مکّہ میں دارُالنَّدْوَہ وہ مقام تھا جہاں پر حضور ﷺ کے خلاف سازشیں ہوتی تھی منافقوں نے اسی مناسبت سے اپنے مدرسے اور خود کے نام کے ساتھ نَّدْوَہ کو اختیار کیا ہیں :-
مکّہ میں دارُالنَّدْوَہ وہ مقام تھا جہاں پر حضور ﷺ کے خلاف سازشیں ہوتی تھی منافقوں نے اسی مناسبت سے اپنے مدرسے اور خود کے نام کے ساتھ نَّدْوَہ کو اختیار کیا ہیں :-
ترجمۂ کنز العرفان
یا وہ کسی فریب کا ارادہ کر رہے ہیں تو کافر خودہی (اپنے) فریب کا شکار ہونے والے ہیں ۔ یا اللہ کے سوا ان کا کوئی اور خدا ہے؟ اللہ ان کے شرک سے پاک ہے۔ *(سورۃ الطور آیت نمبر 42/43)*
تفسیر صراط الجنان
{ اَمْ یُرِیْدُوْنَ كَیْدًا : یا وہ کسی فریب کا ارادہ کر رہے ہیں ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، یہ مشرکین زبانی طور پر ہی آپ کی مخالفت نہیں کرتے بلکہ وہ کسی فریب کا ارادہ کر رہے ہیں اور دارُالنَّدْوَہ میں جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کے حبیب نبی، ہادیٔ برحق صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نقصان پہنچانے اور قتل کرنے کے مشورے کررہے ہیں تو کافر خود ہی اپنے فریب کا شکار ہونے والے ہیں اور ان کی دھوکہ دہی اور فریب کا وبال اُنہیں پرپڑے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مشرکین کے فریب سے محفوظ رکھا اور بدر میں مشرکین کو ہلاک کر دیا۔ *(روح البیان، الطور، تحت الآیۃ: ۴۲، ۹ / ۲۰۴ ، جلالین، الطور، تحت الآیۃ: ۴۲ ، ص ۴۳۷ ، ملتقطاً )*
Comments
Post a Comment