یعنی ہر شخص اپنی عملی حالت کو ان کفار کی حالت پر قیاس کر لے جن کا ٹھکانہ جہنم ہیں مستحب عمل میں اگر حرام کام شامل ہوجاے تو علما اس پر حرام کا فتویٰ دی سکتے ہیں تعزیہ داری بھی حرام ہیں جس کا حکم قرآن حدیث میں نہ ہو علما وہاں پر قیاس سے فیصلہ کر سکتے ہیں :-
یعنی ہر شخص اپنی عملی حالت کو ان کفار کی حالت پر قیاس کر لے جن کا ٹھکانہ جہنم ہیں مستحب عمل میں اگر حرام کام شامل ہوجاے تو علما اس پر حرام کا فتویٰ دی سکتے ہیں تعزیہ داری بھی حرام ہیں جس کا حکم قرآن حدیث میں نہ ہو علما وہاں پر قیاس سے فیصلہ کر سکتے ہیں :-
’’ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ *(حشر: ۲ )*
*ترجمہکنزُالعِرفان* : تو اے آنکھوں والو! عبرت حاصل کرو۔
سنن ابو داؤد میں ہے کہ جب نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو یمن کی طرف بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو ان سے ارشاد فرمایا: ’’جب تمہارے سامنے مقدمہ پیش ہو گا تو تم کیسے فیصلہ کرو گے ۔حضرت معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا۔رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر تم اللہ تعالیٰ کی کتاب میں (اس کا حکم) نہ پاؤ (تو کیسے فیصلہ کرو گے) ۔ حضرت معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: اللہ تعالیٰ کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنت سے فیصلہ کروں گا۔حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ اگر تم رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنت میں (اس کا حکم) نہ پاؤ اور نہ ہی کتابُ اللہ میں پاؤ (تو کیسے فیصلہ کرو گے) حضرت معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : میں اپنی رائے سے اِجتہاد کروں گا اور حقیقت تک پہنچنے میں کوتاہی نہ کروں گا۔ (ان کی بات سن کر) حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کے سینے کو تھپکا اورفرمایا: ’’خدا عَزَّوَجَلَّ کا شکر ہے کہ جس نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بھیجے ہوئے کو اس چیز کی توفیق بخشی جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو خوش کرے۔ *(ابو داؤد، کتاب الاقضیۃ، باب اجتہاد الرأی فی القضاء، ۳ / ۴۲۴ ، الحدیث: ۳۵۹۲ )*
حضرت موسیٰ بن یسار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے،نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی چیز پیدا نہیں فرمائی جو اسے دنیا سے زیادہ ناپسندیدہ ہو اور اللہ تعالیٰ نے جب سے دنیا پیدا فرمائی ہے تب سے اس کی طرف نظر نہیں فرمائی ۔ *(شعب الایمان، الحادی والسبعون من شعب الایمان۔الخ، ۷ / ۳۳۸ ، الحدیث: ۱۰۵۰۰ )*
علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اصل مقصود نہیں بنایا بلکہ اسے مقصود تک پہنچنے کا راستہ بنایا ہے۔ *(روح البیان، النجم، تحت الآیۃ: ۳۰، ۹ / ۲۴۰)* اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت عطا فرمائے اور آخرت کی تیاری کی توفیق دے، اٰمین۔
Comments
Post a Comment