حضور ﷺ نے ہمیں علم غیب سے بتایا فرشتہ کو ماں کے پیٹ میں 4 باتوں کا علم غیب دیا گیا بچہ مُذَکَّر ہے یا مُؤنَّث؟ یہ بد بخت ہے یا سعادت مند؟ اس کا رزق کتنا ہے؟ اس کی عمر کتنی ہے ؟ مگر منافقوں نے حضور ﷺ کے ساتھ فرشتوں کے بھی علم غیب کا انکار کیا منافق کچھ نہیں جانتے وہ گمراہ ہیں :-
حضور ﷺ نے ہمیں علم غیب سے بتایا فرشتہ کو ماں کے پیٹ میں 4 باتوں کا علم غیب دیا گیا بچہ مُذَکَّر ہے یا مُؤنَّث؟ یہ بد بخت ہے یا سعادت مند؟ اس کا رزق کتنا ہے؟ اس کی عمر کتنی ہے ؟ مگر منافقوں نے حضور ﷺ کے ساتھ فرشتوں کے بھی علم غیب کا انکار کیا منافق کچھ نہیں جانتے وہ گمراہ ہیں :-
(1) اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اے عائشہ! اللّٰہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کو جنت کا اہل بنایا حالانکہ وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے اور بعض لوگوں کو جہنم کا اہل بنایا حالانکہ وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے۔ *(مسلم، کتاب القدر، باب کلّ مولود یولد علی الفطرۃ۔الخ، ص ۱۴۳۱، الحدیث: ۳۱(۲۶۶۲))*
(2) حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللّٰہ تعالیٰ عورت کے رحم پر ایک فرشتہ مقرر فرما دیتا ہے تو وہ عرض کرتا ہے:اے میرے رب!یہ تو نطفہ ہے،یہ تو خون کا لوتھڑا ہے،یہ تو گوشت کا ٹکڑا ہے،اور جب اللّٰہ تعالیٰ اسے پیدا کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو فرشتہ عرض کرتا ہے :یہ مُذَکَّر ہے یا مُؤنَّث؟ یہ بد بخت ہے یا سعادت مند؟ اس کا رزق کتنا ہے؟ اس کی عمر کتنی ہے ؟ تو (جس طرح بتایا جاتا ہے) اسی کے مطابق اس کی والدہ کے پیٹ میں لکھ دیا جاتا ہے۔ *(بخاری، کتاب القدر، باب فی القدر، ۴ / ۲۷۱ ، الحدیث: ۶۵۹۵)*
(3) حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، صادِق اور مَصدوق رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے ہر ایک کا نطفہ اس کی والدہ کے پیٹ میں چالیس دن تک رہتا ہے ،پھر اتنے ہی دن وہ جما ہوا خون رہتا ہے ،پھر اتنے ہی دنوں تک وہ گوشت کی بوٹی کی صورت میں رہتا ہے ،پھر اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے تو اسے چار باتوں کی اجازت دی جاتی ہے ، چنانچہ وہ اس کا رزق، موت، عمل اور بدبخت یا نیک بخت ہونا لکھ دیتا ہے ،پھر اس کے اندر رُوح پھونکی جاتی ہے ،پس تم میں سے کوئی اہلِ جنت جیسے عمل کرتا رہتاہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف گز بھر کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس پر لکھا ہوا غالب آ تا ہے اور وہ اہلِ جہنم جیسے کام کرنے لگتا ہے حتّٰی کہ جہنم میں داخل ہوجاتا ہے اور تم میں سے کوئی اہلِ جہنم جیسے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان صرف گز بھر کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس پر لکھا ہوا غالب آ جاتا ہے اور وہ اہلِ جنت جیسے عمل کر کے جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ *(بخاری، کتاب التوحید، باب ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین، ۴/ ۵۶۰ ، الحدیث: ۷۴۵۴ )*
تفسیر اور اَحادیث کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات خاص طور پریاد رہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو بے بس اور مجبور نہیں بنایا بلکہ اسے عمر کے آخری حصے تک یہ اختیار دیا ہے کہ وہ کفر اور ایمان میں سے یونہی اچھے اور برے اعمال میں جسے چاہے اختیار کرے لہٰذا اس کا کافر یا مسلمان ہونا یونہی نیک یا گناہگار ہونا اس کے اپنے اختیار سے ہے اور جو کچھ انسان نے اپنے اختیار سے کرنا تھا اس کا اللّٰہ تعالیٰ کو ازل سے ہی علم تھا اور اسی کے موافق لوحِ محفوظ میں اور ماں کے پیٹ میں فرشتے نے لکھا ہے۔
Comments
Post a Comment