کس عورت کے پاس کہا خفیہ خط ملیگا حضور ﷺ جانتے تھے علم غیب کے منکر قرآن تفسیر اس لئے نہیں پڑھتے سب ان کے عقیدہ کے خلاف ہوتی ورنہ خود بھی گمراہی سے بچ جائے :-

 کس  عورت کے پاس کہا خفیہ  خط ملیگا حضور ﷺ جانتے تھے علم غیب کے منکر قرآن تفسیر اس لئے نہیں پڑھتے سب ان کے عقیدہ کے خلاف ہوتی ورنہ خود بھی گمراہی سے بچ جائے :- 

 ترجمۂ کنز العرفان     

اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ ،تم انہیں دوستی کی وجہ سے خبریں پہنچاتے ہو حالانکہ یقینا وہ اس حق کے منکر ہیں جو تمہارے پاس آیا، وہ رسول کو اور تمہیں اس بنا پر نکالتے ہیں کہ تم اپنے رب اللہ پر ایمان لائے، اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے اور میری رضا طلب کرنے کیلئے نکلے تھے (تو ان سے دوستی نہ کرو) تم ان کی طرف محبت کا خفیہ پیغام بھیجتے ہو اور میں ہر اس چیز کوخوب جانتا ہوں جسے تم نے چھپایا اور جسے تم نے ظاہر کیا اور تم میں سے جو یہ (دوستی) کرے توبیشک وہ سیدھی راہ سے بہک گیا۔ *(سورۃ الممتحنۃ آیت نمبر 1)* 

 تفسیر صراط الجنان      

{  یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ  : اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں  کو دوست نہ بناؤ۔}   شانِ نزول: بنی ہاشم کے خاندان کی ایک باندی ’’سارہ‘‘ مدینہ منورہ میں  سرکارِ دو عالَم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی بارگاہ میں اس وقت حاضر ہوئی جب آپ فتحِ مکہ کی تیاری فرمارہے تھے۔ حضور اقدس  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اس سے فرمایا’’  کیا تو مسلمان ہو کر آئی ہے؟ اُس نے کہا: نہیں ۔ارشاد فرمایا’’ کیا ہجرت کرکے آئی ہے؟ اس نے عرض کی: نہیں ۔ارشاد فرمایا’’ پھر کیوں آئی ہو؟ اُس نے عرض کی:محتاجی سے تنگ ہو کرآئی ہوں ۔حضرت عبدالمطلب کی اولاد نے اس کی امداد کرتے ہوئے کپڑے بنائے اور سامان دیا۔حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ   اُس سے ملے تو اُنہوں  نے اسے دس دینار دئیے، ایک چادر دی اوراس کی معرفت ایک خط اہلِ مکہ کے پاس بھیجا جس کا مضمون یہ تھا:حضور انور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   تم پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ، تم سے اپنے بچاؤ کی جو تدبیر ہوسکے کرلو۔ سارہ یہ خط لے کر روانہ ہوگئی۔  اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اس کی خبر دی تو حضور اکرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے چند اَصحاب کو جن میں حضرت علی المرتضیٰ  کَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  بھی تھے ،  گھوڑوں  پر روانہ کیا اور فرمایا’’روضہِ خاخ کے مقام پر تمہیں ایک مسافر عورت ملے گی، اس کے پاس حاطب بن ابی بلتعہ کا خط ہے جو اہلِ مکہ کے نام لکھا گیا ہے، وہ خط اس سے لے لو اور اس کو چھوڑ دو، اگر خط دینے سے انکارکرے تو اس کی گردن ماردو۔یہ حضرات روانہ ہوئے اور عورت کو ٹھیک اسی مقام پر پایا جہاں  حضور اقدس    صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا تھا ،اس سے خط مانگا تووہ انکار کر گئی اور قسم کھا گئی۔ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ   نے واپسی کا ارادہ کیا تو حضرت علی المرتضیٰ  کَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے قسم کھا کر فرمایا: سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خبر واقع کے خلاف ہوہی نہیں  سکتی ، پھر تلوار کھینچ کر   عورت سے فرمایا    ـ  :  تو خط نکال دے ورنہ میں تیری گردن اڑا دوں  گا۔ جب اُس نے دیکھا کہ حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہ  تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  قتل کرنے پر بالکل آمادہ ہیں تو اس نے اپنے جُوڑے میں  سے خط نکال کر دے دیا۔جب یہ حضرات خط لے کر واپس پہنچے تو حضور اکرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے حضرت حاطب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بلا کر فرمایا’’ اے حاطب!   خط لکھنے کی وجہ کیا تھی؟اُنہوں نے عرض کی:  یا رسول  اللّٰہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ، میں جب سے اسلام لایا ہوں  تب سے کبھی میں نے کفر نہیں  کیا اور جب سے حضور کی نیاز مندی مُیَسَّر آئی ہے تب سے کبھی آپ کے ساتھ خیانت نہ کی اور جب سے اہلِ مکہ کو چھوڑا ہے تب سے کبھی اُن کی محبت دل میں  نہ آئی ، لیکن واقعہ یہ ہے کہ میں  قریش میں  رہتا تھا اور اُن کی قوم میں سے نہ تھا، میرے سوا دوسرے مہاجرین کے مکہ مکرمہ میں  رشتہ دار ہیں جو ان کے گھر بار کی نگرانی کرتے ہیں (لیکن میرا وہاں کوئی رشتہ دار نہیں )   مجھے اپنے گھر والوں کے بارے اندیشہ تھا اس لئے میں  نے یہ چاہا کہ میں    اہلِ مکہ پر کچھ احسان رکھ دوں تاکہ وہ میرے گھر والوں  کو نہ ستائیں  اور یہ بات میں یقین سے جانتا ہوں  کہ اللّٰہ تعالیٰ اہلِ مکہ پر عذاب نازل فرمانے   والا ہے،میرا خط انہیں بچا نہ سکے گا۔تاجدارِ رسالت  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اُن کا یہ عذر  قبول فرمایا اور ان کی تصدیق کی۔ حضرت عمر فاروق  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی:   یا رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، مجھے اجازت دیجئے تاکہ اس منافق کی گردن ماردوں ۔ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا:   ’’اے عمر! رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  اللّٰہ تعالیٰ خبردار ہے جب ہی اُس نے اہلِ بدر کے حق میں فرمایا کہ جو چاہو کرو میں نے تمہیں  بخش دیا ہے،یہ سن کر حضرت عمر  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی آنکھوں میں آنسو جاری ہوگئے اور یہ آیات نازل ہوئیں ۔  

اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ جو میرے اور تمہارے دشمن ہیں تم انہیں دوستی کی وجہ سے رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی پوشیدہ خبریں  پہنچاتے ہو حالانکہ وہ تمہارے پاس آئے ہوئے حق یعنی اسلام اور قرآن کا انکار کرتے ہیں ، رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اور تمہیں اس بنا پر مکہ مکرمہ سے نکالتے ہیں    کہ تم اپنے رب  عَزَّوَجَلَّ  پر ایمان لائے ہو، اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے اور میری رضا طلب کرنے کیلئے اپنے وطن سے نکلے تھے تو ان کافروں سے دوستی نہ کرو، تم انہیں  خفیہ محبت کا پیغام بھیجتے ہو حالانکہ تمہیں  یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ میں  ہر اس چیز کوخوب جانتا ہوں    جسے تم نے چھپایا اور جسے تم نے ظاہر کیا اور یاد رکھو! تم میں  سے جو ان سے دوستی کرے گا توبیشک وہ سیدھی راہ سے بہک گیا۔  *(مدارک، سورۃ الممتحنۃ، ص  ۱۲۳۰، خازن، الممتحنۃ، تحت الآیۃ: ۱، ۴ / ۲۵۵ -  ۲۵۶  ، ملتقطاً)*  

آیت   ’’  یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ  ‘‘   سے حاصل ہونے والی معلومات:  *اس آیت سے مزید  5  باتیں یہ معلوم ہوئیں ،*  

(1)  کفارِ مکہ مسلمانوں کے دشمن تھے لیکن اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں  اپنا دشمن بھی فرمایا،اس سے معلوم ہو اکہ اللّٰہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا دشمن  اللّٰہ تعالیٰ کا بھی دشمن ہے۔  

(2) کفار کو مسلمانوں کے راز سے خبردار کرنا غداری اور دین و قوم سے بغاوت ہے ۔  

(3) حضرت حاطب  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے گناہ سرزد ہوا اور اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں      مومن فرمایا،اس سے معلوم ہوا کہ کبیرہ گناہ کرنے سے انسان کافر نہیں  ہوتا۔  

(4)  ایمان کا دشمن جان کے دشمن سے زیادہ خطرناک ہے۔  

(5) اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں  جہاد اسی وقت ہو گا، جب مجاہد کا دل مومن کی محبت اور کافر کی عدوات سے پُر ہو ،اگر مجاہد کے دل میں  کافر کی طرف تھوڑا سا میلان بھی ہوا، تواس کا مجاہد فی سبیل اللّٰہ رہنا مشکل ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے