حضور ﷺ علم غیب سے امام حسین رضی اللہ عنہ کا شہید ہونا پہلے سے جانتے تھے :-

 حضور ﷺ علم غیب سے امام حسین رضی اللہ عنہ کا شہید ہونا پہلے سے جانتے تھے :-

(ترجمہ) حضرت عائشہ یا ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سرکار علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا آج میرے گھر ایک فرشتہ آیا جو آج سے پہلے کبھی نہیں آیا تھا اور اس نے مجھ سے عرض کیا کہ آپ کے شہزادے امام حسین رضی اللہ عنہ شہید کیے جائیں گے اگر آپ چاہیں تو آپ علیہ السلام کو اس زمین کی مٹی دکھاؤں جہاں امام حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوں گے ، سرکار علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: پھر اس فرشتے نے سرخ مٹی نکالی.

علامہ ہیثمی رحمہ اللہ اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں

رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ

(ترجمہ) اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا اور اس کے ساری راوی صحیح کے راوی ہیں۔ [مجمع الزوائد ومنبع الفوائد ، ج9 ، ص187] 

ایک اور روایت میں ہے۔

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: لَيُقْتَلَنَّ الْحُسَيْنُ، [قَتْلًا] وَإِنِّي لَأَعْرِفُ التُّرْبَةَ الَّتِي يُقْتَلُ فِيهَا، قَرِيبًا مِنَ النَّهْرَيْنِ.

(ترجمہ) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا جائے  گا اور میں اس مٹی کو پہچانتا ہوں جہاں حسین کو شہید کیا جائے گا دو نہروں کے قریب ہے۔

امام ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ

(ترجمہ) اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا اور اسکے سارے راوی ثقہ ہیں۔ 

[مجمع الزوائد ومنبع الفوائد ، ج9 ، ص190]

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-