ذوالقرنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے وقت قرآن تو نازل نہیں ہوا تھا اس کے باوجود آپ جانتے تھے قیامت سے پہلے یاجوج اور ماجوج دیوار توڑ کر باہر نکلیں گے مگر آج قرآن کو جاننے والے اپنے نبی کے علم غیب کو نہیں جانتے :-

ذوالقرنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے وقت قرآن تو نازل نہیں ہوا تھا اس کے باوجود آپ جانتے تھے قیامت سے پہلے یاجوج اور ماجوج دیوار توڑ کر باہر نکلیں گے مگر آج قرآن کو جاننے والے اپنے نبی کے علم غیب کو نہیں جانتے :-
 ترجمۂ کنز العرفان         
ذوالقرنین نے کہا: یہ میرے رب کی رحمت ہے پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا تو اسے پاش پاش کردے گا اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔(سورۃ الکہف آیت نمبر 98)
 تفسیر صراط الجنان          
{ قَالَ : کہا۔} حضرت ذوالقرنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ یہ دیوار میرے رب عَزَّوَجَلَّ کی رحمت اور اس کی نعمت ہے کیونکہ یہ یاجوج اور ماجوج کے نکلنے میں رکاوٹ ہے، پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا اور قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کے خُروج کا وقت آپہنچے گا تو میرا رب عَزَّوَجَلَّ اس دیوار کو پاش پاش کردے گا اور میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے ان کے نکلنے کا جو وعدہ فرمایا ہے وہ اور اس کے علاوہ ہر وعدہ سچا ہے۔ ( خازن، الکہف، تحت الآیۃ : ۹۸، ۳ / ۲۲۶، جلالین، الکہف، تحت الآیۃ : ۹۸، ص۲۵۲، ملتقطاً )    
یاجوج اور ماجوج کے نکلنے سے متعلق ترمذی شریف میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’یاجوج ماجوج روزانہ اس دیوار کوکھودتے رہتے ہیں حتّٰی کہ جب اسے توڑنے کے قریب ہوتے ہیں تو ان کا سردار کہتا ہے :اب واپس چلو ،باقی کل توڑ لیں گے ۔ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ اسے پہلے سے بہتر کر دیتا ہے یہاں تک کہ جب ان کی مدت پوری ہو جائے گی اور اللہ تعالیٰ انہیں لوگوں پر بھیجنا چاہے گا تو ان کا سردار کہے گا: واپس لوٹ جاؤ، اِنْ شَآءَ اللہ کل تم اسے توڑ ڈالو گے۔ (یہ بات) وہ اِستثناء (یعنی اِنْ شَآءَ اللّٰہ ) کے ساتھ کہے گا۔ (دوسرے دن) جب وہ واپس آئیں گے تو اسے ویسے ہی پائیں گے جس طرح چھوڑ کر گئے تھے، چنانچہ وہ اسے توڑ کر باہر لوگوں پر نکل آئیں گے۔ ( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الکہف ، ۵ / ۱۰۴، الحدیث: ۳۱۶۴ )

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-