آج کے بہت سے بدمذہب بھی اسی طرح کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کسی چیز کے مالک نہیں حالانکہ کثیر اَحادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللّٰہ تعالیٰ کی عطا سے مالکِ کل ہیں ،یہاں ان میں سے دو اَحادیث ملاحظہ ہوں :

 آج کے بہت سے بدمذہب بھی اسی طرح کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضورِ اقدس  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کسی چیز کے مالک نہیں  حالانکہ کثیر اَحادیث اس پر دلالت کرتی ہیں  کہ حضور  پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللّٰہ تعالیٰ کی    عطا سے مالکِ کل ہیں ،یہاں ان میں  سے دو اَحادیث ملاحظہ ہوں :   

(1)  حضرت معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا ’’میں تقسیم کرنے والا ہوں  اور اللّٰہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے۔ *(بخاری، کتاب العلم، باب من یرد اللّٰہ بہ خیراً یفقّہہ فی الدین، ۱/    ۴۲ ، الحدیث: ۷۱)*   

(2)   حضرت عقبہ بن عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے،رسولِ کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا    ’’مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں عطا کی گئی ہیں ۔  *(بخاری، کتاب الجنائز، باب الصلاۃ علی الشہید، ۱ / ۴۵۲، الحدیث: ۱۳۴۴)*

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-