آیت کی حکمت بد مذہب گستاخوں سے ان کی گمراہی کے باوجود تم ان سے دوستی رشتہ داری رکھوگے تو انہیں اپنی گمراہی کا احساس نہیں ہوگا اگر ان سے تعلق توڑ کر تنہا چھوڑ دوگے تب انہیں اپنی گمراہی کا احساس ہوگا پھر اکثریت کو ھدایت نصیب ہوگی انشااللہ :-
آیت کی حکمت بد مذہب گستاخوں سے ان کی گمراہی کے باوجود تم ان سے دوستی رشتہ داری رکھوگے تو انہیں اپنی گمراہی کا احساس نہیں ہوگا اگر ان سے تعلق توڑ کر تنہا چھوڑ دوگے تب انہیں اپنی گمراہی کا احساس ہوگا پھر اکثریت کو ھدایت نصیب ہوگی انشااللہ :-
ترجمۂ کنز العرفان
قریب ہے کہ اللہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان محبت پیدا فرما دے جو ان میں سے تمہارے دشمن ہیں ۔ اور اللہ بہت قدرت والا ہے اور اللہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے *۔(سورۃ الممتحنۃ آیت نمبر 7)*
تفسیر صراط الجنان
{ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً :قریب ہے کہ اللّٰہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان محبت پیدا فرما دے جو ان میں سے تمہارے دشمن ہیں ۔} شانِ نزول:جب اُوپر کی آیات نازل ہوئیں تو صحابہ ٔ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اپنے عزیز و اَقارب کی دشمنی میں بہت سخت اور ان سے بیزار ہو گئے، اس پر اللّٰہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر انہیں امید دلائی کہ اُن کفار کا حال بدلنے والا ہے ، چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! قریب ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ تمہارے اور کفارِ مکہ میں سے ان لوگوں کے درمیان جن سے تمہاری دشمنی ہو گئی ہے اس طرح محبت پیدا کر دے کہ انہیں ایمان کی توفیق دیدے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ دل بدلنے ، حال تبدیل کرنے اور محبت کے اسباب آسان کرنے پر بہت قدرت والا ہے اور مشرکوں میں سے جو ایمان لائے اسے اللّٰہ تعالیٰ بخشنے والا اور اس پر مہربان ہے۔ چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ نے ایسا ہی کیا اور فتح ِمکہ کے بعد اُن میں سے ایک کثیر تعداد ایمان لے آئی اور وہ ایمان والوں کے دوست اور بھائی بن گئے اور ان کی ایک دوسرے سے محبت بڑھی۔ *(مدارک، الممتحنۃ، تحت الآیۃ: ۷ ، ص۱۲۳۳، خازن، الممتحنۃ، تحت الآیۃ: ۷ ، ۴ / ۲۵۷ ، ملتقطاً)*
Comments
Post a Comment