غیب کی دو قسمیں ہیں :

 YAAD RAKHEN ILM GHAIB KI DO QISMEN HAIN👇👇👇

غیب کی دو قسمیں ہیں :

 (۱)  جس کے حاصل ہونے پر کوئی دلیل نہ ہو۔ یہ علم غیب ذاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اور جن آیات میں  غیرُاللہ   سے علمِ غیب کی نفی کی گئی ہے وہاں یہی علمِ غیب مراد ہوتا ہے ۔

(۲)  جس کے حاصل ہونے پر دلیل موجود ہو جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات ، گزشتہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  اور قوموں کے احوال نیز قیامت میں ہونے والے واقعات و غیرہ کا علم۔

یہ سب  اللہ تعالیٰ کے بتانے سے معلوم ہیں اور جہاں بھی  غیرُاللہ کیلئے غیب کی معلومات کا ثبوت ہے وہاں  اللہ  تعالیٰ کے بتانے ہی سے ہوتا ہے۔     

( تفسیر صاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۳،      ۱ / ۲۶ ) (صراط الجنان فے تفسیر القران)

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے