حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے گلے میں جنتی ریشم کی قمیص گلے میں تعویذ تو انبیاء کرام کی سنت ہیں :--
حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے گلے میں جنتی ریشم کی قمیص گلے میں تعویذ تو انبیاء کرام کی سنت ہیں :--
ترجمۂ کنز العرفان
انہوں نے کہا: اگر اسے بھیڑیا کھا جائے حالانکہ ہم ایک جماعت (موجود ) ہوں جب تو ہم کسی کام کے نہ ہوئے۔(سورۃ یوسف آیت نمبر 9)
تفسیر صراط الجنان
{ قَالُوْا : انہوں نے کہا۔} حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بھائیوں نے جواب دیا ’’ہم دس مردوں کے وہاں موجود ہوتے ہوئے اگر اسے بھیڑیا کھا جائے جب تو ہم کسی کام کے نہ ہوئے لہٰذا انہیں ہمارے ساتھ بھیج دیجئے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر یونہی تھی کہ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اجازت دی اور روانگی کے وقت حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وہ قمیص جو جنتی ریشم کی تھی اور جس وقت حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کپڑے اتار کر آگ میں ڈالا گیا تو حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے وہ قمیص آپ کو پہنائی تھی اور وہ قمیص مبارک حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے حضرت اسحق عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اور ان سے ان کے فرزند حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پہنچی تھی، حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وہ قمیص تعویذ بنا کر حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے گلے میں ڈال دی۔ ( خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۴ ، ۳ / ۷ ، روح البیان، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۴ ، ۴ / ۲۲۲ ، ملتقطاً )
Comments
Post a Comment