Posts

Showing posts from January, 2021

انبیاء کرام تو خود وسیلہ تلاش کرتے ہیں :-

انبیاء کرام تو خود وسیلہ تلاش کرتے ہیں :-  ترجمۂ کنز العرفان      وہ مقبول بندے جن کی یہ کافر عبادت کرتے ہیں وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہے ۔وہ اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں بیشک تمہارے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے۔(سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر 39)  تفسیر صراط الجنان       {  اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ  : وہ جنہیں  یہ پوجتے ہیں ۔}   کفارکے بہت سے گروہ تھے۔ کوئی بتوں اور دیوی ، دیوتاؤں کو پوجتا تھا اور کوئی فرشتوں کو، یونہی عیسائی حضرت عیسیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو خدا یا خدا کا بیٹا کہتے تھے اور یہودیوں کا ایک گروہ حضرت عزیر   عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو ، یونہی بہت سے لوگ ایسے جنوں کو پوجتے تھے جو اسلام قبول کرچکے تھے لیکن ان کے پوجنے والوں  کو خبر نہ تھی تو  اللّٰہ  تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور اُن لوگوں  کوشرم دلائی کہ   اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کے سوا جن مُقَرَّبینِ...

حضور ﷺ کی معراج مکہ کے کافروں کے لئے آزمائش تھی آج کے منافقوں کیلئے بھی آزمائش ہیں جو معراج کو خواب کہتے ہیں :-

حضور ﷺ کی معراج مکہ کے کافروں کے لئے آزمائش تھی آج کے منافقوں کیلئے بھی آزمائش ہیں جو معراج کو خواب کہتے ہیں :-   ترجمۂ کنز العرفان          اور جب ہم نے تم سے فرمایا: بیشک سب لوگ تمہارے رب کے قابو میں ہیں اور ہم نے آپ کو جو مشاہدہ کرایا اسے لوگوں کیلئے آزمائش بنادیا اور اس درخت کو بھی جس پرقرآن میں لعنت کی گئی ہے اور ہم انہیں ڈراتے ہیں تو یہ ڈرانا ان کی بڑی سرکشی میں اضافہ کردیتاہے۔(سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر 59)  تفسیر صراط الجنان           { وَ اِذْ قُلْنَا لَكَ : اور جب ہم نے تم سے فرمایا۔} یعنی فرمایا گیا کہ سب لوگ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے قبضۂ قدرت میں ہیں تو آپ تبلیغ فرمائیے اور کسی کا خوف نہ کیجئے، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ کا نگہبان ہے۔ ( خازن، الاسراء، تحت الآیۃ : ۶۰ ، ۳ / ۱۷۹-۱۸۰ )     { اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ : مگر لوگوں کیلئے آزمائش۔} ارشاد فرمایا کہ شب ِ معراج بیداری کی حالت میں جو آیات ِ الٰہیہ کا آپ کومعائنہ کروایا گیا تو وہ لوگوں کیلئے ایک آزمائش تھا چنانچہ جب رس...

حقیقی ہدایت تو صرف اللہ تعالی کی طرف سے ہوتی ہیں انبیاء کرام اولیاء اللہ اور آسمانی کتاب یہ سب اسباب ہیں جب ہم اسباب کا ذکر کرتے ہیں اللہ تعالی کے محبوب بندوں سے عداوت رکھنے والے انکار کرتے ہیں ان کا انکار قرآن اور حدیث کا انکار ہوتا ہے :-

حقیقی ہدایت تو صرف اللہ تعالی کی طرف سے ہوتی ہیں انبیاء کرام اولیاء اللہ اور آسمانی کتاب یہ سب اسباب ہیں جب ہم اسباب کا ذکر کرتے ہیں اللہ تعالی کے محبوب بندوں سے عداوت رکھنے والے انکار کرتے ہیں ان کا انکار قرآن اور حدیث کا انکار ہوتا ہے :-  ترجمۂ کنز العرفان            اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنادیا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ بناؤ۔(سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر 2)  تفسیر صراط الجنان             { وَ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ : اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی ۔} اس سے پہلی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے اس اکرام کا ذکرفرمایا جو اس نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر فرمایا اور اس آیت میں وہ اپنے اس اکرام کا ذکر فرما رہا ہے جو اس نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام پر فرمایا چنانچہ ارشاد فرمایا کہ ہم نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام کو کتاب تورات عطافرمائی اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنادیا...

بندہ کہتے ہیں روح اور جسم کے ساتھ کو اگر معراج خواب میں ہوتی تو بندے کا الفاظ نہیں ہوتا نہ کافروں کو اعتراض ہوتا نہ صدیق اکبر کو تصدیق کرنے پر صدیق کا لقب ملتا :-

بندہ کہتے ہیں روح اور جسم کے ساتھ کو اگر معراج خواب میں ہوتی تو بندے کا الفاظ نہیں ہوتا نہ کافروں کو اعتراض ہوتا نہ صدیق اکبر کو تصدیق کرنے پر صدیق کا لقب ملتا :- ترجمۂ کنز العرفان              پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے خاص بندے کو رات کے کچھ حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی جس کے اردگرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں ، بیشک وہی سننے والا، دیکھنے والاہے۔(سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر 1) { سُبْحٰنَ الَّذِیْ : پاک ہے وہ ذات۔} اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ہر کمزوری، عیب اور نقص سے خداوند ِ قدوس کی عظیم ذات پاک ہے جس نے اپنے خاص بندے یعنی مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو شبِ معراج رات کے کچھ حصے میں مسجد ِحرام سے مسجد ِاقصیٰ تک سیر کرائی حالانکہ مسجد ِ اقصیٰ مکۂ مکرمہ سے تیس دن سے زیادہ کی مسافت پر ہے، وہ مسجد ِاقصیٰ جس کے اردگرد ہم نے دینی و دُنْیَوی برکتیں رکھی ہیں اور سیر کرانے کی حکمت یہ تھی کہ اللّٰہ عَزَّوَجَل اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ ...

کفر کرنے والے کو کافر کہنا صحابہ کا طریقہ ہیں صحابی کے دل کے ایمان کو جاننا حضور ﷺ کا کمال ہیں :-

کفر کرنے والے کو کافر کہنا صحابہ کا طریقہ ہیں صحابی کے دل کے ایمان کو جاننا حضور ﷺ کا کمال ہیں :-  ترجمۂ کنز العرفان              جو ایمان لانے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر کرے سوائے اس آدمی کے جسے (کفرپر) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پرجما ہوا ہولیکن وہ جو دل کھول کر کافر ہوں ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کیلئے بڑا عذاب ہے۔(سورۃ النحل آیت نمبر 105)  تفسیر صراط الجنان                مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖ : جو ایمان لانے کے بعد اللّٰہ کے ساتھ کفر کرے۔} شانِ نزول :یہ آیت حضرت عمار بن یاسر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضرت عمار، ان کے والد حضرت یاسر ، ان کی والدہ حضرت سمیہ، حضرت صہیب، حضرت بلال، حضرت خباب اور حضرت سالم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو پکڑ کر کفار نے سخت سخت ایذائیں دیں تاکہ وہ اسلام سے پھر جائیں (لیکن یہ حضرات اسلام سے نہ پھرے تو) کفار نے حضرت عمار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے والدین کو بڑی بے رحمی سے شہیدکر دیا۔ ...

سلام بھی دعا ہے درود پڑھنا بھی دعا ہے دعا کے لئے وقت اور مقام بدل جائے تو وہ بدعت نہیں ہوتی دعا ہی رہتی ہیں :-

سلام بھی دعا ہے درود پڑھنا بھی دعا ہے دعا کے لئے وقت اور مقام بدل جائے تو وہ بدعت نہیں ہوتی دعا ہی  رہتی ہیں :- ترجمۂ کنز العرفان      اور وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے وہ جنتوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ، اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ ان میں رہیں گے ، وہاں اُن کی ملاقات کی دعا ،سلام ہے۔(سورۃ ابراہیم آیت نمبر 23)  تفسیر صراط الجنان       {  اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا  :  جو ایمان لائے۔}   اس سے پہلی آیتوں میں   اللّٰہ  تعالیٰ نے کافر اور بدکار لوگوں  کے حالات تفصیل سے بیان فرمائے اور اس آیت میں  مومن اور نیکوکار لوگوں کے حالات بیان فرما رہا ہے، چنانچہ اس آیت میں  بیان فرمایا کہ ایمان قبول کرنے اور نیک اعمال کرنے والوں  کو  اللّٰہ تعالیٰ کے اِذن سے جنت کی دائمی نعمتیں  عطا کی جائیں  گی اور   اللّٰہ   تعالیٰ کے   اِذن سے انہیں نعمتیں    عطا ہونا بھی ان کے حق میں ایک طرح کی تعظیم ہے اور وہ خود بھی ایک دوسرے کی تعظ...

Ta'weez Pahenne Ka Saboot Sahaabi Aur Mohaddiseen Se

Ta'weez Pahenne Ka Saboot Sahaabi Aur Mohaddiseen Se*   *1 - Jaam'e Tirmizi, Hadees No.3528*  Tarjumah - "Rasoolullah ﷺ Ne Farmaaya Ke Jab Tum Me Se Koi Nee'nd Me Darr Jaaye To Yeh Du'aa Padhe "أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُون" Tarjumah - Mai'n Panaah Maa'ngta Hoo'n Allah Ke Kaamil Wa Jaam'e Kalmo'n Ke Zariye Allah Ke Gazab, Allah Ke Azaab Aur Allah Ke Bando'n Ke Sharr Wa Fasaad Aur Shayaateen Ke Waswaso'n Se Aur Iss Baat Se Ke Woh Humaare Pass Aaye'n. Yeh Du'aa Padhne Se Pareshaan Kun Khwaab  Usko Kuchh Nuqsaan Nahi Paho'ncha Sakega. Hazrate Abdullah Bin Umar Radiallahu Anhu Apne Baalig Bachcho'n Ko Yeh Du'aa Sikha Dete The Aur Jo Bachche Na Baalig Hote The Unke Liye Yeh Du'aa Kaagaz Pe Likh Kar Unke Gale Me Latka Dete The".  Imaam Tirmizi Rahmatullah Alaih Kehte Hai'n Ke Yeh Hadees Hasan Gareeb...

اللہ تعالی بجلی کی کڑک اور گرج سے کافر کو ہلاک کرتا ہے اور حضور ﷺ علم غیب سے صحابہ کو کافر کی موت کی خبر دیتے ہیں :-

اللہ تعالی بجلی کی کڑک اور گرج سے کافر کو ہلاک کرتا ہے اور حضور ﷺ علم غیب سے صحابہ کو کافر کی موت کی خبر دیتے ہیں :- ترجمۂ کنز العرفان          اور رعد اس کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتا ہے اور اس کے خوف سے فرشتے بھی (تسبیح کرتے ہیں ۔) اور وہ کڑک بھیجتا ہے تو اسے جس پر چاہتا ہے ڈال دیتا ہے حالانکہ وہ لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑرہے ہوتے ہیں اور وہ سخت پکڑنے والا ہے۔(سورۃ الرعد آیت نمبر 13)  تفسیر صراط الجنان           { وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ  :  اور وہ کڑک بھیجتا ہے۔}  صَاعِقَہْ اس شدید آواز کو کہتے ہیں  جو آسمان وزمین کے درمیان سے اترتی ہے، پھر اس میں  آگ پیدا ہوجاتی ہے یا عذاب یا موت اور وہ شدید آواز اپنی ذات میں  ایک ہی چیز ہے اور یہ تینوں  چیزیں  اسی سے پیدا ہوتی ہیں ۔ شانِ نزول:حضرت حسن  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی ہے کہ نبی کریم         صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے عرب کے ایک نہایت سرکش کافر کو اسلام کی ...

حضرت یوسف علیہ السلام وحی کے علم غیب سے جانتے تھے برسوں بعد اپنے بھائیوں کو ان کا ظلم ان کو یاد دلاؤ گے اس وقت وہ آپ کو پہچانتے نہ ہوں گے :-

حضرت یوسف علیہ السلام وحی کے علم غیب سے جانتے تھے برسوں بعد اپنے بھائیوں کو ان کا ظلم ان کو یاد دلاؤ گے اس وقت وہ  آپ کو پہچانتے نہ ہوں گے :-   ترجمۂ کنز العرفان              پھر جب وہ اسے لے گئے اور سب نے اتفاق کرلیا کہ اسے تاریک کنویں میں ڈال دیں اور ہم نے اسے وحی بھیجی کہ تم ضرور انہیں ان کی یہ حرکت یاد دلاؤ گے اور اس وقت وہ جانتے نہ ہوں گے۔(سورۃ یوسف آیت نمبر 15)  تفسیر صراط الجنان               {  فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ  :  پھر جب وہ اسے لے گئے۔}  جب حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  نے حضرت یوسف  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  کو ان کے بھائیوں کے ساتھ بھیج دیا تو جب تک حضرت یعقوب  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  انہیں دیکھتے رہے تب تک تو وہ حضرت یوسف  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام  کو اپنے کندھوں پر سوار کئے ہوئے عزت و احترام کے ساتھ لے گئے اور جب دور نکل       گئے اور حضرت یعقوب  عَلَیْہِ ا...

حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے گلے میں جنتی ریشم کی قمیص گلے میں تعویذ تو انبیاء کرام کی سنت ہیں :--

حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے گلے میں جنتی ریشم کی قمیص گلے میں تعویذ تو انبیاء کرام کی سنت ہیں :--    ترجمۂ کنز العرفان                انہوں نے کہا: اگر اسے بھیڑیا کھا جائے حالانکہ ہم ایک جماعت (موجود ) ہوں جب تو ہم کسی کام کے نہ ہوئے۔(سورۃ یوسف آیت نمبر 9)  تفسیر صراط الجنان                 {  قَالُوْا  :   انہوں نے کہا۔} حضرت یوسف   عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام    کے بھائیوں نے جواب دیا ’’ہم دس مردوں کے وہاں موجود ہوتے ہوئے اگر اسے بھیڑیا کھا جائے جب تو ہم کسی کام کے نہ ہوئے لہٰذا انہیں ہمارے ساتھ بھیج دیجئے۔ چنانچہ  اللہ   تعالیٰ کی تقدیر یونہی تھی کہ حضرت یعقوب   عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  نے اجازت دی اور روانگی کے وقت حضرت ابراہیم  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   کی وہ قمیص جو جنتی ریشم کی تھی اور جس وقت حضرت ابراہیم   عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   ...

قومِ ثمود کب کہاں کیسے مریگی صالح علیہ السلام علم غیب سے جانتے تھے منافق ان آیات سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کرتے ہیں جس آیات میں نہ بتانے کا حکم ہیں :-

قومِ ثمود کب کہاں کیسے مریگی صالح علیہ السلام  علم غیب سے جانتے تھے  منافق ان آیات سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کرتے ہیں جس آیات میں نہ بتانے کا حکم ہیں :-  ترجمۂ کنز العرفان            تو انہوں نے اس کے پاؤں کی پچھلی جانب کے اوپر والی ٹانگوں کی رگیں کاٹ دیں تو صا لح نے فرمایا: تم اپنے گھرو ں میں تین دن مزید فائدہ اٹھالو۔ یہ ایک وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا۔(سورۃ  ھود آیت نمبر 65)  تفسیر صراط الجنان             {فَعَقَرُوْهَا :  تو انہوں نے اس کے پاؤں کے اوپر ٹانگوں کی رگیں کاٹ دیں۔}  قومِ ثمود نے اللہ  تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کی اور بدھ کے دن انہوں نے اس اونٹنی کی ایڑیوں کے اوپر ٹانگوں کی رگیں کاٹ دیں۔ اس کے بعد حضرت صالح  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  نے ان سے فرمایا: اپنے گھروں میں تین دن یعنی  جمعہ تک جو کچھ دنیا کا عیش کرنا ہے کرلو، ہفتے کے دن تم پر عذاب آجائے گا اور اس کی علامت یہ ہے کہ پہلے دن تمہارے چہرے زرد ہوجائیں گے ، دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن یعنی جمعہ ک...

حضور ﷺ کا وحی میں خیانت کرنا ناممکن ہے باطل فرقے والے وحی میں خیانت کرتے ہیں وحی کے نزول کا مقصد چھوڑ کر آیت کا غلط مفہوم بیان کرتے ہیں اس آیات سے حضور ﷺ کے لئے ہر علم کا اظہار لازمی نہیں صرف احکام شریعت لازمی ہے :-ترجمۂ کنز العرفان

حضور ﷺ  کا وحی میں خیانت کرنا ناممکن ہے باطل فرقے والے وحی میں خیانت کرتے ہیں وحی کے نزول کا مقصد چھوڑ کر آیت کا غلط مفہوم بیان کرتے ہیں اس آیات سے حضور ﷺ کے لئے ہر علم  کا اظہار لازمی نہیں صرف احکام شریعت  لازمی ہے :- ترجمۂ کنز العرفان              تو کیا تمہاری طرف جو وحی بھیجی جاتی ہے تم اس میں سے کچھ چھوڑ دو گے اور اس پرتمہارا دل اس وجہ سے تنگ ہوجائے گا کہ وہ کہتے ہیں : ان پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اترتا یا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آتا؟ تم تو ڈر سنانے والے ہو ، اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔(سورۃ ھود آیت نمبر 12)  تفسیر صراط الجنان               { فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ  :  تو کیا تمہاری طرف جو وحی بھیجی جاتی ہے تم اس میں سے کچھ چھوڑ دو گے۔}  اس آیت کی تفسیر میں علماء نے فرمایا ہے کہ  اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس کے حبیب  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  رسالت کی ادائیگی  میں کمی کرنے والے نہیں اور اُس نے ا...

اہلے حدیث فرقہ اجتمای دعا کو بدعت سمجھتے جو اس آیات کے خلاف ہیں :-

اہلے حدیث فرقہ اجتمای دعا کو بدعت سمجھتے جو اس آیات کے خلاف ہیں :-  *ترجمۂکنز العرفان*  اور موسیٰ نے عرض کی: اے ہمارے رب! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں آرائش اور مال دیدیا، اے ہمارے رب! تاکہ وہ تیرے راستے سے بھٹکا دیں ۔ اے ہمارے رب ! ان کے مال برباد کردے اور ان کے دلوں کو سخت کردے تاکہ وہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں  (اللہ نے ) فرمایا: تم دونوں کی دعا قبول ہوئی پس تم ثابت قدم رہو اورنادانوں کے راستے پر نہ چلنا۔ *(سورۃ یونس آیت نمبر 88/89)*   تفسیر صراط الجنان             { قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا  :  ( اللہ  نے )  فرمایا: تم دونوں کی دعا قبول ہوئی۔}  اس آیت میں  دعا کی نسبت حضرت موسیٰ  اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دونوں کی طرف کی گئی حالانکہ حضرت موسیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دعا کرتے تھے اور حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  آمین کہتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آمین کہنے والا بھی دعا کرنے والوں...