قوم کے سوال پر پتھر سے ایک اونٹنی نکلنا صرف دعا نہیں تھی اس میں پہلے قوم سے اقرار ہیں اس کے باد اللہ تعالیٰ کا اقرار جو حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے علم اور اختیار کی دلیل ہیں :-
قوم کے سوال پر پتھر سے ایک اونٹنی نکلنا صرف دعا نہیں تھی اس میں پہلے قوم سے اقرار ہیں اس کے باد اللہ تعالیٰ کا اقرار جو حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے علم اور اختیار کی دلیل ہیں :-
ترجمۂ کنز العرفان
بیشک ہم ان کی آزمائش کیلئے اونٹنی کو بھیجنے والے ہیں تو (اے صا لح!) تم ان کا انتظار کرو اور صبر کرو۔ اور انہیں خبر دے دو کہ ان کے درمیان پانی تقسیم ہے ، ہر باری پر وہ حاضر ہو جس کی باری ہے۔ *(سورۃ القمر آیت نمبر 27/28)*
تفسیر صراط الجنان
{ اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ : بیشک ہم اونٹنی کوبھیجنے والے ہیں ۔ } اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے یہ کہا تھا کہ آپ پتھر سے ایک اونٹنی نکال دیجئے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اُن کے ایمان قبول کرنے کی شرط مقرر فرماکر یہ بات منظور کرلی تھی، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اونٹنی بھیجنے کا وعدہ کرتے ہوئے ارشادفرمایا کہ بیشک ہم ان کی آزمائش کیلئے اونٹنی کوبھیجنے والے ہیں تو اے صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ، تم اس بات کا انتظار کروکہ وہ کیا کرتے ہیں اور اُن کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے اور اُن کی ایذا پر صبر کرو اور انہیں خبر دے دو کہ ان کے درمیان پانی کی باری تقسیم کی گئی ہے کہ ایک دن اونٹنی کا ہے اور ایک دن ان کا ہے ،لہٰذا جو دن اونٹنی کا ہے اُس دن صرف اونٹنی ہی پانی پینے آئے اور جو دن قوم کا ہے اُس دن قوم پانی لینے آئے۔ *( خازن، القمر، تحت الآیۃ:۲۷ - ۲۸ ، ۴ / ۲۰۴ ، جلالین، القمر، تحت الآیۃ: ۲۷ - ۲۸ ، ص ۴۴۱- ۴۴۲ ، ملتقطاً)*
Comments
Post a Comment