کسی بھی نبی کا نبوت کا علان نبوت ملنے کا وقت نہیں ہوتا نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بچپن میں ملنے والے عظیم ترین فضائل
کسی بھی نبی کا نبوت کا علان نبوت ملنے کا وقت نہیں ہوتا نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بچپن میں ملنے والے عظیم ترین فضائل:-*
ترجمۂ کنز العرفان
بچے نے فرمایا: بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں ، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔ *(سورۃ مریم آیت نمبر 30)*
علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے چار بچوں کو چار چیزوں کے ساتھ فضیلت عطا کی:
(1) حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کنویں میں وحی کے ساتھ فضیلت دی۔
(2) حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھولے میں کلام کرنے کے ساتھ فضیلت دی۔
(3) حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو فہم سے فضیلت دی۔
(4) حضرت یحیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بچپن میں نبوت عطا کر کے فضیلت دی۔
اور سب سے عظیم فضیلت اور سب سے بڑی نشانی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو عطا کی کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ولادت کے وقت سجدہ فرمایا، اللہ تعالیٰ نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سینے کو کشادہ فرمایا، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ولادت کے وقت حوروں اور فرشتوں کو خادم بنایا اور ولادت سے پہلے ہی عالَمِ اَرواح میں آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نبوت سے سرفراز فرما دیا اور یہ عظمت و فضیلت آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہی کا خاصہ ہے۔ *(روح البیان، مریم، تحت الآیۃ : ۳۰ ، ۵ / ۳۳۰)*
ترجمۂ کنز العرفان
بچے نے فرمایا: بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں ، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔ *(سورۃ مریم آیت نمبر 30)*
علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے چار بچوں کو چار چیزوں کے ساتھ فضیلت عطا کی:
(1) حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کنویں میں وحی کے ساتھ فضیلت دی۔
(2) حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھولے میں کلام کرنے کے ساتھ فضیلت دی۔
(3) حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو فہم سے فضیلت دی۔
(4) حضرت یحیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بچپن میں نبوت عطا کر کے فضیلت دی۔
اور سب سے عظیم فضیلت اور سب سے بڑی نشانی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو عطا کی کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ولادت کے وقت سجدہ فرمایا، اللہ تعالیٰ نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سینے کو کشادہ فرمایا، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ولادت کے وقت حوروں اور فرشتوں کو خادم بنایا اور ولادت سے پہلے ہی عالَمِ اَرواح میں آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نبوت سے سرفراز فرما دیا اور یہ عظمت و فضیلت آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہی کا خاصہ ہے۔ *(روح البیان، مریم، تحت الآیۃ : ۳۰ ، ۵ / ۳۳۰)*
Comments
Post a Comment