خارجیوں کی وہ نشانیاں جو صحیح حدیث میں ذکر کی گئی ہے وہ سلوار ٹخنوں سے اوپر پہنیں گے کافروں کی آیت مسلمانوں پر چسپاں کریں گے ان کے جوان جو دین میں جاھل ہونگے اور کثرت سے سر منڈو آئیں گے جن میں یہ علامت ہو وہ حدیث سے تحقیق کر لے خارجیوں کا مختصر تعارف :- ‏

خارجیوں کی وہ نشانیاں جو صحیح حدیث میں ذکر کی گئی ہے وہ سلوار ٹخنوں سے اوپر پہنیں گے کافروں کی آیت مسلمانوں پر چسپاں کریں گے ان کے جوان جو دین میں جاھل ہونگے اور کثرت سے سر منڈو آئیں گے جن میں یہ علامت ہو وہ حدیث سے تحقیق کر لے خارجیوں کا مختصر تعارف :-  
 خارجیوں میں سب سے پہلا اور ان میں سب سے بدتر شخص ذُوالْخُوَیصِرَہ تمیمی تھا۔ اس نے حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تقسیم پر اعتراض کر کے آپ کی شان میں گستاخی کی تھی ۔ اس کے اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا تھا کہ یہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ اسی وجہ سے انہیں خارجی یعنی دین سے نکل جانے والا کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ ظاہری طور پر بڑے عبادت گزار، شب بیدار تھے اور ان کی عبادت و ریاضت اور تلاوت ِقرآن میں مشغولیت دیکھ کر صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ بھی حیرا ن ہوتے تھے لیکن ان کے عقائد و نظریات انتہائی باطل تھے ۔ان کاایک بہت بڑا عقیدہ یہ تھا کہ جو کبیرہ گناہ کرے وہ مشرک ہے اور جو ان کے اس عقیدے کامخالف ہو وہ بھی مشرک ہے ۔ ان ظالموں نے حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو بھی مَعَاذَ اللہ مشرک قرار دے دیا تھا اور نہروان کے مقام پر آپ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے جنگ کی تھی۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ ان کی تمام تر ظاہری عبادت و ریاضت،تقویٰ و طہارت اور رات رات بھر تلاوت ِقرآن کرنے کو خاطر میں نہ لائے اور ان کے باطل عقائد کی وجہ سے ان کے ساتھ جنگ کی اور انہیں قتل کیا۔  
اس سے معلوم ہوا کہ کسی کی لمبی لمبی اور ظاہری خشوع وخضوع سے بھر پور نمازیں ، رقت انگیز اور درد بھری آواز میں قرآنِ مجید کی تلاوتیں ،اللہ تعالیٰ کی گرفت اور اس کے عذابات سے ڈرانے والے وعظ اور نصیحتیں اور دیگر ظاہری نیک اعمال اس وقت تک قابلِ قبول نہیں جب تک ا س کے عقائد درست نہ ہوں ، لہٰذا ہر شخص کو چاہئے کہ وہ بد عقیدہ اور بد مذہب شخص کی کثرتِ عبادت، تقویٰ و طہارت اور دیگر نیک نظر آنے والی چیزوں سے ہر گزمتأثِّر نہ ہو اور نہ ہی ان چیزوں کو دیکھ کر ان کی طرف مائل ہو بلکہ ان سے ہمیشہ دور ہی رہے کہ اسی میں اس کی دنیا وآخرت کی بھلائی ہے۔ 
 ظاہری اعمال اچھے ہونا حق پر ہونے کی دلیل نہیں :  
ترجمۂ کنز العرفان     
تم فرماؤ: کیا ہم تمہیں بتادیں کہ سب سے زیادہ ناقص عمل والے کون ہیں ؟(سورۃ الکہف آیت نمبر 98)
اس سے اشارۃً یہ معلوم ہو اکہ کسی کے ظاہری اعمال اچھے ہونا اس کے حق پر ہونے کی دلیل نہیں ، اور صحیح بخاری میں تو خارجیوں سے متعلق صراحت کے ساتھ مذکور ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے ارشاد فرمایا ’’ تم اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے مقابلے میں اور اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے مقابلے میں حقیر جانو گے ،یہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، یہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ (بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوّۃ فی الاسلام، ۲ / ۵۰۳، الحدیث: ۳۶۱۰ )

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے