حقیقی ہدایت تو صرف اللہ تعالی کی طرف سے ہوتی ہیں انبیاء کرام اولیاء اللہ اور آسمانی کتاب یہ سب اسباب ہیں جب ہم اسباب کا ذکر کرتے ہیں اللہ تعالی کے محبوب بندوں سے عداوت رکھنے والے انکار کرتے ہیں ان کا انکار قرآن اور حدیث کا انکار ہوتا ہے :-

حقیقی ہدایت تو صرف اللہ تعالی کی طرف سے ہوتی ہیں انبیاء کرام اولیاء اللہ اور آسمانی کتاب یہ سب اسباب ہیں جب ہم اسباب کا ذکر کرتے ہیں اللہ تعالی کے محبوب بندوں سے عداوت رکھنے والے انکار کرتے ہیں ان کا انکار قرآن اور حدیث کا انکار ہوتا ہے :-
 ترجمۂ کنز العرفان           
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنادیا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ بناؤ۔(سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر 2)
 تفسیر صراط الجنان            
{ وَ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ : اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی ۔} اس سے پہلی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے اس اکرام کا ذکرفرمایا جو اس نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر فرمایا اور اس آیت میں وہ اپنے اس اکرام کا ذکر فرما رہا ہے جو اس نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام پر فرمایا چنانچہ ارشاد فرمایا کہ ہم نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام کو کتاب تورات عطافرمائی اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنادیا کہ وہ اس کتاب کے ذریعے انہیں جہالت اور کفر کےاندھیروں سے علم اور دین کے نور کی طرف نکالتے ہیں تاکہ اے بنی اسرائیل ! تم میرے سوا کسی کو کارساز نہ بناؤ۔ (تفسیرکبیر، الاسراء، تحت الآیۃ : ۲ ، ۷ / ۲۹۷)

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-