جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہیں ان سے دوستی نہ رکھوں چاہے وہ کافر ہو یا بد عقیدہ والے بد عقیدہ والوں کو ہی تم کافروں کے قریب دیکھوں گے :-
جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہیں ان سے دوستی نہ رکھوں چاہے وہ کافر ہو یا بد عقیدہ والے بد عقیدہ والوں کو ہی تم کافروں کے قریب دیکھوں گے :-
ترجمۂ کنز العرفان
کیا تم نے ان لوگوں کو نہ دیکھا جنہوں نے ان لوگوں کو دوست بنالیا جن پر اللہ نے غضب فرمایا، وہ نہ تم میں سے ہیں اور نہ ہی ان میں سے۔ اور وہ جان بوجھ کر جھوٹی بات پرقسم کھاتے ہیں ۔ *(سورۃ مجادلہ آیت نمبر 14)*
تفسیر صراط الجنان
{ اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ : کیا تم نے ان لوگوں کو نہ دیکھا ۔ }شانِ نزول: یہ آیت ان منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے یہودیوں سے دوستی کی اور ان کی خیر خواہی میں لگے رہتے اور مسلمانوں کے راز ان سے کہتے۔ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ اے سننے والے ! کیا تم نے ان لوگوں کو نہ دیکھا جنہوں نے یہودیوں کو دوست بنالیا جن پر اللّٰہ تعالیٰ نے غضب فرمایا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ نہ مسلمان ہیں اور نہ یہودی بلکہ منافق ہیں۔ *(خازن، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۱۴ ، ۴ / ۲۴۲)*
*منافقوں کے تَذَبذُبْ کا حال: -*
منافقوں کے اسی تَذَبْذُبْ کا حال بیان کرتے ہوئے ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: مُذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِكَ ﳓ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِؕ-وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا *( النساء: ۱۴۳)*
*ترجمہکنزُالعِرفان* : درمیان میں ڈگمگا رہے ہیں ،نہ اِن کی طرف ہیں نہ اُن کی طرف اور جسے اللّٰہ گمراہ کرے تو تم اس کے لئے کوئی راستہ نہ پاؤ گے۔
اور حضرت عبد اللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ منافقوں کی مثال اس بکری جیسی ہے جودوریوڑوں کے درمیان مُتَرَدِّدہو،کبھی اس ریوڑ میں جاتی ہے اور کبھی اس ریوڑ میں ۔ *(مسلم ، کتاب صفات المنافقین واحکامہم، ص۱۴۹۸ ، الحدیث: ۱۷(۲۷۸۴))*
{ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ : اور وہ جان بوجھ کر جھوٹی بات پر قسم کھاتے ہیں ۔ } شانِ نزول : یہ آیت عبداللّٰہ بن نبتل منافق کے بارے میں نازل ہوئی جو رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مجلس میں حاضر رہتا اور یہاں کی بات یہودیوں کے پاس پہنچاتا ، ایک روز حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دولت سرائے اقدس میں تشریف فرماتھے،آپ نے ارشاد فرمایا’’اس وقت ایک آدمی آئے گا جس کا دِل انتہائی سخت ہے اور وہ شیطان کی آنکھوں سے دیکھتا ہے ۔تھوڑی ہی دیر بعد عبداللّٰہ بن نبتل آیا، اس کی آنکھیں نیلی تھیں ۔ حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس سے ارشادفرمایا’’ تو اور تیرے ساتھی ہمیں کیوں گالیاں دیتے ہیں ؟وہ قسم کھا گیا کہ ایسا نہیں کرتا اور اپنے یاروں کو بھی لے آیا، اُنہوں نے بھی قسم کھائی کہ ہم نے آپ کو گالی نہیں دی اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی۔ *(خازن، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۱۴ ، ۴ / ۲۴۲ )*
Comments
Post a Comment