سوال پوچھنے کی وجہ لاعلمی ہونا ضرور ی نہیں علم غیب کے منکر ایسی حدیث کو دلیل بناتے حضرت عبد اللہ بن انیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو حضور ﷺ عصا کے ساتھ جنت میں چہل قدمی کی بصارت دی
سوال پوچھنے کی وجہ لاعلمی ہونا ضرور ی نہیں علم غیب کے منکر ایسی حدیث کو دلیل بناتے حضرت عبد اللہ بن انیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو حضور ﷺ عصا کے ساتھ جنت میں چہل قدمی کی بصارت دی :-*
ترجمۂ کنز العرفان
*اور اے موسیٰ! یہ تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟*
تفسیر صراط الجنان
{ وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى :اور اے موسیٰ! یہ تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟} اس سوال کی حکمت یہ ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے عصا کو دیکھ لیں اور یہ بات قلب میں خوب راسخ ہوجائے کہ یہ عصا ہے تاکہ جس وقت وہ سانپ کی شکل میں ہو تو آپ کے خاطر مبارک پر کوئی پریشانی نہ ہو یا یہ حکمت ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مانوس کیا جائے تاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے کلام کی ہیبت کا اثر کم ہو۔ *(مدارک، طہ، تحت الآیۃ : ۱۷ ، ص ۶۸۸)*
اس آیت سے معلوم ہوا کہ سوال ہمیشہ پوچھنے والے کی لا علمی کی بنا پر نہیں ہوتا بلکہ اس میں کچھ اور بھی حکمتیں ہوتی ہیں ۔ لہٰذا کسی موقعہ پر حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا کسی سے کچھ پوچھنا حضور انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بے خبر ہونے کی دلیل نہیں ۔
*عصا کے ساتھ جنت میں چہل قدمی:-*
تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بھی عصا مبارک استعمال فرمایا کرتے تھے ،اسی سلسلے میں ایک بہت پیاری حکایت ملاحظہ ہو، چنانچہ جب حضرت عبد اللہ بن انیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے خالد بن سفیان ہزلی کو قتل کر دیا اور اس کا سر کاٹ کر مدینہ منورہ لائے اور تاجدارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قدموں میں ڈال دیا تو حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت عبد اللہ بن انیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی بہادری اور جان بازی سے خوش ہو کر انہیں اپنا عصا عطا فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ تم اسی عصا کو ہاتھ میں لے کر جنت میں چہل قدمی کرو گے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، قیامت کے دن یہ مبارک عصا میرے پاس نشانی کے طور پر رہے گا۔ چنانچہ انتقال کے وقت انہوں نے یہ وصیت فرمائی کہ اس عصا کو میرے کفن میں رکھ دیا جائے۔ *(زرقانی علی المواہب، کتاب المغازی، سریۃ عبد اللہ بن انیس ، ۲ / ۴۷۳-۴۷۴ ملخصًا )*
ترجمۂ کنز العرفان
*اور اے موسیٰ! یہ تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟*
تفسیر صراط الجنان
{ وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى :اور اے موسیٰ! یہ تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟} اس سوال کی حکمت یہ ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے عصا کو دیکھ لیں اور یہ بات قلب میں خوب راسخ ہوجائے کہ یہ عصا ہے تاکہ جس وقت وہ سانپ کی شکل میں ہو تو آپ کے خاطر مبارک پر کوئی پریشانی نہ ہو یا یہ حکمت ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مانوس کیا جائے تاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے کلام کی ہیبت کا اثر کم ہو۔ *(مدارک، طہ، تحت الآیۃ : ۱۷ ، ص ۶۸۸)*
اس آیت سے معلوم ہوا کہ سوال ہمیشہ پوچھنے والے کی لا علمی کی بنا پر نہیں ہوتا بلکہ اس میں کچھ اور بھی حکمتیں ہوتی ہیں ۔ لہٰذا کسی موقعہ پر حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا کسی سے کچھ پوچھنا حضور انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بے خبر ہونے کی دلیل نہیں ۔
*عصا کے ساتھ جنت میں چہل قدمی:-*
تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بھی عصا مبارک استعمال فرمایا کرتے تھے ،اسی سلسلے میں ایک بہت پیاری حکایت ملاحظہ ہو، چنانچہ جب حضرت عبد اللہ بن انیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے خالد بن سفیان ہزلی کو قتل کر دیا اور اس کا سر کاٹ کر مدینہ منورہ لائے اور تاجدارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قدموں میں ڈال دیا تو حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت عبد اللہ بن انیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی بہادری اور جان بازی سے خوش ہو کر انہیں اپنا عصا عطا فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ تم اسی عصا کو ہاتھ میں لے کر جنت میں چہل قدمی کرو گے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، قیامت کے دن یہ مبارک عصا میرے پاس نشانی کے طور پر رہے گا۔ چنانچہ انتقال کے وقت انہوں نے یہ وصیت فرمائی کہ اس عصا کو میرے کفن میں رکھ دیا جائے۔ *(زرقانی علی المواہب، کتاب المغازی، سریۃ عبد اللہ بن انیس ، ۲ / ۴۷۳-۴۷۴ ملخصًا )*
Comments
Post a Comment