دیکھوں اور سمجھوں مسلمانوں منافق کسی کے دوست نہیں ہوتے وہ صرف جھوٹے ہوتے ہیں حضور ﷺ ان کے درمیان کی باتوں کو بھی جانتے ہیں مگر منافق غیب کی باتو کو نہیں مانتے :-
دیکھوں اور سمجھوں مسلمانوں منافق کسی کے دوست نہیں ہوتے وہ صرف جھوٹے ہوتے ہیں حضور ﷺ ان کے درمیان کی باتوں کو بھی جانتے ہیں مگر منافق غیب کی باتو کو نہیں مانتے :-
ترجمۂ کنز العرفان
کیا تم نے منافقوں کو نہ دیکھا کہ اپنے اہلِ کتاب کافر بھائیوں سے کہتے ہیں کہ قسم ہے اگر تم نکالے گئے تو ضرور ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے اور ہرگز تمہارے بارے میں کسی کا کہنا نہ مانیں گے اور اگر تم سے لڑائی کی گئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یقینا وہ ضرور جھوٹے ہیں ۔ *(سورۃ الحشر آیت نمبر 11)*
تفسیر صراط الجنان
{ اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا : کیا تم نے منافقوں کو نہ دیکھا۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، کیا آپ نے عبد اللّٰہ بن اُبی سلول منافق اور اس کے ساتھیوں کو نہ دیکھا کہ اپنے اہل ِکتاب کافر بھائیوں بنو قریظہ اور بنو نضیر سے کہتے ہیں کہ اگر تم مدینہ منورہ سے نکالے گئے تو ضرور ہم تمہارے ساتھ جائیں گے اور ہرگز تمہارے خلاف کسی کا کہا نہ مانیں گے نہ مسلمانوں کا نہ رسولِ اکرم کا ،اور اگر تم سے لڑائی ہوئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے اور تمہارے ساتھ مل کر لڑیں گے ۔ اللّٰہ تعالیٰ گواہ ہے کہ یہودیوں سے منافقین کے یہ سب وعدے جھوٹے ہیں ۔ *(روح البیان،الحشر،تحت الآیۃ: ۱۱، ۹ / ۴۳۸ ، خازن، الحشر، تحت الآیۃ: ۱۱، ۴ / ۲۵۰، مدارک، الحشر، تحت الآیۃ: ۱۱، ص ۱۲۲۶ ، ملتقطاً)*
آیت اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا سے حاصل ہونے والی معلومات: *اس آیت سے چار باتیں معلوم ہوئیں ،*
(1) منافق کفار کے بھائی ہیں مومنوں کے بھائی نہیں ، اگرچہ وہ بظاہر کلمہ پڑھتے ہیں لیکن وقت پر کفار ہی کا ساتھ دیتے ہیں ۔
(2) کفار کو بھائی سمجھنا اور بھائی کہنا منافقوں کا کام ہے۔
( 3) منافق در حقیقت کسی کا ساتھی نہیں اور نہ ہی اس کے وعدوں کا کوئی اعتبار ہے، نہ کفار کو اس پر اعتبار آتا ہے اور نہ مسلمانوں کو۔
(4) اللّٰہ تعالیٰ اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ان کے خفیہ رازوں پر اطلاع دیتا ہے کیونکہ منافقوں کی یہ گفتگو نہایت راز داری کے ساتھ تنہائی میں ہوئی تھی۔
Comments
Post a Comment