حضور ﷺ اعمال میں وزن سے محروم ہونے والے لوگوں کو جانتے ہیں جاننے اور پہچاننے میں فرق ہوتا ہیں پہچاننا صرف صورت سے ہوتا ہے جاننا مکمل تفصیل سے ہوتا ہے انبیاء کرام کسی چیز کے وجود میں آنے سے پہلے اس کا مشاہدہ کر سکتے ہیں :-
حضور ﷺ اعمال میں وزن سے محروم ہونے والے لوگوں کو جانتے ہیں جاننے اور پہچاننے میں فرق ہوتا ہیں پہچاننا صرف صورت سے ہوتا ہے جاننا مکمل تفصیل سے ہوتا ہے انبیاء کرام کسی چیز کے وجود میں آنے سے پہلے اس کا مشاہدہ کر سکتے ہیں :-
حضرت ثوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’میں اپنی امت میں سے ان قوموں کو جانتا ہوں کہ جب وہ قیامت کے دن آئیں گے تو ان کی نیکیاں تِہامہ کے پہاڑوں کی مانند ہوں گی لیکن اللہ تعالیٰ انہیں روشندان سے نظر آنے والے غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح (بے وقعت) کر دے گا۔ حضرت ثوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، ہمارے سامنے ان لوگوں کا صاف صاف حال بیان فرما دیجئے تاکہ ہم معلومات نہ ہوتے ہوئے ان لوگوں میں شریک نہ ہو جائیں ۔ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’وہ تمہارے بھائی، تمہارے ہم قوم ہوں گے ۔ راتوں کو تمہاری طرح عبادت کیا کریں گے لیکن وہ لوگ تنہائی میں برے اَفعال کے مُرتکب ہوں گے۔ ( ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر الذنوب ، ۴ / ۴۸۹، الحدیث: ۴۲۴۵ )
اور حضرت ابو حذیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے آزاد کردہ غلام حضرت سالِم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’قیامت کے دن کچھ لوگ ایسے آئیں گے کہ ان کے پاس تہامہ کے پہاڑوں کے برابر نیکیاں ہو ں گی، یہاں تک کہ جب انہیں لایا جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو روشندان سے نظر آنے والےغبار کے ذروں کی طرح (بے وقعت) کر دے گا ، پھر انہیں جہنم میں ڈال دے گا۔ حضرت سالِم نے عرض کی: یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، میرے ماں باپ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر قربان ہو جائیں ! ہمیں ان لوگوں کا حال بتا دیجئے ؟ ارشاد فرمایا ’’وہ لوگ نماز پڑھتے ہوں گے ، روزے رکھتے ہوں گے لیکن جب ان کے سامنے کوئی حرام چیز پیش کی جائے تو وہ اس پر کود پڑیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے اعمال باطل فرما دے گا۔ ( حلیۃ الاولیا، سالم مولی ابی حذیفۃ ، ۱ / ۱۳۳، الحدیث: ۵۷۵ )
اور حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ قیامت کے دن بعض لوگ ایسے اعمال لائیں گے جو اُن کے خیالوں میں مکہ مکرمہ کے پہاڑوں سے زیادہ بڑے ہوں گے لیکن جب وہ تولے جائیں گے تو ان میں وزن کچھ نہ ہوگا۔ ( خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۰۵، ۳ / ۲۲۷)
Comments
Post a Comment