*عظمتِ مصطفٰی اور عظمتِ صحابہ کے دن کو مسلمان اچھا سمجھیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک بھی اچھا دن ہیں :-

*عظمتِ مصطفٰی اور عظمتِ صحابہ کے دن کو مسلمان اچھا سمجھیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک بھی اچھا دن ہیں :-
حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں میں نظر فرمائی تو سب کے دلوں سے بہتر محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دل کو پایا تو انہیں اپنے لئے چن لیا اور اپنی رسالت کے ساتھ انہیں مبعوث فرمایا۔محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دل کے بعد بندوں کے دلوں میں نظر فرمائی تو ان کے صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے دلوں کو دیگر لوگوں کے دلوں سے بہتر پایا تو انہیں اپنے نبی کا وزیر بنادیا، یہ لوگ ان کے دین کی حمایت میں جنگ کرتے ہیں۔ پس جس چیز کو مسلمان اچھا سمجھیں تو وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک بھی اچھی ہے اور جسے مسلمان برا سمجھیں تو وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک بھی بری ہے۔ *(مسند امام احمد، مسند عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ، ۲ / ۱۶، الحدیث:  ۳۶۰۰)*

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-