ادب کی کوئی حد نہیں جتنا ذیارہ ادب ہوگا اتنا تقویٰ پرہیزگاری ہوگی ادب کو شرک بدعت حرام کہنا گمراہی ہے جو ادب سریت کے مخالف ہو وہی گمراہی ہیں مقدس جگہ کا ادب و احترام کرنا چاہئے کہ یہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے۔ اسی وجہ سے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاءِ عظام رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کے مزارات اور اس سرزمین کا ادب کیا جاتا ہے جہاں وہ آرام فرما ہیں ۔ ہمارے بزرگانِ دین مقدس مقامات کا ادب کس طرح کیا کرتے تھے اس سلسلے میں ایک حکایا ت ملاحظہ ہو
ادب کی کوئی حد نہیں جتنا ذیارہ ادب ہوگا اتنا تقویٰ پرہیزگاری ہوگی ادب کو شرک بدعت حرام کہنا گمراہی ہے جو ادب سریت کے مخالف ہو وہی گمراہی ہیں مقدس جگہ کا ادب و احترام کرنا چاہئے کہ یہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے۔ اسی وجہ سے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاءِ عظام رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کے مزارات اور اس سرزمین کا ادب کیا جاتا ہے جہاں وہ آرام فرما ہیں ۔ ہمارے بزرگانِ دین مقدس مقامات کا ادب کس طرح کیا کرتے تھے اس سلسلے میں ایک حکایا ت ملاحظہ ہو :-*
ترجمۂ کنز العرفان
*پھر وہ جب آگ کے پاس آئے تو ندا فرمائی گئی کہ اے موسیٰ۔ بیشک میں تیرا رب ہوں تو تو اپنے جوتے اتار دے بیشک تو پاک وادی طویٰ میں ہے۔*
حضرت امام شافعی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں نے (مدینہ منورہ میں ) حضرت امام مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے دروازے پر خراسان کے گھوڑوں کا ایک ایسا ریوڑ دیکھا کہ میں نے اس سے اچھا نہیں دیکھا تھا۔ میں نے حضرت امام مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے عرض کی: یہ کتنا خوبصورت ہے۔ انہوں نے فرمایا ’’اے ابو عبداللّٰہ یہ میری طرف سے تمہارے لئے تحفہ ہے۔ میں نے عرض کی: آپ اس میں سے ایک جانور اپنی سواری کے لئے رکھ لیں ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ سے حیا آتی ہے کہ میں اس مبارک مٹی کو جانور کے (اوپر سوار ہو کر اس کے) کھروں سے روندوں جس میں اللہ تعالیٰ کے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ (کا روضۂ انور) موجود ہے۔ *(احیاء علوم الدین، کتاب العلم، الباب الثانی فی العلم المحمود والمذموم واقسامہما۔ الخ ، ۱ / ۴۸)*
*ہاں ہاں رہِ مدینہ ہے غافل ذرا تو جاگ*
*او پاؤں رکھنے والے یہ جا چشم و سر کی ہے*
ترجمۂ کنز العرفان
*پھر وہ جب آگ کے پاس آئے تو ندا فرمائی گئی کہ اے موسیٰ۔ بیشک میں تیرا رب ہوں تو تو اپنے جوتے اتار دے بیشک تو پاک وادی طویٰ میں ہے۔*
حضرت امام شافعی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں نے (مدینہ منورہ میں ) حضرت امام مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے دروازے پر خراسان کے گھوڑوں کا ایک ایسا ریوڑ دیکھا کہ میں نے اس سے اچھا نہیں دیکھا تھا۔ میں نے حضرت امام مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے عرض کی: یہ کتنا خوبصورت ہے۔ انہوں نے فرمایا ’’اے ابو عبداللّٰہ یہ میری طرف سے تمہارے لئے تحفہ ہے۔ میں نے عرض کی: آپ اس میں سے ایک جانور اپنی سواری کے لئے رکھ لیں ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ سے حیا آتی ہے کہ میں اس مبارک مٹی کو جانور کے (اوپر سوار ہو کر اس کے) کھروں سے روندوں جس میں اللہ تعالیٰ کے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ (کا روضۂ انور) موجود ہے۔ *(احیاء علوم الدین، کتاب العلم، الباب الثانی فی العلم المحمود والمذموم واقسامہما۔ الخ ، ۱ / ۴۸)*
*ہاں ہاں رہِ مدینہ ہے غافل ذرا تو جاگ*
*او پاؤں رکھنے والے یہ جا چشم و سر کی ہے*
Comments
Post a Comment