حضور ﷺ کے علم فضیلت میں مخالفت کرنا اللہ‎ تعالیٰ کی مخالفت ہیں گستاخ بد مذہب والوں سے دور رہوں چاہے وہ دوست رشتے دار ہوں اگر تم اس پر عمل کروگے تو ایمان کی سلامتی نصیب ہوگی غیب سے تمہری مدد کی جاےگی :-

 حضور ﷺ کے علم فضیلت میں مخالفت کرنا اللہ‎ تعالیٰ کی مخالفت ہیں گستاخ بد مذہب والوں سے دور رہوں چاہے وہ دوست رشتے دار ہوں اگر تم اس پر عمل کروگے تو ایمان کی سلامتی نصیب ہوگی غیب سے تمہری مدد کی جاےگی :- 

ترجمۂ کنز العرفان         

بیشک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ سب سے زیادہ ذلیلوں میں ہیں ۔ *(سورۃ المجادلہ آیت نمبر 20)* 

تم ایسے لوگوں کو نہیں پاؤ گے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں کہ وہ ان لوگوں سے دوستی کریں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یاان کے بھائی یا ان کے خاندان والے ہوں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی اور وہ انہیں اُن باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ان میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ،یہ اللہ کی جماعت ہے، سن لو! اللہ کی جماعت ہی کامیاب ہے۔۔ *(سورۃ المجادلہ آیت نمبر 22)* 

 تفسیر صراط الجنان      

{  لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ  : تم ایسے لوگوں کو نہیں  پاؤ گے جو  اللّٰہ  اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں ۔}          کافروں  سے دوستی کرنے کے بارے میں منافقوں  کا حال بیان کرنے کے بعد یہاں    سے مخلص ایمان والوں کا حال بیان کیا جا رہا ہے کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، جو لوگ اللّٰہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر سچا ایمان رکھتے ہیں    آپ انہیں ایسا نہیں   پائیں گے کہ وہ ان لوگوں سے دوستی کریں جنہوں  نے   اللّٰہ   تعالیٰ اور اس کے رسول  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے مخالفت کی،یعنی ان سے یہ ہوہی نہیں  سکتا اور ان کی یہ شان ہی نہیں   اور ان کا ایمان اس کو گوارا ہی نہیں  کرتا کہ خدا اور رسول کے دشمن سے دوستی کرے اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان والے ہوں ۔ یہ وہ لوگ ہیں  جن کے دلوں  میں  اللّٰہ تعالیٰ نے ایمان نقش فرمادیا ہے اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی اور وہ انہیں اُن باغوں  میں  داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، ان میں  ہمیشہ رہیں گے،   اللّٰہ  تعالیٰ ان کے ایمان، اخلاص اور طاعت کے سبب ان سے راضی ہوا اور وہ اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے کرم سے راضی ہوئے، یہ اللّٰہ   تعالیٰ کی جماعت ہے، سن لو!  اللّٰہ  تعالیٰ کی جماعت ہی کامیاب ہے کہ یہ جہنم کے عذاب سے محفوظ رہیں  گے اور جنت کی عظیم الشّان دائمی نعمتیں ہمیشہ کے لئے پائیں گے ۔

 اس آیت سے معلوم ہوا کہ بددینوں ، بدمذہبوں اللّٰہ  تعالیٰ اور اس کے رسول کی شان میں  گستاخی اور بے ادبی کرنے والوں سے قلبی محبت ، دوستی اور میل جول جائز نہیں  اور یہ بھی معلوم ہواکہ کافروں سے دوستی کرنا مسلمان کی شان اور اس کے ایمان کے تقاضوں کے بر خلاف ہے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان  رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :اس آیت ِکریمہ میں  صاف فرمادیا کہ جو   اللّٰہ یا رسول کی جناب میں گستاخی کرے، مسلمان اُس سے دوستی نہ کرے گا ، جس کا صریح مفاد ہوا کہ جو اس سے دوستی کرے گا وہ مسلمان نہ ہوگا۔ پھر اس حکم کا قطعاً عام ہونا بالتَّصریح ارشاد فرمایا کہ باپ، بیٹے ،بھائی ،عزیز سب کوگِنا یا، یعنی کوئی کیسا ہی تمہارے زعم میں  مُعَظَّم یا کیسا ہی تمہیں   بالطَّبع محبوب ہو، ایمان ہے تو گستاخی کے بعد اس سے محبت نہیں رکھ سکتے، اس کی وقعت نہیں مان سکتے ورنہ مسلمان نہ رہوگے۔   مَولٰی سُبْحَانَـہٗ و تَعَالٰی کا اتنا فرمانا ہی مسلمان کے لئے بس تھا مگر دیکھو وہ تمہیں اپنی رحمت کی طرف بلاتا،اپنی   عظیم نعمتوں کا لالچ دلاتا ہے کہ اگر اللّٰہ   ورسول کی عظمت کے آگے تم نے کسی کا پاس نہ کیا کسی سے علاقہ نہ رکھا تو تمہیں کیا کیا فائدے حاصل ہوں  گے۔  

(1 ) اللّٰہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں ایمان نقش کردے گا جس میں  اِنْشَآءَ اللّٰہُ تَعَالٰی      حسن ِخاتمہ کی بشارتِ جلیلہ ہے کہ اللّٰہ کا لکھا نہیں  مٹتا۔  

(2)  اللّٰہ   تعالیٰ روح القدس سے تمہاری مددفرمائے گا۔  

(3 ) تمہیں  ہمیشگی کی جنتوں  میں  لے جائے گا جن کے نیچے نہریں  رواں  ہیں  ۔  

(4)  تم خدا کے گروہ کہلاؤگے ، خدا والے ہوجاؤگے۔  

(5)  منہ مانگی مرادیں  پاؤگے بلکہ امید و خیال و گمان سے کروڑوں درجے افزوں ۔  

(6)  سب سے زیادہ یہ کہ   اللّٰہ  تم سے راضی ہوگا۔  

(7)  یہ کہ فرماتاہے ’’میں    تم سے راضی تم مجھ سے راضی ،بندے کیلئے اس سے زائد اور کیا نعمت ہوتی کہ اس کا رب اس سے راضی ہومگر انتہائے بندہ نوازی یہ کہ فرمایا اللّٰہ ان سے راضی اور وہ اللّٰہ سے راضی ۔  

 مسلمانو!خدا لگتی کہنا اگر آدمی کروڑ جانیں رکھتا ہو اور وہ سب کی سب ان عظیم دولتوں پر نثار کردے تو  وَاللّٰہ کہ مفت پائیں، پھرزیدو عمرو سے علاقۂ تعظیم و محبت، یک لخت قطع کردینا کتنی بڑی بات ہے؟ جس پر اللّٰہ تعالیٰ ان بے بہا نعمتوں  کا وعدہ فرما رہا ہے اور اس کا وعدہ یقیناً سچا ہے۔  *(فتاوی رضویہ، رسالہ: تمہید ایمان بآیات قرآن، ۳۰/ ۳۱۲)*

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے