حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضور ﷺ کافر لڑکے کے دل ایمان کو جانتے تھے اگر وہ زندہ رہیگا تو اپنے والدین کو بھی کفر میں مبتلا کردے گا اگر کوئی نبی کے علم پر اعتراض کرتا ہے تو اس کو ڈرنا چاہیے کہیں اس کی موت کفر پر نہ ہو :-

حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضور ﷺ کافر لڑکے کے دل ایمان کو جانتے تھے اگر وہ زندہ رہیگا تو اپنے والدین کو بھی کفر میں مبتلا کردے گا اگر کوئی نبی کے علم پر اعتراض کرتا ہے تو اس کو ڈرنا چاہیے کہیں اس کی موت کفر پر نہ ہو :-
ترجمۂ کنز العرفان         
پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب انہیں ایک لڑکا ملا تو اس نے اسے قتل کردیا۔ موسیٰ نے کہا: کیا تم نے کسی جان کے بدلے کے بغیر ایک پاکیزہ جان کوقتل کردیا۔ بیشک تم نے بہت ناپسندیدہ کام کیا ہے۔ اور وہ جو لڑکا تھا تو اس کے ماں باپ مسلمان تھے تو ہمیں ڈر ہوا کہ وہ لڑکا انہیں بھی سرکشی اور کفر میں ڈال دے گا۔ تو ہم نے چاہا کہ اُن کا رب اُنہیں پاکیزگی میں پہلے سے بہتر اور حسنِ سلوک اوررحمت و شفقت میں زیادہ مہربان عطا کردے۔(سورۃ الکہف آیت نمبر 74,80,81)
 تفسیر صراط الجنان      
{ وَ اَمَّا الْغُلٰمُ : اور وہ جو لڑکا تھا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنے دوسرے فعل کی حکمت بیان کرتے ہوئے حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ وہ لڑکا جسے میں نے قتل کیا تھا، اس کے ماں باپ مسلمان تھے تو ہمیں ڈر ہوا کہ وہ بڑا ہوکر انہیں بھی سرکشی اور کفر میں ڈال دے گا اور وہ اس لڑکے کی محبت میں دین سے پھر جائیں اور گمراہ ہوجائیں گے، اس لئے ہم نے چاہا کہ ان کا رب عَزَّوَجَلَّ اس لڑکے سے بہتر ،گناہوں اور نجاستوں سے پاک اور ستھرا اور پہلے سے زیادہ اچھا لڑکا عطا فرمائے جو والدین کے ساتھ ادب سے پیش آئے، ان سے حسنِ سلوک کرے اور ان سے دلی محبت رکھتا ہو۔ ( روح البیان، الکہف، تحت الآیۃ : ۸۰-۸۱، ۵ / ۲۸۵، خازن، الکہف، تحت الآیۃ : ۸۰-۸۱، ۳ / ۲۲۱، ملتقطاً )  
  یاد رہے کہ حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ اندیشہ اس سبب سے تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے خبر دینے کی وجہ سے اس لڑکے کے باطنی حال کو جانتے تھے۔ (جمل، الکہف، تحت الآیۃ : ۸۰، ۴ / ۴۴۷ )
مسلم شریف میں حضرت اُبی بن کعب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس لڑکے کو حضرت خضر عَلَیْہِالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے قتل کر دیا تھا وہ کافر ہی پیدا ہوا تھا اگر وہ زندہ رہتا تو اپنے ماں باپ کو کفر اور سرکشی میں مبتلا کر دیتا۔ ( مسلم، کتاب القدر، باب کلّ مولود یولد علی الفطرۃ الخ، ص۱۴۳۰، الحدیث۲۹(۲۶۶۱) )  
باطن کا حال جان کر کسی کو قتل کرنا جائز ہے یا نہیں؟   
یہ بھی یاد رہے کہ ہمارے زمانے میں اگر کوئی ولی کسی کے ایسے باطنی حال پر مطلع ہوجائے کہ یہ آگے جا کر کفر اختیار کر لے گا اور دوسروں کو کافر بھی بنا دے گا اور اس کی موت بھی حالتِ کفر میں ہوگی تو وہ ولی اس بنا پر اسے قتل نہیں کر سکتا، جیسا کہ امام سُبکی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ باطن کاحال جان کر بچے کو قتل کردینا حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ خاص ہے، انہیں اس کی اجازت تھی ۔اب اگر کوئی ولی کسی بچے کے ایسے حال پر مطلع ہو تو اُس کے لئے قتل کرنا جائز نہیں ہے۔ ( جمل، الکہف، تحت الآیۃ : ۸۰، ۴ / ۴۴۸ )

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے