حضرت یوسف علیہ السلام وحی کے علم غیب سے جانتے تھے برسوں بعد اپنے بھائیوں کو ان کا ظلم ان کو یاد دلاؤ گے اس وقت وہ آپ کو پہچانتے نہ ہوں گے :-

حضرت یوسف علیہ السلام وحی کے علم غیب سے جانتے تھے برسوں بعد اپنے بھائیوں کو ان کا ظلم ان کو یاد دلاؤ گے اس وقت وہ  آپ کو پہچانتے نہ ہوں گے :-
  ترجمۂ کنز العرفان             
پھر جب وہ اسے لے گئے اور سب نے اتفاق کرلیا کہ اسے تاریک کنویں میں ڈال دیں اور ہم نے اسے وحی بھیجی کہ تم ضرور انہیں ان کی یہ حرکت یاد دلاؤ گے اور اس وقت وہ جانتے نہ ہوں گے۔(سورۃ یوسف آیت نمبر 15)
 تفسیر صراط الجنان              
{  فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ  :  پھر جب وہ اسے لے گئے۔}  جب حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  نے حضرت یوسف  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  کو ان کے بھائیوں کے ساتھ بھیج دیا تو جب تک حضرت یعقوب  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  انہیں دیکھتے رہے تب تک تو وہ حضرت یوسف  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام  کو اپنے کندھوں پر سوار کئے ہوئے عزت و احترام کے ساتھ لے گئے اور جب دور نکل       گئے اور حضرت یعقوب  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی نظروں سے غائب ہوگئے تو انہوں نے حضرت یوسف  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو زمین پر دے ٹپکا اور دلوں میں جو عداوت تھی وہ ظاہر ہوئی، حضرت یوسف  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  جس کی طرف جاتے تھے وہ مارتا اور طعنے دیتا تھا اور خواب جو کسی طرح انہوں نے سن لیا تھا اس پر برا بھلاکہتے تھے اور کہتے تھے اپنے خواب کوبلا، وہ اب  تجھے ہمارے ہاتھوں سے چھڑائے۔ جب سختیاں حد کو پہنچیں تو حضرت یوسف  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  نے یہود اسے کہا: خدا سے  ڈر، اور ان لوگوں کو ان زیادتیوں سے روک ۔ یہودا نے اپنے بھائیوں سے کہا کہ تم نے مجھ سے کیا عہد کیا تھا کہ انہیں قتل نہیں  کیا جائے گا، تب وہ ان حرکتوں سے باز آئے اور سب نے اتفاق کرلیا کہ حضرت یوسف  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو تاریک کنویں میں ڈال دیں چنانچہ انہوں نے ایسا کیا۔ یہ کنواں کنعان سے تین فرسنگ  (یعنی 9  میل)  کے فاصلہ پراُرْدُن کی سرزمین  کے اَطراف میں واقع تھا، اوپر سے اس کا منہ تنگ تھا اور اندر سے کُشادہ، حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہاتھ  پائوں باندھ کر قمیص اتار کر کنوئیں میں چھوڑا ،جب وہ اس کی نصف گہرائی تک پہنچے تو رسی چھوڑ دی تاکہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام    پانی میں گر کر ہلاک ہوجائیں۔  اللہ  تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبریل امین   عَلَیْہِ السَّلَام   پہنچے اور انہوں نے آپ کو کنویں میں   موجود ایک پتھر پر بٹھا دیا اور آپ کے ہاتھ کھول دیئے۔  ( روح البیان، یوسف، تحت الآیۃ:  ۱۵  ،  ۴ /  ۲۲۳ )      
{  وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ   :  اور ہم نے اسے وحی بھیجی۔}  اللہ   تعالیٰ نے حضرت جبریل       عَلَیْہِ السَّلَام  کے واسطے سے یا اِلہام کے ذریعے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ آپ غمگین نہ ہوں ،ہم آپ کو گہرے کنویں سے نکال کر بلند مقام پر پہنچائیں گے اور تمہارے بھائیوں کو حاجت مند بنا کر تمہارے پاس لائیں گے اور انہیں تمہارے زیرِ فرمان کریں گے اور اے پیارے یوسف!       عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ، ایک دن ایسا آئے گا کہ تم ضرور انہیں ان کایہ ظالمانہ کام یاد دلاؤ گے جو انہوں نے اِس وقت تمہارے ساتھ کیا  اور وہ اُس وقت تمہیں نہ جانتے ہوں گے کہ تم یوسف ہو کیونکہ اس وقت آپ کی شان بلند ہوگی اور آپ سلطنت و حکومت کی مسند پر ہوں گے جس کی وجہ سے وہ آپ کو پہچان نہ سکیں گے۔  (ابو سعود، یوسف، تحت الآیۃ:  ۱۵،  ۳  / ۸۶  ، ملخصاً )  قصہ مختصر حضرت یوسف  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کے بھائی انہیں کنوئیں میں ڈال کر واپس ہوئے اور حضرت یوسف  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   کی قمیص جو اتار لی تھی اس کو ایک بکری کے بچے کے خون میں رنگ کر ساتھ لے لیا۔

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-