انسان اور جن زمین کے کناروں سے نکل سکتے عیسی علیہ السلام اور حضور ﷺ نے زمین کے کناروں کو پار کیا ہیں مگر دیوبندی نے ترجمہ کیا ہے نہیں نکل سکتے ہو جو قرآن حدیث کے بھی خلاف ہیں اور سائنس کے بھی خلاف ہیں :-

 انسان اور جن  زمین کے کناروں سے نکل سکتے  عیسی علیہ السلام اور حضور ﷺ نے زمین کے کناروں کو پار کیا ہیں مگر دیوبندی نے ترجمہ کیا ہے نہیں نکل سکتے ہو جو قرآن حدیث کے بھی خلاف ہیں اور سائنس کے بھی خلاف ہیں :-

  ترجمۂ کنز العرفان   

اے جنوں اور انسانوں کے گروہ! اگر تم سے ہوسکے کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ،تم جہاں نکل کر جاؤ گے (وہاں ) اسی کی سلطنت ہے۔ توتم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (سورۃ الرحمن آیت نمبر 33/34)

 تفسیر صراط الجنان    

{ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ : اے جنوں اور انسانوں کے گروہ!}  اس آیت میں اللہ  تعالیٰ نے جنوں  اور انسانوں  سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم میری قضاء سے بھاگ سکتے ہو،میری سلطنت اور میرے آسمانوں  اور زمین کے کناروں  سے نکل سکتے ہو تو ان سے نکل جاؤ اور اپنی جانوں  کو میرے عذاب سے بچالو لیکن تم اس بات پر قادر ہو ہی نہیں  سکتے کیونکہ تم جہاں  بھی جاؤ گے وہیں  میری سلطنت ہے۔یہ حکم جنوں  اور انسانوں  کا عجز ظاہر کرنے کے لئے دیا گیا ہے۔  (ابو سعود، الرحمٰن، تحت الآیۃ:  ۳۳ ،  ۵/ ۶۶۴ ، جلالین، الرحمٰن، تحت الآیۃ:  ۳۳ ، ص ۴۴۴ ، ملتقطاً ) 

{ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ : توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں   کو جھٹلاؤ گے؟}  یعنی اے جن اور انسان کے گروہ!  اللہ  تعالیٰ نے سزا دینے پر قادر ہونے کے باوجود تمہیں   تنبیہ کر کے،اپنے عذاب سے ڈرا کر، تم پر آسانی فرما کر  اور تمہیں   معافی سے نواز کر تم پر جو انعامات فرمائے، تم دونوں   ان میں   سے اپنے رب    عَزَّوَجَلَّ  کی کون کون سی نعمتوں   کو  جھٹلاؤ گے؟ (  ابو سعود، الرحمٰن، تحت الآیۃ:  ۳۴ ،  ۵  /  ۶۶۴ ، ملخصاً )

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے