Posts

Showing posts from February, 2021

جب یہ آیت پڑھی جاتی ہے پڑھنے والا حضرت یحیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے سلامتی کی دعا کرتا ہیں انبیاء کرام کے نام کے ساتھ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس لئے لکھا جاتا ہے ان پر ہمیشہ سلامتی ہو حضور ﷺ پر سلام پڑھنا بھی سلامتی کی دعا ہے کچھ گمراہ فرقے سلام پڑھنے کے لیے خاص وقت اور دور سے پڑھنے پر اعتراض کرتے ہیں :-

جب یہ آیت پڑھی جاتی ہے پڑھنے والا حضرت یحیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے سلامتی کی دعا کرتا ہیں  انبیاء کرام کے نام کے ساتھ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس لئے لکھا جاتا ہے ان پر ہمیشہ سلامتی ہو حضور ﷺ پر سلام پڑھنا بھی سلامتی کی دعا ہے کچھ گمراہ فرقے سلام پڑھنے کے لیے  خاص وقت اور دور سے پڑھنے پر اعتراض کرتے ہیں :-  ترجمۂ کنز العرفان          اور اس پر سلامتی ہے جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ فوت ہوگا اورجس دن وہ زندہ اٹھایا جائے گا۔(سورۃ مریم آیت نمبر 14)  تفسیر صراط الجنان           { وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ  : اور اس پر سلامتی ہے ۔} یعنی جس دن حضرت یحیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پیدا ہوئے اس دن ان کے لئے شیطان سے امان ہے کہ وہ عام بچوں  کی طرح آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کونہ چھوئے گا اور جس دن آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وفات پائیں گے اس دن ان کے لئے عذابِ قبرسے امان ہے اور جس دن آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو زندہ اٹھایا جائے گا اس دن ان کے لئے قی...

حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضور ﷺ کافر لڑکے کے دل ایمان کو جانتے تھے اگر وہ زندہ رہیگا تو اپنے والدین کو بھی کفر میں مبتلا کردے گا اگر کوئی نبی کے علم پر اعتراض کرتا ہے تو اس کو ڈرنا چاہیے کہیں اس کی موت کفر پر نہ ہو :-

حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضور ﷺ کافر لڑکے کے دل ایمان کو جانتے تھے اگر وہ زندہ رہیگا تو اپنے والدین کو بھی کفر میں مبتلا کردے گا اگر کوئی نبی کے علم پر اعتراض کرتا ہے تو اس کو ڈرنا چاہیے کہیں اس کی موت کفر پر نہ ہو :- ترجمۂ کنز العرفان          پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب انہیں ایک لڑکا ملا تو اس نے اسے قتل کردیا۔ موسیٰ نے کہا: کیا تم نے کسی جان کے بدلے کے بغیر ایک پاکیزہ جان کوقتل کردیا۔ بیشک تم نے بہت ناپسندیدہ کام کیا ہے۔ اور وہ جو لڑکا تھا تو اس کے ماں باپ مسلمان تھے تو ہمیں ڈر ہوا کہ وہ لڑکا انہیں بھی سرکشی اور کفر میں ڈال دے گا۔ تو ہم نے چاہا کہ اُن کا رب اُنہیں پاکیزگی میں پہلے سے بہتر اور حسنِ سلوک اوررحمت و شفقت میں زیادہ مہربان عطا کردے۔(سورۃ الکہف آیت نمبر 74,80,81)  تفسیر صراط الجنان       { وَ اَمَّا الْغُلٰمُ : اور وہ جو لڑکا تھا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنے دوسرے فعل کی حکمت بیان کرتے ہوئے حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَا...

ذوالقرنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے وقت قرآن تو نازل نہیں ہوا تھا اس کے باوجود آپ جانتے تھے قیامت سے پہلے یاجوج اور ماجوج دیوار توڑ کر باہر نکلیں گے مگر آج قرآن کو جاننے والے اپنے نبی کے علم غیب کو نہیں جانتے :-

ذوالقرنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے وقت قرآن تو نازل نہیں ہوا تھا اس کے باوجود آپ جانتے تھے قیامت سے پہلے یاجوج اور ماجوج دیوار توڑ کر باہر نکلیں گے مگر آج قرآن کو جاننے والے اپنے نبی کے علم غیب کو نہیں جانتے :-  ترجمۂ کنز العرفان          ذوالقرنین نے کہا: یہ میرے رب کی رحمت ہے پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا تو اسے پاش پاش کردے گا اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔(سورۃ الکہف آیت نمبر 98)  تفسیر صراط الجنان           { قَالَ : کہا۔} حضرت ذوالقرنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ یہ دیوار میرے رب عَزَّوَجَلَّ کی رحمت اور اس کی نعمت ہے کیونکہ یہ یاجوج اور ماجوج کے نکلنے میں رکاوٹ ہے، پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا اور قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کے خُروج کا وقت آپہنچے گا تو میرا رب عَزَّوَجَلَّ اس دیوار کو پاش پاش کردے گا اور میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے ان کے نکلنے کا جو وعدہ فرمایا ہے وہ اور اس کے علاوہ ہر وعدہ سچا ہے۔ ( خازن، الکہف، تحت الآیۃ : ۹۸، ۳ / ۲۲۶، جلالین، الکہف، تحت الآیۃ : ۹۸، ص۲۵۲، ملتقطاً ) ...

خارجیوں کی وہ نشانیاں جو صحیح حدیث میں ذکر کی گئی ہے وہ سلوار ٹخنوں سے اوپر پہنیں گے کافروں کی آیت مسلمانوں پر چسپاں کریں گے ان کے جوان جو دین میں جاھل ہونگے اور کثرت سے سر منڈو آئیں گے جن میں یہ علامت ہو وہ حدیث سے تحقیق کر لے خارجیوں کا مختصر تعارف :- ‏

خارجیوں کی وہ نشانیاں جو صحیح حدیث میں ذکر کی گئی ہے وہ سلوار ٹخنوں سے اوپر پہنیں گے کافروں کی آیت مسلمانوں پر چسپاں کریں گے ان کے جوان جو دین میں جاھل ہونگے اور کثرت سے سر منڈو آئیں گے جن میں یہ علامت ہو وہ حدیث سے تحقیق کر لے خارجیوں کا مختصر تعارف :-    خارجیوں میں سب سے پہلا اور ان میں سب سے بدتر شخص ذُوالْخُوَیصِرَہ تمیمی تھا۔ اس نے حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تقسیم پر اعتراض کر کے آپ کی شان میں گستاخی کی تھی ۔ اس کے اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا تھا کہ یہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ اسی وجہ سے انہیں خارجی یعنی دین سے نکل جانے والا کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ ظاہری طور پر بڑے عبادت گزار، شب بیدار تھے اور ان کی عبادت و ریاضت اور تلاوت ِقرآن میں مشغولیت دیکھ کر صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ بھی حیرا ن ہوتے تھے لیکن ان کے عقائد و نظریات انتہائی باطل تھے ۔ان کاایک بہت بڑا عقیدہ یہ تھا کہ جو کبیرہ گناہ ...

حضور ﷺ اعمال میں وزن سے محروم ہونے والے لوگوں کو جانتے ہیں جاننے اور پہچاننے میں فرق ہوتا ہیں پہچاننا صرف صورت سے ہوتا ہے جاننا مکمل تفصیل سے ہوتا ہے انبیاء کرام کسی چیز کے وجود میں آنے سے پہلے اس کا مشاہدہ کر سکتے ہیں :-

حضور ﷺ اعمال میں وزن سے محروم ہونے والے لوگوں کو جانتے ہیں جاننے اور پہچاننے میں فرق ہوتا ہیں پہچاننا صرف صورت سے ہوتا ہے جاننا مکمل تفصیل سے ہوتا ہے انبیاء کرام کسی چیز کے وجود میں آنے سے پہلے اس کا مشاہدہ کر سکتے ہیں :-  حضرت ثوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’میں اپنی امت میں سے ان قوموں کو جانتا ہوں کہ جب وہ قیامت کے دن آئیں گے تو ان کی نیکیاں تِہامہ کے پہاڑوں کی مانند ہوں گی لیکن اللہ تعالیٰ انہیں روشندان سے نظر آنے والے غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح (بے وقعت) کر دے گا۔ حضرت ثوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، ہمارے سامنے ان لوگوں کا صاف صاف حال بیان فرما دیجئے تاکہ ہم معلومات نہ ہوتے ہوئے ان لوگوں میں شریک نہ ہو جائیں ۔ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’وہ تمہارے بھائی، تمہارے ہم قوم ہوں گے ۔ راتوں کو تمہاری طرح عبادت کیا کریں گے لیکن ...

حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شان اللہ تعالی نے علم لدُنی عطا فرمایا علم لدنی سے مراد غیب کا علم ہے :-

حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شان اللہ تعالی نے علم لدُنی عطا فرمایا علم لدنی سے مراد غیب کا علم ہے :- ترجمۂ کنز العرفان        خادم نے عرض کی: سنئے ! جب ہم نے اس چٹان کے پاس (آرام کیلئے) ٹھکانہ بنایا تھا تو بیشک میں مچھلی (کے متعلق بتانا) بھول گیا تھا اور مجھے شیطان ہی نے اس کا ذکر کرنا بھلادیا اور (ہوا یہ ہے کہ) مچھلی نے سمندر میں اپنا راستہ بڑا عجیب بنایا۔ موسیٰ نے فرمایا: یہی تو ہم چاہتے تھے پھر وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانات دیکھتے واپس لوٹ گئے۔ تو انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایاجسے ہم نے اپنے پاس سے خاص رحمت دی تھی اور اسے اپنا علم لدنی عطا فرمایا۔(سورۃ الکہف آیت نمبر ہے 63/65) اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شان میں مزید دو باتیں ارشاد فرمائیں ۔    ایک یہ کہ اسے ہم نے اپنے پاس سے خاص رحمت دی تھی۔ اس رحمت سے نبوت مراد ہے یا ولایت یا علم یا لمبی زندگی۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ولی تو بالیقین ہیں جبکہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَال...