوتا توا س کو مرد کھاتے اور اگر مادہ ہوتا تو بکریوں میں چھوڑ دیتے اور ایسے ہی اگر نر، مادہ دونوں ...