Posts

Showing posts from August, 2020

حضور ﷺ نے ہمیں علم غیب سے بتایا لوح محفوظ کا قلم جو کے اللہ‎ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اس کا علم جو کچھ ہو چکا اور جو اَبد تک ہو گا سب کا علم ہیں حضور ﷺ اس قلم سے بھی افضل ہیں علم اور قدرت میں منافقوں نے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کرتے ہیں اللہ‎ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا قیامت کب آےگی لوح محفوظ کا قلم خالق نہیں مخلوق ہیں

 حضور ﷺ نے ہمیں علم غیب سے بتایا لوح محفوظ کا  قلم جو کے اللہ‎ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اس کا علم جو کچھ ہو چکا اور جو اَبد تک ہو گا سب کا علم ہیں حضور ﷺ اس قلم سے بھی افضل ہیں علم اور قدرت میں منافقوں نے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کرتے ہیں اللہ‎ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا قیامت کب آےگی لوح محفوظ کا قلم خالق نہیں مخلوق ہیں :-*    ترجمۂ کنز العرفان    نٓ، قلم اور اس کی قسم جو لکھتے ہیں *۔(سورۃ القلم آیت نمبر 1)*  اس قلم نے  اللّٰہ  تعالیٰ کے حکم سے لوحِ محفوظ پر قیامت تک ہونے والے تمام اُمور لکھ دیئے ہیں ،جیسا کہ حضرت  عبادہ بن صامت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’ اللّٰہ  تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا فرمایا اور اس سے فرمایا لکھ۔وہ عرض گزار ہوا: اے میرے رب!  عَزَّوَجَلَّ ، میں کیا لکھوں ؟ ارشاد  فرمایا: ’’جو کچھ ہو چکا اور جو اَبد تک ہو گا سب کی تقدیر لکھ دے۔ *(  ترمذی، کتاب القدر،  ۱۷ - باب،۴/  ۶۲ ، ا...

رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ملنے والا ثواب حضور ﷺ کو قیامت تک جتنے مسلمان عمل کرنے والے ہونگے سب کے عمال کا ثواب ملیگا امتی کا سونے کا پہاڑ صدقہ کرنا صحابہ کا ایک کھجور صدقہ کرنے کے برابر ثواب ہیں دیوبندی قاسم نانوتوی تحزیر الناس میں لکھتا ہیں امتی عمل میں نبی سے آگے بڑھ سکتا ہیں قاسم نانوتوی نے جتنے لوگوں کو گمراہ کیا سب کی گمراہی کا گنہہ بھی قاسم نانوتوی کو ملیگا

 رسولِ کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو ملنے والا ثواب حضور ﷺ کو قیامت تک جتنے مسلمان عمل کرنے والے ہونگے سب کے عمال کا ثواب ملیگا امتی کا سونے کا پہاڑ صدقہ کرنا صحابہ کا  ایک کھجور صدقہ کرنے کے برابر ثواب ہیں دیوبندی قاسم نانوتوی تحزیر الناس میں لکھتا ہیں امتی عمل میں نبی سے آگے بڑھ سکتا ہیں قاسم نانوتوی نے جتنے لوگوں کو گمراہ کیا سب کی گمراہی کا گنہہ بھی قاسم نانوتوی کو ملیگا :-*   ترجمۂ کنز العرفان        اور یقینا تمہارے لیے ضرور بے انتہا ثواب ہے۔ *(سورۃ القلم آیت نمبر 3)*   تفسیر صراط الجنان         { وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍ   : اور یقینا تمہارے لیے ضرور بے انتہا ثواب ہے۔}  ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب!  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، ضرور تمہارے لیے رسالت کی تبلیغ، نبوت کے اِظہار ، مخلوق کو اللّٰہ تعالیٰ کی طرف دعوت  دینے اور کفار کی ان بے ہودہ باتوں اِفتراؤں اور طعنوں پر صبر کرنے کا بے انتہاء ثو...

حضور ﷺ نے ہمیں علم غیب سے بتایا فرشتہ کو ماں کے پیٹ میں 4 باتوں کا علم غیب دیا گیا بچہ مُذَکَّر ہے یا مُؤنَّث؟ یہ بد بخت ہے یا سعادت مند؟ اس کا رزق کتنا ہے؟ اس کی عمر کتنی ہے ؟ مگر منافقوں نے حضور ﷺ کے ساتھ فرشتوں کے بھی علم غیب کا انکار کیا منافق کچھ نہیں جانتے وہ گمراہ ہیں :-

 حضور ﷺ نے ہمیں علم غیب سے بتایا فرشتہ کو ماں کے پیٹ میں 4 باتوں کا علم غیب دیا گیا بچہ مُذَکَّر ہے یا   مُؤنَّث؟ یہ بد بخت ہے یا سعادت مند؟ اس کا رزق کتنا ہے؟ اس کی عمر کتنی ہے ؟ مگر منافقوں نے حضور ﷺ کے ساتھ فرشتوں کے بھی علم غیب کا انکار کیا منافق کچھ نہیں جانتے وہ گمراہ ہیں :- (1) اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اے عائشہ! اللّٰہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کو جنت کا اہل بنایا حالانکہ وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے اور بعض لوگوں  کو جہنم کا اہل بنایا حالانکہ وہ اپنے آباء کی پشتوں میں  تھے۔  *(مسلم، کتاب القدر، باب کلّ مولود یولد علی الفطرۃ۔الخ، ص  ۱۴۳۱، الحدیث: ۳۱(۲۶۶۲))*   (2)  حضرت انس  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’  اللّٰہ تعالیٰ عورت کے رحم پر ایک فرشتہ مقرر فرما دیتا ہے تو وہ عرض کرتا ہے:اے میرے رب...

غیب کی دو قسمیں ہیں :

 YAAD RAKHEN ILM GHAIB KI DO QISMEN HAIN👇👇👇 غیب کی دو قسمیں ہیں :  (۱)  جس کے حاصل ہونے پر کوئی دلیل نہ ہو۔ یہ علم غیب ذاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اور جن آیات میں  غیرُاللہ   سے علمِ غیب کی نفی کی گئی ہے وہاں یہی علمِ غیب مراد ہوتا ہے ۔ (۲)  جس کے حاصل ہونے پر دلیل موجود ہو جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات ، گزشتہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  اور قوموں کے احوال نیز قیامت میں ہونے والے واقعات و غیرہ کا علم۔ یہ سب  اللہ تعالیٰ کے بتانے سے معلوم ہیں اور جہاں بھی  غیرُاللہ کیلئے غیب کی معلومات کا ثبوت ہے وہاں  اللہ  تعالیٰ کے بتانے ہی سے ہوتا ہے۔      ( تفسیر صاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۳،      ۱ / ۲۶ ) (صراط الجنان فے تفسیر القران)

کس عورت کے پاس کہا خفیہ خط ملیگا حضور ﷺ جانتے تھے علم غیب کے منکر قرآن تفسیر اس لئے نہیں پڑھتے سب ان کے عقیدہ کے خلاف ہوتی ورنہ خود بھی گمراہی سے بچ جائے :-

 کس  عورت کے پاس کہا خفیہ  خط ملیگا حضور ﷺ جانتے تھے علم غیب کے منکر قرآن تفسیر اس لئے نہیں پڑھتے سب ان کے عقیدہ کے خلاف ہوتی ورنہ خود بھی گمراہی سے بچ جائے :-   ترجمۂ کنز العرفان      اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ ،تم انہیں دوستی کی وجہ سے خبریں پہنچاتے ہو حالانکہ یقینا وہ اس حق کے منکر ہیں جو تمہارے پاس آیا، وہ رسول کو اور تمہیں اس بنا پر نکالتے ہیں کہ تم اپنے رب اللہ پر ایمان لائے، اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے اور میری رضا طلب کرنے کیلئے نکلے تھے (تو ان سے دوستی نہ کرو) تم ان کی طرف محبت کا خفیہ پیغام بھیجتے ہو اور میں ہر اس چیز کوخوب جانتا ہوں جسے تم نے چھپایا اور جسے تم نے ظاہر کیا اور تم میں سے جو یہ (دوستی) کرے توبیشک وہ سیدھی راہ سے بہک گیا۔ *(سورۃ الممتحنۃ آیت نمبر 1)*   تفسیر صراط الجنان       {  یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ  : اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں  کو دوست نہ بناؤ۔}   شانِ نزول: بنی ہاش...

اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے لئے مسلمانوں سے محبت رکھنا کافروں بد مذہب گستاخی سے دوشمنی رکھنا سب سے زیادہ پیارا عمل ہیں تمام نفل عبادت سے افضل ہیں* *اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کسی سے دوستی اور دشمنی رکھنے کے 4 فضائل:-*

 اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے لئے مسلمانوں سے محبت رکھنا کافروں بد مذہب گستاخی سے دوشمنی رکھنا سب سے زیادہ پیارا عمل ہیں تمام نفل عبادت سے افضل ہیں*  *اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کسی سے دوستی اور دشمنی رکھنے کے  4   فضائل:-*  (1)  حضرت ابو ہریرہ   رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا: ’’  اللّٰہ  تعالیٰ قیامت کے دن ارشاد فرمائے گا’’وہ لوگ کہاں ہیں جو میرے جلال کی وجہ سے آپس میں  محبت رکھتے تھے، آج میں    انہیں اپنے  (عرش کے) سائے میں  رکھوں گا، آج میرے  (عرش کے)  سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں ۔ *( مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فی فضل الحبّ فی اللّٰہ، ص  ۱۳۸۸  ، الحدیث:   ۳۷(۲۵۶۶))*   (2) حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ایک شخص اپنے بھائی سے ملنے دوسرے علاقے میں  گیا، اللّٰہ...

آیت کی حکمت بد مذہب گستاخوں سے ان کی گمراہی کے باوجود تم ان سے دوستی رشتہ داری رکھوگے تو انہیں اپنی گمراہی کا احساس نہیں ہوگا اگر ان سے تعلق توڑ کر تنہا چھوڑ دوگے تب انہیں اپنی گمراہی کا احساس ہوگا پھر اکثریت کو ھدایت نصیب ہوگی انشااللہ :-

 آیت کی حکمت بد مذہب گستاخوں سے ان کی گمراہی کے باوجود تم ان سے دوستی رشتہ داری رکھوگے تو انہیں اپنی گمراہی کا احساس نہیں ہوگا اگر ان سے تعلق توڑ کر تنہا چھوڑ دوگے تب انہیں اپنی گمراہی کا احساس ہوگا پھر اکثریت کو ھدایت نصیب ہوگی انشااللہ :-  ترجمۂ کنز العرفان        قریب ہے کہ اللہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان محبت پیدا فرما دے جو ان میں سے تمہارے دشمن ہیں ۔ اور اللہ بہت قدرت والا ہے اور اللہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے *۔(سورۃ الممتحنۃ آیت نمبر 7)*   تفسیر صراط الجنان         { عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً   :قریب ہے کہ اللّٰہ        تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان محبت پیدا فرما دے جو ان میں  سے تمہارے دشمن ہیں ۔}  شانِ نزول:جب اُوپر کی آیات نازل ہوئیں تو صحابہ ٔ کرام  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اپنے عزیز و اَقارب کی دشمنی میں بہت سخت اور ان سے بیزار ہو گئے، اس پر اللّٰہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر انہیں...

حضور ﷺ قیامت تک آنے والے کو علم حکمت عطا فرماتے ہیں تحقیق ہیں کے فرزندانِ فارس سے مراد امام ابو حنیفہ ہیں جن کو حضور ﷺ کی طرف سے علم حکمت عطا ہوئی :-

 حضور ﷺ قیامت تک آنے والے کو علم حکمت عطا فرماتے ہیں تحقیق ہیں کے  فرزندانِ فارس سے مراد امام ابو حنیفہ ہیں  جن کو حضور ﷺ کی طرف سے علم حکمت عطا ہوئی :-  ترجمۂ کنز العرفان    وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللہ کی آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتاہے اور بیشک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے۔اور ان سے (بعد والے) دوسرے لوگوں کو ( بھی یہ رسول پاک کرتے اور علم دیتے ہیں ) جو ان (موجودہ لوگوں ) سے ابھی نہیں ملے اور وہی بہت عزت والا، بڑا حکمت والا ہے۔ یہ اللہ کا فضل ہے وہ اسے جسے چاہے دے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔ *(سورۃ الجمعہ آیت نمبر 2/4)*   تفسیر صراط الجنان        {  وَ اٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ  : اور ان سے  (بعد والے)   دوسرے لوگوں  کو۔} اس آیت کا تعلق پہلے والی آیت کے ساتھ ہے اور اس میں  مزید ایسے افراد کا ذکر کیا گیا ہے جنہیں  رسولِ کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ...

اللّٰہ تعالیٰ کا ہر نبی زندہ ہے حضور ﷺ علم غیب سے آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پیدائش ' وفات اور قیامت کا وقت بھی جانتے ہیں مگر منافق نہیں مانتے روزِ جمعہ کے 4 فضائل :-

 اللّٰہ تعالیٰ کا ہر  نبی زندہ ہے حضور ﷺ  علم غیب سے آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پیدائش ' وفات اور  قیامت کا وقت بھی جانتے ہیں مگر منافق نہیں مانتے  روزِ جمعہ کے 4 فضائل :-  (1) حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بہتر دن جس پر سورج نے طلوع کیا، جمعہ کا دن ہے، اسی میں  حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پیدا کیے گئے ، اسی میں  جنت میں  داخل کیے گئے اور اسی میں  انہیں  جنت سے اترنے کا حکم ہوا اور قیامت جمعہ ہی کے دن قائم ہوگی۔ *( مسلم، کتاب الجمعۃ، باب فضل یوم الجمعۃ، ص۴۲۵، الحدیث: ۱۸(۸۵۴))*  (2) حضرت ابو درداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جمعہ کے دن مجھ پر درُود کی کثرت کرو کہ یہ دن مشہود ہے، اس میں  فرشتے حاضر ہوتے ہیں  اور مجھ پر جو درُود پڑھے گا پیش کیا جائے گا۔حضرت ابو درداء ر...

آج کے بہت سے بدمذہب بھی اسی طرح کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کسی چیز کے مالک نہیں حالانکہ کثیر اَحادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللّٰہ تعالیٰ کی عطا سے مالکِ کل ہیں ،یہاں ان میں سے دو اَحادیث ملاحظہ ہوں :

 آج کے بہت سے بدمذہب بھی اسی طرح کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضورِ اقدس  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کسی چیز کے مالک نہیں  حالانکہ کثیر اَحادیث اس پر دلالت کرتی ہیں  کہ حضور  پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللّٰہ تعالیٰ کی    عطا سے مالکِ کل ہیں ،یہاں ان میں  سے دو اَحادیث ملاحظہ ہوں :    (1)  حضرت معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا ’’میں تقسیم کرنے والا ہوں  اور اللّٰہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے۔ *(بخاری، کتاب العلم، باب من یرد اللّٰہ بہ خیراً یفقّہہ فی الدین، ۱/    ۴۲ ، الحدیث: ۷۱)*    (2)   حضرت عقبہ بن عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے،رسولِ کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا    ’’مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں عطا کی گئی ہیں ۔  *(بخاری، کتاب الجنائز، ...

میٹھی زبان والے منافق ایسا فتنہ ہیں جس نے عقل مندوں کو بھی گمراہ کر دیا جیسے طارق جمیل :-

 میٹھی زبان والے منافق ایسا فتنہ ہیں جس نے عقل مندوں کو بھی گمراہ کر دیا جیسے طارق جمیل :-   ترجمۂ کنز العرفان        اور جب تم انہیں دیکھتے ہو توان کے جسم تجھے اچھے لگتے ہیں اور اگر وہ بات کریں توتم ان کی بات غور سے سنو گے( حقیقتاً وہ ایسے ہیں ) جیسے وہ دیوار کے سہارے کھڑی کی ہوئی لکڑیاں ہیں ،وہ ہر بلند ہونے والی آواز کو اپنے خلاف ہی سمجھ لیتے ہیں ، وہی دشمن ہیں تو ان سے محتاط رہو ، اللہ انہیں مارے ،یہ کہاں اوندھے جاتے ہیں ؟  تفسیر صراط الجنان         { وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ   : اور جب تم انہیں  دیکھتے ہو توان کے جسم تجھے اچھے لگتے ہیں ۔}  عبد  اللّٰہ بن ابی صحت مند، خوبْرُو اورخوش بیان آدمی تھا اور اس کے ساتھ والے منافقین قریب قریب ویسے ہی تھے،جب یہ لوگ نبی کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی مجلس شریف میں  حاضر ہوتے تو خوب باتیں بناتے جو سننے والے کو اچھی معلوم   ہوتی تھیں ،چنانچہ اس آیت میں   مسلمانوں  ...

جن پر اللہ‎ تعالیٰ کا غضب ہیں ان سے دوستی نہ رکھوں چاہے وہ کافر ہو یا بد عقیدہ والے بد عقیدہ والوں کو ہی تم کافروں کے قریب دیکھوں گے :-

 جن پر اللہ‎ تعالیٰ کا غضب ہیں ان سے دوستی نہ رکھوں چاہے وہ کافر ہو یا بد  عقیدہ والے بد عقیدہ والوں کو ہی تم کافروں کے قریب دیکھوں گے :-   ترجمۂ کنز العرفان          کیا تم نے ان لوگوں کو نہ دیکھا جنہوں نے ان لوگوں کو دوست بنالیا جن پر اللہ نے غضب فرمایا، وہ نہ تم میں سے ہیں اور نہ ہی ان میں سے۔ اور وہ جان بوجھ کر جھوٹی بات پرقسم کھاتے ہیں ۔ *(سورۃ مجادلہ آیت نمبر 14)*   تفسیر صراط الجنان           { اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ  : کیا تم نے ان لوگوں  کو نہ دیکھا ۔ }شانِ نزول: یہ آیت ان منافقوں کے بارے میں  نازل ہوئی جنہوں  نے یہودیوں  سے دوستی کی اور ان کی خیر خواہی میں  لگے رہتے اور مسلمانوں کے راز ان سے کہتے۔ان کے بارے میں  ارشاد فرمایا گیا کہ اے سننے والے ! کیا تم نے ان لوگوں  کو نہ دیکھا جنہوں  نے یہودیوں  کو دوست بنالیا جن پر  اللّٰہ  تعالیٰ نے غضب فرمایا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ نہ مسلمان ہیں  اور نہ یہودی بلکہ منافق ہیں۔  ...

حضور ﷺ کے علم فضیلت میں مخالفت کرنا اللہ‎ تعالیٰ کی مخالفت ہیں گستاخ بد مذہب والوں سے دور رہوں چاہے وہ دوست رشتے دار ہوں اگر تم اس پر عمل کروگے تو ایمان کی سلامتی نصیب ہوگی غیب سے تمہری مدد کی جاےگی :-

 حضور ﷺ کے علم فضیلت میں مخالفت کرنا اللہ‎ تعالیٰ کی مخالفت ہیں گستاخ بد مذہب والوں سے دور رہوں چاہے وہ دوست رشتے دار ہوں اگر تم اس پر عمل کروگے تو ایمان کی سلامتی نصیب ہوگی غیب سے تمہری مدد کی جاےگی :-  ترجمۂ کنز العرفان          بیشک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ سب سے زیادہ ذلیلوں میں ہیں ۔ *(سورۃ المجادلہ آیت نمبر 20)*  تم ایسے لوگوں کو نہیں پاؤ گے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں کہ وہ ان لوگوں سے دوستی کریں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یاان کے بھائی یا ان کے خاندان والے ہوں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی اور وہ انہیں اُن باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ان میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ،یہ اللہ کی جماعت ہے، سن لو! اللہ کی جماعت ہی کامیاب ہے۔۔ *(سورۃ المجادلہ آیت نمبر 22)*   تفسیر صراط الجنان       {  لَا تَجِدُ قَوْمً...

صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے بغض رکھنے والے ایمان والوں کی اَقسام سے خارج ہیں :-

 صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ   سے بغض رکھنے والے ایمان والوں کی اَقسام سے خارج ہیں :-     ترجمۂ کنز العرفان      اور ان کے بعد آنے والے عرض کرتے ہیں : اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کیلئے کوئی کینہ نہ رکھ، اے ہمارے رب! بیشک تو نہایت مہربان، بہت رحمت والا ہے۔ *(سورۃ الحشر آیت نمبر 10)*   تفسیر صراط الجنان       { وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ  : اور ان کے بعد آنے والے۔}   یعنی مہاجرین اور انصار کے بعد آنے والے عرض کرتے ہیں : اے ہمارے رب! ہمیں  اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں  کیلئے کوئی کینہ نہ رکھ، اے ہمارے رب! بیشک تو نہایت مہربان، رحمت والا ہے اور تو اپنی مہربانی اور رحم کے صدقے ہماری ا س دعا کو قبول فرما۔  *(روح البیان، الحشر، تحت الآیۃ: ۱۰ ، ۹/ ۴۳۶  -  ۴۳۷)*   یاد رہے کہ مہاجرین و انصار کے بعد آنے والوں می...

دیکھوں اور سمجھوں مسلمانوں منافق کسی کے دوست نہیں ہوتے وہ صرف جھوٹے ہوتے ہیں حضور ﷺ ان کے درمیان کی باتوں کو بھی جانتے ہیں مگر منافق غیب کی باتو کو نہیں مانتے :-

 دیکھوں اور سمجھوں مسلمانوں منافق کسی کے دوست نہیں ہوتے وہ صرف جھوٹے ہوتے ہیں حضور ﷺ ان کے درمیان کی باتوں کو بھی جانتے ہیں مگر منافق غیب کی باتو کو نہیں مانتے :-  ترجمۂ کنز العرفان        کیا تم نے منافقوں کو نہ دیکھا کہ اپنے اہلِ کتاب کافر بھائیوں سے کہتے ہیں کہ قسم ہے اگر تم نکالے گئے تو ضرور ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے اور ہرگز تمہارے بارے میں کسی کا کہنا نہ مانیں گے اور اگر تم سے لڑائی کی گئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یقینا وہ ضرور جھوٹے ہیں ۔ *(سورۃ الحشر آیت نمبر 11)*   تفسیر صراط الجنان         { اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا   : کیا تم نے منافقوں  کو نہ دیکھا۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب!  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، کیا آپ نے  عبد  اللّٰہ بن اُبی سلول منافق اور اس کے ساتھیوں کو نہ دیکھا کہ اپنے اہل ِکتاب کافر بھائیوں     بنو قریظہ اور بنو نضیر سے کہتے ہیں کہ اگر تم مدینہ منورہ سے نکالے گئے تو ...

ہر وہ بدعت گمراہی ہیں جو سنّت کی مخالف ہو بدعت کفر نہیں ہوتی ہر گنہہ بھی گمراہی ہوتا ہیں اچھی بدعت تو سنّت ہوتی ہے جو ہر بدعت کو گمراہی کہے وہ خود گمرہ ہیں غلط عقیدہ کی بدعت کفر ہیں بدعتِ حَسنہ جائز اور بدعتِ سَیِّئہ ممنوع و ناجائز ہے:-

 ہر وہ بدعت گمراہی ہیں جو سنّت کی مخالف ہو بدعت کفر نہیں ہوتی  ہر گنہہ بھی گمراہی ہوتا ہیں  اچھی بدعت تو سنّت ہوتی ہے جو ہر بدعت کو گمراہی کہے وہ خود گمرہ ہیں غلط عقیدہ کی بدعت کفر ہیں  بدعتِ حَسنہ جائز اور بدعتِ سَیِّئہ ممنوع و ناجائز ہے:-*    ترجمۂ کنز العرفان          پھر ہم نے ان کے پیچھے ان کے قدموں کے نشانات پر اپنے (مزید)رسول بھیجے اور ان کے پیچھے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا اور اسے انجیل عطا فرمائی اور اس کے پیروکاروں کے دل میں نرمی اور رحمت رکھی اور رہبانیت (دنیا سے قطع تعلقی) کو انہوں نے خود ایجاد کیا، ہم نے ان پر یہ مقرر نہ کیا تھا ہاں اللہ کی رضا طلب کرنے کے لیے (انہوں نے یہ بدعت ایجاد کی) پھر اس کی ویسی رعایت نہ کی جیسی رعایت کرنے کا حق تھا تو ان میں ایمان والوں کو ہم نے ان کا ثواب عطا کیا اور ان میں سے بہت سے نافرمان ہیں ۔ *(سورۃ الحدید آیت نمبر 27)*   تفسیر صراط الجنان           { ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا  : پھر ہم نے ان کے پیچھے ان کے قدموں  کے نشان...

اللہ‎ کی مدد کرنا اللہ‎ تعالیٰ کے دین کی مدد کرنا ہیں اہلے حدیث یہ آیت پڑھے تو ان کو قرآن میں بھی شرک نظر آئےگا ان کے عقیدہ سے اللہ‎ تعالیٰ کا کوئی مدد گار نہیں ہو سکتا :-

 اللہ‎ کی مدد کرنا اللہ‎ تعالیٰ کے دین کی مدد کرنا ہیں اہلے حدیث یہ آیت پڑھے تو ان کو قرآن میں بھی شرک نظر آئےگا ان کے عقیدہ سے اللہ‎ تعالیٰ کا کوئی مدد گار  نہیں ہو سکتا :- ترجمۂ کنز العرفان    بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو روشن دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور عدل کی ترازو اتاری تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں اور ہم نے لوہا اتارا، اس میں سخت لڑائی (کا سامان )ہے اور لوگوں کے لئے فائدے ہیں اور تاکہ اللہ اس شخص کودیکھے جو بغیر دیکھے اللہ اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے، بیشک اللہ قوت والا، غالب ہے۔ *(سورۃ الحدید آیت نمبر 25)*   آیت  کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ لوہا نازل کرنے سے مقصود یہ ہے کہ  اللہ  تعالیٰ اس شخص کودیکھے جو جہاد میں لوہے کو استعمال کر کے  اللہ  تعالیٰ کے دین کی مدد کرتا ہے حالانکہ اس نے  اللہ  تعالیٰ کو دیکھا  نہیں  ہوا، بیشک  اللہ  تعالیٰ  قوت والا، غالب ہے ،اس کو کسی کی مدددرکار نہیں   اور دین کی مدد کرنے کا اس نے جو حکم دیا یہ انہیں   لوگوں  کے فائد...

علم نبوی ﷺ پر طعن کرنا منافقین کا وطیرہ ہے ؟*

 علم نبوی ﷺ پر طعن کرنا منافقین کا وطیرہ ہے ؟*  منافقین کا ایک گھناؤنا وطیرہ یہ تھا کہ وہ حضور علیہ السلام کے علم مبارک پر طعن کرتے اور یہ کہتے دیکھو یہ نبی (علیہ السلام) آسمانی خبریں دیتا ہے مگر اونٹنی کے بارے میں نہیں جانتا۔ غزوہ تبوک کے سفر کے دوران ایک مقام پر رسول اللہ علیہ السلام نے آرام فرمایا۔ صبح کے وقت آپ علیہ السلام کی اونٹنی گم ہوگئی صحابہ تلاش میں نکلے وہاں ایک شخص زید بن الصیت تھا جو پہلے یہودی تھا بظاہر اسلام لایا مگر منافق تھا اس نے یہ کہنا شروع کردیا۔ محمد یزعم انہ نبی و ھو یخبرکم عن خبرالسماء وھو لایدری این ناقتہ؟ محمد علیہ السلام کا دعویٰ ہے میں نبی ہوں اور وہ تمہیں آسمانی خبریں دیتا ہے حالانکہ وہ نہیں جانتا کہ اسکی اونٹنی کہاں ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کی قسم میں وہی جانتا ہوں جو مجھے میرا اللہ بتاتا ہے ۔ یعنی میں ذاتی طور پر کچھ نہیں جانتا مجھے اللہ تعالیٰ ہی بتاتا ہے۔ میرے رب نے مجھے اونٹنی کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے وہ فلاں جگہ ہے اور اسکی نکیل درخت کے ساتھ پھنس گئی ہے۔ صحابہ کو بھیجا اور وہاں سے اسے لے آئے۔ *(بحوالہ سبل الھدیٰ والرشاد، 5، 449)۔*...

قبر والے بھی حضور ﷺ کو سلام عرض کرتے ہیں :-

 قبر والے بھی حضور ﷺ کو سلام عرض کرتے ہیں :-    ترجمۂ کنز العرفان    پھر وہ فوت ہونے والا اگر مقرب بندوں میں سے ہے۔ تو راحت اور خوشبودار پھول اور نعمتوں کی جنت ہے۔اور اگر وہ دائیں جانب والوں میں سے ہو۔ تو (اے حبیب!) تم پر دائیں جانب والوں کی طرف سے سلام ہو۔ *(سورۃ الواقعہ آیت نمبر 88/91)*   تفسیر صراط الجنان     {  فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ : پھر وہ فوت ہونے والا اگر مقرب بندوں   میں   سے ہے۔}  یہاں  سے موت کے وقت مخلوق کے طبقات کے احوال اور ان کے درجات بیان فرمائے جا رہے ہیں ، چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ اگر مرنے والا آگے بڑھ جانے والے  اللہ  تعالیٰ کے مقرب بندوں  میں  سے ہے تو اس کے لئے  (موت کے وقت)  راحت ، خوشبودار پھول اور آخرت میں   نعمتوں کی جنت ہے۔  حضرت ابوالعالیہ  رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  کہ مُقَرَّبین سے جو کوئی  دنیا سے جدا ہوتا ہے تو اس کے پاس جنت کے پھولوں...

انسان اور جن زمین کے کناروں سے نکل سکتے عیسی علیہ السلام اور حضور ﷺ نے زمین کے کناروں کو پار کیا ہیں مگر دیوبندی نے ترجمہ کیا ہے نہیں نکل سکتے ہو جو قرآن حدیث کے بھی خلاف ہیں اور سائنس کے بھی خلاف ہیں :-

 انسان اور جن  زمین کے کناروں سے نکل سکتے  عیسی علیہ السلام اور حضور ﷺ نے زمین کے کناروں کو پار کیا ہیں مگر دیوبندی نے ترجمہ کیا ہے نہیں نکل سکتے ہو جو قرآن حدیث کے بھی خلاف ہیں اور سائنس کے بھی خلاف ہیں :-   ترجمۂ کنز العرفان    اے جنوں اور انسانوں کے گروہ! اگر تم سے ہوسکے کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ،تم جہاں نکل کر جاؤ گے (وہاں ) اسی کی سلطنت ہے۔ توتم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (سورۃ الرحمن آیت نمبر 33/34)  تفسیر صراط الجنان     { یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ : اے جنوں اور انسانوں کے گروہ!}  اس آیت میں اللہ  تعالیٰ نے جنوں  اور انسانوں  سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم میری قضاء سے بھاگ سکتے ہو،میری سلطنت اور میرے آسمانوں  اور زمین کے کناروں  سے نکل سکتے ہو تو ان سے نکل جاؤ اور اپنی جانوں  کو میرے عذاب سے بچالو لیکن تم اس بات پر قادر ہو ہی نہیں  سکتے کیونکہ تم جہاں  بھی جاؤ گے وہیں  میری سلطنت ہے۔یہ حکم جنوں  اور انسانوں ...

حضور ﷺ علم غیب سے امام حسین رضی اللہ عنہ کا شہید ہونا پہلے سے جانتے تھے :-

 حضور ﷺ علم غیب سے امام حسین رضی اللہ عنہ کا شہید ہونا پہلے سے جانتے تھے :- (ترجمہ) حضرت عائشہ یا ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سرکار علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا آج میرے گھر ایک فرشتہ آیا جو آج سے پہلے کبھی نہیں آیا تھا اور اس نے مجھ سے عرض کیا کہ آپ کے شہزادے امام حسین رضی اللہ عنہ شہید کیے جائیں گے اگر آپ چاہیں تو آپ علیہ السلام کو اس زمین کی مٹی دکھاؤں جہاں امام حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوں گے ، سرکار علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: پھر اس فرشتے نے سرخ مٹی نکالی. علامہ ہیثمی رحمہ اللہ اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ (ترجمہ) اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا اور اس کے ساری راوی صحیح کے راوی ہیں۔ [مجمع الزوائد ومنبع الفوائد ، ج9 ، ص187]  ایک اور روایت میں ہے۔ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: لَيُقْتَلَنَّ الْحُسَيْنُ، [قَتْلًا] وَإِنِّي لَأَعْرِفُ التُّرْبَةَ الَّتِي يُقْتَلُ فِيهَا، قَرِيبًا مِنَ النَّهْرَيْنِ. (ترجمہ) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا جائے  گا اور میں اس مٹی کو پہچانتا ہوں جہاں حسین کو...

امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا بھی یہی عقیدہ ہیں قبر والے سننتے بھی ہیں اور جواب بھی دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کا خوف بڑی اعلیٰ نعمت ہے: -*

 امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا بھی یہی عقیدہ ہیں قبر والے سننتے بھی ہیں اور جواب بھی دیتے ہیں اللہ  تعالیٰ کا خوف بڑی اعلیٰ نعمت ہے: -*  امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  کے زمانۂ مبارک میں   ایک نوجوان بہت متقی و پرہیز گار و  عبادت گزار تھا، حتّٰی کہ حضرت عمر   رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ   بھی اس کی  عبادت پر تعجب کیا کرتے تھے ۔وہ نوجوان نمازِ عشاء مسجد میں  ادا کرنے کے بعداپنے بوڑھے باپ کی خدمت کرنے کے لئے جایا کرتا تھا ۔ راستے میں ایک خوبرُو عورت اسے اپنی طرف بلاتی اور چھیڑتی تھی، لیکن یہ نوجوان اس پر توجہ دئیے بغیر نگاہیں   جھکائے گزر جایا کرتا تھا ۔ آخر کار ایک دن وہ نوجوان شیطان کے ورغلانے اور اس عورت کی دعوت پر برائی کے ارادے سے اس کی جانب بڑھا، لیکن جب دروازے پر پہنچا تو اسے  اللہ  تعالیٰ کا یہی فرمانِ عالیشان یاد  آگیا: اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓىٕفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِر...

حضور ﷺ کو رحمٰن نے قرآن سکھایا وہ سب سکھایا جو آپ نہ جانتے تھے اس میں وہ بھی شمار ہیں جس پر بد عقیدہ والے اعتراض کرتے ہیں :-

 حضور ﷺ کو رحمٰن نے قرآن سکھایا وہ سب سکھایا جو آپ نہ جانتے تھے اس میں وہ بھی شمار ہیں جس پر بد عقیدہ والے اعتراض کرتے ہیں :-    ترجمۂ کنز العرفان            رحمٰن نے قرآن سکھایا۔ *(سورۃ الرحمٰن آیت نمبر 1/ 2)*   تفسیر صراط الجنان             { اَلرَّحْمٰنُ : رحمٰن۔} اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں  ایک قول یہ ہے کہ جب سورۂ فرقان کی آیت نمبر 60 نازل ہوئی جس میں  رحمٰن کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا توکفارِ مکہ نے کہا کہ رحمٰن کیا ہے ہم نہیں  جانتے ،اس پر اللہ تعالیٰ نے سورۃُ الرّحمٰن نازل فرمائی کہ رحمٰن جس کا تم انکار کرتے ہو وہی ہے جس نے قرآن نازل فرمایا ۔اور ایک قول یہ ہے کہ اہل ِمکہ نے جب کہا کہ محمد  (مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) کو کوئی بشر سکھاتا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ  تَبَارَکَ وَتَعَالٰی نے فرمایا کہ رحمٰن نے قرآن اپنے حبیب محمد مصطفٰی  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو سکھایا۔ *(خازن، الرحمٰن، تحت الآ...

قوم کے سوال پر پتھر سے ایک اونٹنی نکلنا صرف دعا نہیں تھی اس میں پہلے قوم سے اقرار ہیں اس کے باد اللہ‎ تعالیٰ کا اقرار جو حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے علم اور اختیار کی دلیل ہیں :-

 قوم کے سوال پر پتھر سے ایک اونٹنی نکلنا صرف دعا نہیں تھی اس میں پہلے قوم سے اقرار ہیں اس کے باد اللہ‎ تعالیٰ کا اقرار جو حضرت صالح  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام کے علم اور اختیار کی دلیل ہیں :-   ترجمۂ کنز العرفان        بیشک ہم ان کی آزمائش کیلئے اونٹنی کو بھیجنے والے ہیں تو (اے صا لح!) تم ان کا انتظار کرو اور صبر کرو۔ اور انہیں خبر دے دو کہ ان کے درمیان پانی تقسیم ہے ، ہر باری پر وہ حاضر ہو جس کی باری ہے۔ *(سورۃ القمر آیت نمبر 27/28)*   تفسیر صراط الجنان         {  اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ   : بیشک ہم اونٹنی کوبھیجنے والے ہیں ۔ }  اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ  حضرت صالح  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  کی قوم نے آپ  عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  سے یہ کہا تھا کہ آپ پتھر سے ایک اونٹنی نکال    دیجئے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  نے اُن کے ایمان قبول کرنے کی شرط مقرر فرماکر یہ بات من...

یعنی ہر شخص اپنی عملی حالت کو ان کفار کی حالت پر قیاس کر لے جن کا ٹھکانہ جہنم ہیں مستحب عمل میں اگر حرام کام شامل ہوجاے تو علما اس پر حرام کا فتویٰ دی سکتے ہیں تعزیہ داری بھی حرام ہیں جس کا حکم قرآن حدیث میں نہ ہو علما وہاں پر قیاس سے فیصلہ کر سکتے ہیں :-

 یعنی ہر شخص اپنی عملی حالت کو ان کفار کی حالت پر قیاس کر لے جن کا ٹھکانہ جہنم ہیں مستحب عمل میں اگر حرام کام شامل ہوجاے تو علما اس پر حرام کا فتویٰ دی سکتے ہیں تعزیہ داری بھی حرام ہیں جس کا حکم قرآن حدیث میں نہ ہو علما وہاں پر  قیاس سے فیصلہ کر سکتے ہیں :- ’’ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ *(حشر: ۲ )*       *ترجمہکنزُالعِرفان*  : تو اے آنکھوں  والو!  عبرت حاصل کرو۔ سنن ابو داؤد میں  ہے کہ جب نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے حضرت معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو یمن کی طرف بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو ان سے ارشاد فرمایا: ’’جب تمہارے سامنے مقدمہ پیش ہو گا تو تم کیسے فیصلہ کرو گے ۔حضرت معاذ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کتاب سے فیصلہ کروں  گا۔رسولِ کریم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’اگر تم      اللہ  تعالیٰ کی کتاب میں (اس کا حکم) نہ پاؤ (تو کیسے فیصلہ کرو گے)  ...

तमहीदे ईमान, क़िस्त 27* *हुज़ूर का इल्मे ग़ैब अताई है*

 *तमहीदे ईमान, क़िस्त 27* *हुज़ूर का इल्मे ग़ैब अताई है* प्यारे मुसलमानों जैसा के आपने गुज़िश्ता मैसेज में मुलाहिज़ा किया होगा के हुज़ूर अलैहिस्सलाम के इल्मे ग़ैब का इन्कार करने वालों को अल्लाह तआला ने अल्लाह व क़ुरआन व रसूल से ठिट्ठा (हंसी मज़ाक) करने वाला और साफ़ साफ़ काफ़िर व मुर्तद ठहराया और क्यों ना हो के ग़ैब की बात जाननी शाने नबूव्वत है,जैसा के इमाम हुज्जतुल इस्लाम मुहम्मद ग़ज़ाली व इमाम अहमद क़स्तलानी व मौलाना अली क़ारी व अल्लामा मुहम्मद ज़रक़ानी वगैरहुम अकाबिर ने तशरीह फरमाई जिसकी तफ़सील रसाइले इल्मे ग़ैब में बफ़ज़लेही तआला बर वजहे आला (मुकम्मल तौर पर) मज़कूर हुई फिर उसकी सख्त शामत, कमाले ज़लालत (गुमराही) का क्या पूछना जो ग़ैब की एक बात भी ख़ुदा के बताए से भी नबी को मालूम होना मुहाल व ना मुमकिन बताता है उसके नज़दीक अल्लाह से सब चीज़ें गायब हैं और अल्लाह को इतनी क़ुदरत नहीं के किसी को एक ग़ैब का इल्म दे सके,, अल्लाह तआला शैतान के धोकों से पनाह दे, आमीन, हां बे ख़ुदा के बताए किसी को ज़र्रा भर का इल्म मानना ज़रूर कुफ्र है और जमीअ् मालूमाते इलाहिया को इल्मे मखलूक का मुहीत होना...

तमहीदे ईमान, क़िस्त 26* *नबी की गुस्ताखी इस्लाम से ख़ारिज कर देती है :-

 तमहीदे ईमान, क़िस्त 26*  *नबी की गुस्ताखी इस्लाम से ख़ारिज कर देती है :- तुम्हारा रब अज़्ज़ा व जल्ल फ़रमाता है يخلفون بالله ماقالوا و لقد قالوا كلمة الكفر و كفروا بعد اسلامهم،   *तर्जमा* --- ख़ुदा की क़सम ख़ाते हैं के उन्होंने नबी की शान में गुस्ताख़ी न की और अलबत्ता बेशक वह यह कुफ्र का बोल बोले, और मुसलमान होकर काफ़िर हो गए,📚 *पारा 10, सूरह तौबा,*  इब्ने जरीर व तिबरानी व अबुश्शैख़ व इब्ने मर्द वयह अब्दुल्लाह इब्ने अब्बास रज़िअल्लाहू तआला अन्हुमा से रिवायत करते हैं, रसूलल्लाह सल्लल्लाहू तआला अलैही वसल्लम एक पेड़ के साया में तशरीफ़ फरमा थे इरशाद फरमाया अनक़रीब एक शख़्स आएगा, के तुम्हें शैतान की आंखों से देखेगा, वह आए तो उससे बात ना करना, कुछ देर ना हुई थी के एक करंजी आंखों वाला सामने से गुज़रा, रसूलल्लाह सल्लल्लाहू तआला अलैही वसल्लम ने उसे बुलाकर फ़रमाया तू और तेरे रफीक़ किस बात पर मेरी शान में गुस्ताखी के लफ्ज़ बोलते हैं वह गया और अपने रफीक़ों को बुला लाया सब ने आकर क़समें खाईं के हमने कोई कलमा हुज़ूर की शान में बेअदबी का न कहा, इस पर अल्लाह अज़्ज़ा व जल्ल ने ...

معراج اگر خواب میں ہوتی تو مشرکین انکار نہیں کرتے نہ تصدیق کرنے پر ابوبکر کو صدیق کا لقب ملتا جو انتقال کے باد نبی کی مدد کو نہیں مانتے ان کو 50 وقت کی نماز پڑھنا چائے :-

 معراج اگر خواب میں ہوتی تو مشرکین انکار نہیں کرتے نہ تصدیق کرنے پر ابوبکر کو صدیق کا لقب ملتا جو انتقال کے باد نبی کی مدد کو نہیں مانتے ان کو 50 وقت کی نماز پڑھنا چائے :-   ترجمۂ کنز العرفان            تو کیا تم ان سے ان کے دیکھے ہوئے پر جھگڑ تے ہو۔ اور انہوں نے تو وہ جلوہ دوبار دیکھا۔ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔ *(سورۃ النجم آیت نمبر 12/14)*   تفسیر صراط الجنان             { اَفَتُمٰرُوْنَهٗ  : تو کیا تم ان سے جھگڑ تے ہو۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین کو جب معراج شریف کے واقعات معلوم ہوئے تو انہوں  نے ان واقعات کا انکار کر دیا اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے طرح طرح کے سوالات کرنے لگے ،کبھی کہتے کہ ہمارے سامنے بیتُ المقدس کے اوصاف بیان کریں  اور کبھی کہتے کہ راستوں  میں  سفر کرنے والے ہمارے قافلوں  کے بارے میں  خبر دیں  تو اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم میرے ح...

حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے معراج کی رات اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا جب کسی مسلے میں اثبات اور انکار ہو تو اہل سنت والجماعت اس کی تشریح کرتے بد مذہب والوں کی طرح ایک حدیث سے دوسری حدیث کا انکار نہیں کرتے :-

 حضور پُر نور  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے معراج کی رات اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا جب کسی مسلے میں اثبات اور انکار ہو تو اہل سنت والجماعت اس کی تشریح کرتے بد مذہب والوں کی طرح ایک حدیث سے دوسری حدیث کا انکار نہیں کرتے :-  ترجمۂ کنز العرفان          دل نے اسے جھوٹ نہ کہا جو (آنکھ نے) دیکھا *-(سورۃ النجم آیت نمبر 11)*   تفسیر صراط الجنان           { مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى  : دل نے اس کو جھوٹ نہ کہا جو دیکھا۔} یعنی سرکارِ دو عالَم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے قلب مبارک نے اس کی تصدیق کی جو چشمِ مبارک نے دیکھا ۔مراد یہ ہے کہ آنکھ سے دیکھا ،دِل سے پہچانا اور اس دیکھنے اور پہچاننے میں  شک اور تَرَدُّد نے راہ نہ پائی۔     اب رہی یہ بات کہ کیا دیکھا، اس بارے میں بعض مفسرین کا قول یہ ہے کہ حضرت جبریل  عَلَیْہِ السَّلَام کو دیکھا، لیکن صحیح مذہب یہ ہے کہ سَرْوَرِ عالَم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ...

مکّہ میں دارُالنَّدْوَہ وہ مقام تھا جہاں پر حضور ﷺ کے خلاف سازشیں ہوتی تھی منافقوں نے اسی مناسبت سے اپنے مدرسے اور خود کے نام کے ساتھ نَّدْوَہ کو اختیار کیا ہیں :-

مکّہ میں دارُالنَّدْوَہ وہ مقام تھا جہاں پر حضور ﷺ کے خلاف سازشیں ہوتی تھی منافقوں نے اسی مناسبت سے اپنے مدرسے اور خود کے نام کے ساتھ نَّدْوَہ کو  اختیار کیا ہیں :-   ترجمۂ کنز العرفان            یا وہ کسی فریب کا ارادہ کر رہے ہیں تو کافر خودہی (اپنے) فریب کا شکار ہونے والے ہیں ۔ یا اللہ کے سوا ان کا کوئی اور خدا ہے؟ اللہ ان کے شرک سے پاک ہے۔ *(سورۃ الطور آیت نمبر 42/43)*   تفسیر صراط الجنان             { اَمْ یُرِیْدُوْنَ كَیْدًا  : یا وہ کسی فریب کا ارادہ کر رہے ہیں ۔} یعنی اے حبیب!  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، یہ مشرکین زبانی طور پر ہی آپ کی مخالفت نہیں  کرتے بلکہ وہ کسی فریب کا ارادہ کر رہے ہیں  اور دارُالنَّدْوَہ میں  جمع ہو کر  اللہ تعالیٰ کے حبیب نبی، ہادیٔ برحق  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو نقصان پہنچانے اور قتل کرنے کے مشورے کررہے ہیں  تو کافر خود ہی اپنے فریب کا شکار ہونے والے ہیں  او...