اللہ‎ کی مدد کرنا اللہ‎ تعالیٰ کے دین کی مدد کرنا ہیں اہلے حدیث یہ آیت پڑھے تو ان کو قرآن میں بھی شرک نظر آئےگا ان کے عقیدہ سے اللہ‎ تعالیٰ کا کوئی مدد گار نہیں ہو سکتا :-

 اللہ‎ کی مدد کرنا اللہ‎ تعالیٰ کے دین کی مدد کرنا ہیں اہلے حدیث یہ آیت پڑھے تو ان کو قرآن میں بھی شرک نظر آئےگا ان کے عقیدہ سے اللہ‎ تعالیٰ کا کوئی مدد گار  نہیں ہو سکتا :-

ترجمۂ کنز العرفان   

بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو روشن دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور عدل کی ترازو اتاری تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں اور ہم نے لوہا اتارا، اس میں سخت لڑائی (کا سامان )ہے اور لوگوں کے لئے فائدے ہیں اور تاکہ اللہ اس شخص کودیکھے جو بغیر دیکھے اللہ اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے، بیشک اللہ قوت والا، غالب ہے۔ *(سورۃ الحدید آیت نمبر 25)* 

 آیت  کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ لوہا نازل کرنے سے مقصود یہ ہے کہ  اللہ  تعالیٰ اس شخص کودیکھے جو جہاد میں لوہے کو استعمال کر کے  اللہ  تعالیٰ کے دین کی مدد کرتا ہے حالانکہ اس نے  اللہ  تعالیٰ کو دیکھا  نہیں  ہوا، بیشک  اللہ  تعالیٰ  قوت والا، غالب ہے ،اس کو کسی کی مدددرکار نہیں   اور دین کی مدد کرنے کا اس نے جو حکم دیا یہ انہیں   لوگوں  کے فائدے کے لئے ہے۔ *( خازن، الحدید،تحت الآیۃ:  ۲۵ ، ۴ / ۲۳۲ ، مدارک، الحدید، تحت الآیۃ:  ۲۵ ، ص ۱۲۱۲ ، روح البیان، الحدید، تحت الآیۃ:  ۲۵ ، ۹/ ۳۷۹ - ۳۸۰ ، جلالین، الحدید، تحت الآیۃ:  ۲۵ ، ص ۴۵۱ ، ملتقطاً )*

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-