اللہ تعالی بجلی کی کڑک اور گرج سے کافر کو ہلاک کرتا ہے اور حضور ﷺ علم غیب سے صحابہ کو کافر کی موت کی خبر دیتے ہیں :-

اللہ تعالی بجلی کی کڑک اور گرج سے کافر کو ہلاک کرتا ہے اور حضور ﷺ علم غیب سے صحابہ کو کافر کی موت کی خبر دیتے ہیں :-
ترجمۂ کنز العرفان         
اور رعد اس کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتا ہے اور اس کے خوف سے فرشتے بھی (تسبیح کرتے ہیں ۔) اور وہ کڑک بھیجتا ہے تو اسے جس پر چاہتا ہے ڈال دیتا ہے حالانکہ وہ لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑرہے ہوتے ہیں اور وہ سخت پکڑنے والا ہے۔(سورۃ الرعد آیت نمبر 13)
 تفسیر صراط الجنان          
{ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ  :  اور وہ کڑک بھیجتا ہے۔}  صَاعِقَہْ اس شدید آواز کو کہتے ہیں  جو آسمان وزمین کے درمیان سے اترتی ہے، پھر اس میں  آگ پیدا ہوجاتی ہے یا عذاب یا موت اور وہ شدید آواز اپنی ذات میں  ایک ہی چیز ہے اور یہ تینوں  چیزیں  اسی سے پیدا ہوتی ہیں ۔ شانِ نزول:حضرت حسن  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی ہے کہ نبی کریم         صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے عرب کے ایک نہایت سرکش کافر کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے اپنے چند صحابۂ کرام         رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم  کو بھیجا، انہوں  نے اس کافر کو دعوت دی تو وہ کہنے لگا ’’محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) کا رب کون ہے جس کی تم مجھے دعوت دیتے ہو۔ کیا وہ سونے کا ہے یا چاندی کا ، لوہے کا ہے یا تانبے کا؟ مسلمانوں  کو یہ بات بہت گراں  گزری اور انہوں  نے واپس آکرحضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے عرض کیا کہ ایسا بڑا کافر، سیاہ دل اور سرکش دیکھنے میں  نہیں  آیا۔ حضور پُرنور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’ اس کے پاس پھر جاؤ۔ اس نے پھر وہی گفتگو کی اور اتنا مزید کہا کہ کیا محمد ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ) کی دعوت قبول کرکے میں  ایسے رب کو مان لوں  جسے نہ میں  نے دیکھا نہ پہچانا ؟یہ حضرات پھر واپس ہوئے اور انہوں  نے عرض کی کہ حضور!  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، اس کی خباثت تو اور ترقی پر ہے۔ ارشاد فرمایا ’’ پھر جاؤ۔ صحابۂ کرام  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم  حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پھر گئے ،جس وقت اس سے گفتگو کررہے تھے اور وہ ایسی ہی سیاہ دلی کی باتیں  بک رہا تھا تو ایک بادل آیا، اس سے بجلی چمکی اور کڑک پیدا ہوئی ، کچھ دیر بعد بجلی گری اور اس کافر کو جلا دیا۔ یہ حضرات اس کے پاس بیٹھے رہے اور جب وہاں  سے واپس ہوئے تو راستے میں  انہیں  صحابۂ کرام  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم         کی ایک اور جماعت ملی ،وہ کہنے لگے’’ کہیے ،وہ شخص جل گیا ؟ان حضرات نے کہا ’’آپ لوگوں  کو کیسے معلوم ہوگیا ؟انہوں  نے فرمایا ’’ سرکارِ دو عالَم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے پاس وحی آئی ہے۔ ’’  وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ    ‘(خازن، الرعد، تحت الآیۃ :  ۱۳  ،  ۳ / ۵۷ )

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے