امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا بھی یہی عقیدہ ہیں قبر والے سننتے بھی ہیں اور جواب بھی دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کا خوف بڑی اعلیٰ نعمت ہے: -*

 امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا بھی یہی عقیدہ ہیں قبر والے سننتے بھی ہیں اور جواب بھی دیتے ہیں اللہ  تعالیٰ کا خوف بڑی اعلیٰ نعمت ہے: -* 

امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  کے زمانۂ مبارک میں   ایک نوجوان بہت متقی و پرہیز گار و  عبادت گزار تھا، حتّٰی کہ حضرت عمر   رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ   بھی اس کی  عبادت پر تعجب کیا کرتے تھے ۔وہ نوجوان نمازِ عشاء مسجد میں  ادا کرنے کے بعداپنے بوڑھے باپ کی خدمت کرنے کے لئے جایا کرتا تھا ۔ راستے میں ایک خوبرُو عورت اسے اپنی طرف بلاتی اور چھیڑتی تھی، لیکن یہ نوجوان اس پر توجہ دئیے بغیر نگاہیں   جھکائے گزر جایا کرتا تھا ۔ آخر کار ایک دن وہ نوجوان شیطان کے ورغلانے اور اس عورت کی دعوت پر برائی کے ارادے سے اس کی جانب بڑھا، لیکن جب دروازے پر پہنچا تو اسے  اللہ  تعالیٰ کا یہی فرمانِ عالیشان یاد 

آگیا: اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓىٕفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَ ‘‘ 

 *ترجمہکنزُالعِرفان* :بیشک جب شیطان کی طرف سے پرہیزگاروں  کو کوئی خیال آتا ہے تو وہ فوراًحکمِ خدا یاد کرتے ہیں  پھر اسی وقت ان کی آنکھیں  کھل جاتی ہیں ۔ 

 اس آیتِ پاک کے یاد آتے ہی اس کے دل پر  اللہ  تعالیٰ کا خوف اس قدر غالب ہوا کہ وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر گیا ۔جب یہ بہت دیر تک گھر نہ پہنچا تو اس کا بوڑھا باپ اسے تلاش کرتا ہوا وہاں   پہنچا اور لوگوں   کی مدد سے اسے اٹھوا کر گھر لے آیا۔ ہوش آنے پر باپ نے تمام واقعہ دریافت کیا ، نوجوان نے پورا واقعہ بیان کر کے جب اس آیت ِ پاک کا ذکر کیا، تو ایک مرتبہ پھر اس پر  اللہ  تعالیٰ کا شدید خوف غالب ہوا ،اس نے ایک زور دار چیخ ماری اور اس کا دم نکل گیا۔ راتوں   رات ہی اس کے غسل و کفن ودفن کا انتظام کر دیاگیا۔ صبح جب یہ واقعہ حضرت عمر  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ   کی خدمت میں   پیش کیا گیا تو آپ اُس کے باپ کے پاس تَعْزِیَت کے لئے تشریف لے گئے اور اس سے فرمایا کہ ’’ آپ نے ہمیں   اطلاع کیوں   نہیں   دی ؟ (تا کہ ہم بھی جنازے میں   شریک ہو جاتے)  ۔اس نے عرض کی ’’امیر المومنین!اس کاانتقال رات میں   ہوا تھا (اور آپ کے آرام کا خیال کرتے ہوئے بتانامناسب معلوم نہ ہوا) ۔ آپ نے فرمایا کہ ’’مجھے اس کی قبر پر لے چلو۔‘‘ وہاں   پہنچ کر آپ نے یہ آیتِ مبارکہ پڑھی:  ’’ وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ ‘‘ 

 *ترجمہکنزُالعِرفان* : اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں   ہیں ۔ 

 تو قبر میں   سے اس نوجوان نے جواب دیتے ہوئے کہا: یا امیرَ المومنین!بیشک میرے رب نے مجھے دو جنتیں   عطا فرمائی ہیں ۔‘‘ *( ابن عساکر، ذکر من اسمہ عمرو، عمرو بن جامع بن عمرو بن محمدالخ،  ۴۵  /  ۴۵۰ ، ذمّ الہوی، الباب الثانی و الثلاثون فی فضل من ذکر ربّہ فترک ذنبہ، ص ۱۹۰ - ۱۹۱ )* 

 *اللہ  تعالیٰ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرنے والے کو دو جنتیں  ملنے کی وجوہات:-* 

  دو جنتوں   سے مراد جنت ِعَدن اور جنت ِنعیم ہے اور دو جنتیں  ملنے کی وجوہات مفسرین نے مختلف بیان فرمائی ہیں ۔ 

( 1 )  ایک جنت  اللہ  تعالیٰ سے ڈر نے کا صلہ ہے اور ایک نفسانی خواہشات ترک کرنے کا صلہ ہے ۔ 

( 2 ) ایک جنت اس کے درست عقیدہ رکھنے کا صلہ ہے اور ایک جنت اس کے نیک اعمال کا صلہ ہے ۔ 

( 3 ) ایک جنت اس کے فرمانبرداری کرنے کا صلہ ہے اور ایک جنت گناہ چھوڑ دینے کا صلہ ہے۔ 

( 4 ) ایک جنت ثواب کے طور پر ملے گی اور ایک جنت  اللہ  تعالیٰ کے فضل کے طور پر ملے گی ۔ 

( 5 ) ایک جنت اس کی رہائش کے لئے ہو گی اور دوسری جنت اس کی بیویوں   کی رہائش کے لئے ہو گی۔ *( خازن، الرحمٰن، تحت الآیۃ:  ۴۶ ،  ۴  / ۲۱۳ ، صاوی، الرحمٰن، تحت الآیۃ:  ۴۶ ،  ۶  /  ۲۰۸۱ ، ملتقطاً )*

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-