رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ملنے والا ثواب حضور ﷺ کو قیامت تک جتنے مسلمان عمل کرنے والے ہونگے سب کے عمال کا ثواب ملیگا امتی کا سونے کا پہاڑ صدقہ کرنا صحابہ کا ایک کھجور صدقہ کرنے کے برابر ثواب ہیں دیوبندی قاسم نانوتوی تحزیر الناس میں لکھتا ہیں امتی عمل میں نبی سے آگے بڑھ سکتا ہیں قاسم نانوتوی نے جتنے لوگوں کو گمراہ کیا سب کی گمراہی کا گنہہ بھی قاسم نانوتوی کو ملیگا
رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ملنے والا ثواب حضور ﷺ کو قیامت تک جتنے مسلمان عمل کرنے والے ہونگے سب کے عمال کا ثواب ملیگا امتی کا سونے کا پہاڑ صدقہ کرنا صحابہ کا ایک کھجور صدقہ کرنے کے برابر ثواب ہیں دیوبندی قاسم نانوتوی تحزیر الناس میں لکھتا ہیں امتی عمل میں نبی سے آگے بڑھ سکتا ہیں قاسم نانوتوی نے جتنے لوگوں کو گمراہ کیا سب کی گمراہی کا گنہہ بھی قاسم نانوتوی کو ملیگا :-*
ترجمۂ کنز العرفان
اور یقینا تمہارے لیے ضرور بے انتہا ثواب ہے۔ *(سورۃ القلم آیت نمبر 3)*
تفسیر صراط الجنان
{ وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍ : اور یقینا تمہارے لیے ضرور بے انتہا ثواب ہے۔} ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، ضرور تمہارے لیے رسالت کی تبلیغ، نبوت کے اِظہار ، مخلوق کو اللّٰہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور کفار کی ان بے ہودہ باتوں اِفتراؤں اور طعنوں پر صبر کرنے کا بے انتہاء ثواب ہے لہٰذا کفار جو آپ کی طرف جنون کی نسبت کر رہے ہیں آپ اسے خاطر میں نہ لائیے اور رسالت کی تبلیغ کے اہم کام کو جاری رکھئے۔ *(خازن، ن، تحت الآیۃ: ۳ ، ۴ / ۲۹۴)*
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں : ’’حق جَلَّ وَ عَلَا نے فرمایا: وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍ
اور بے شک تیرے لیے اجر بے پایاں ہے۔
کہ تو ان دیوانوں کی بدزبانی پر صبر کرتا اور حِلم وکرم سے پیش آتا ہے ۔مجنون تو چلتی ہوا سے اُلجھا کرتے ہیں ، تیرا سا حِلم وصبر کوئی تمام عالَم کے عقلاء میں تو بتادے ۔ *( فتاوی رضویہ، ۳۰ / ۱۶۴)*
یاد رہے کہ تمام مسلمانوں کی نیکیوں کا ثواب اضافے در اضافے کے ساتھ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے نامۂ اعمال میں درج ہوتا ہے،مثال کے طور پر رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جتنے لوگوں کو مسلمان کیا تو انہیں مسلمان کرنے کا ثواب حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ملے گا اور ان کے تمام نیک اعمال کا ثواب ان کے ساتھ ساتھ حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بھی ملے گا،اسی طرح ان مسلمانوں نے آگے جتنے لوگوں کو مسلمان کیا تو اُن کو مسلمان کرنے کا اور ان کی نیکیوں کاثواب اِن مسلمانوں کو بھی ملے گا اور ان کے ثواب کے ساتھ مل کر اضافے کے ساتھ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بھی ملے گا ، اسی طرح قیامت تک سلسلہ در سلسلہ جتنے لوگ مسلمان ہوتے جائیں گے اور نیک اعمال کرتے جائیں گے سب کے مسلمان ہونے اور نیک اعمال کرنے کا ثواب بے انتہا اضافے کے ساتھ سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بھی ملے گا۔اسی طرح کا مضمون علامہ عبد الرؤف مناوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے’’ فیض القدیر‘‘ کی جلد نمبر 11 کے صفحہ نمبر 5789 پر امام مقریزی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے حوالے سے ذکر کیا ہے۔اور ہدایت کی دعوت دینے والوں اور دین میں اچھا طریقہ جاری کرنے والوں کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص نے ہدایت کی دعوت دی اسے اس ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے برابر اجر ملے گا اور ان کے اجروں میں کوئی کمی نہیں ہو گی اور جس شخص نے کسی گمراہی کی دعوت دی اسے اس گمراہی کی پیروی کرنے والوں کے برابر گناہ ہو گا اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ *(مسلم، کتاب العلم، باب من سنّ سنۃ حسنۃ الخ، ص ۱۴۳۸، الحدیث: ۱۶(۲۶۷۴) )*
اور حضرت جریر بن عبداللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ جس شخص نے مسلمانوں میں کسی نیک طریقے کی ابتداء کی اور اس کے بعد اس طریقے پر عمل کیا گیا تو اس طریقے پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی اس کے نامۂ اعمال میں لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کے اجر میں کمی نہیں ہو گی اور جس شخص نے مسلمانوں میں کسی برے طریقے کی ابتداء کی اور اس کے بعد ا س طریقے پر عمل کیا گیا تو اس طریقے پر عمل کرنے والوں کا گناہ بھی اس شخص کے نامۂ اعمال میں لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ *(مسلم، کتاب العلم، باب من سنّ سنۃ حسنۃ الخ، ص۱۴۳۷ ، الحدیث: ۱۵(۱۷۱۰))*
Comments
Post a Comment