حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-
  ترجمۂ کنز العرفان         
اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی عظیم سلطنت دکھاتے ہیں اور اس لیے کہ وہ عینُ الیقین والوں میں سے ہوجائے۔(سورۃ انعام آیت نمبر 75)
 تفسیر صراط الجنان           
{ وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ  : اور اسی طرح ہم ابراہیم کو دکھاتے ہیں۔} ارشاد فرمایا کہ       جس طرح حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دین میں بینائی عطا فرمائی ایسے ہی ہم انہیں آسمانوں اور زمین کے ملک دکھاتے ہیں۔ حضرت  عبداللہ بن عباس      رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ اس سے آسمانوں اور زمین کی مخلوق مراد ہے۔ حضرت مجاہد اور حضرت سیدنا سعید بن جبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کہتے ہیں کہ اس سے آسمانوں اور زمین کی نشانیاں مراد ہیں اور وہ اِس طرح کہ حضرت ابراہیم      عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کوبیتُ المقدس کے صَخرہ پر کھڑا کیا گیا اور آپ کے لئے تمام آسمانوں کا مشاہدہ کھول دیا گیا یہاں تک کہ آپ نے عرش و کرسی اور آسمانوں کے تمام عجائب اور جنت میں اپنے مقام کو معائنہ فرمایا پھر آپ کے لئے زمین کا مشاہدہ کھول دیا گیا یہاں تک کہ آپ نے سب سے نیچے کی زمین تک نظر کی اور زمینوں کے تمام عجائبات دیکھے ۔ مفسرین کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ رُویت باطنی نگاہ کے ساتھ تھی یا سر کی آنکھوں سے۔      (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۷۵  ، ۲ / ۲۸)     پھر اس معراجِ ابراہیمی کا مقصد بیان فرمایا کہ ہم نے یہ نشانیاں انہیں اس لئے دکھائیں کہ وہ دیکھ کر یقین کرنے والوں میں سے ہوجائیں کیونکہ ہر ظاہر و مخفی چیز اُن کے سامنے کردی گئی اور مخلوق کے اعمال میں سے کچھ بھی ان سے نہ چھپا رہا۔ حضرت ابراہیم  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو عظیم معراج ہوئی  مگر ہمارے آقا، حضور سیدُالعالمین،  محمد رسولُ اللہ           صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو اس سے بہت بڑھ کر معراج ہوئی حتّٰی کہ حضور پرنور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ’’  دَنَا فَتَدَلّٰىۙ( ۸) فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰى ‘‘کے مقام پر فائز ہوگئے۔

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے