اولیا اللہ اور انبیاء کرام کو اگر بیٹا دینے والا کہے تو بد مذہب والوں کو شرک نظر آتا ہیں شرک ہر حال میں شرک ہوتا چائے حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام بیٹا دے یہ اپنی جہالت میں ذاتی اور عطائی کے فرق کو نہیں سمجھتے یا پھر انبیاء کرام کو فرشتوں سے کمتر ثابت کرنا چاہتے ہیں
اولیا اللہ اور انبیاء کرام کو اگر بیٹا دینے والا کہے تو بد مذہب والوں کو شرک نظر آتا ہیں شرک ہر حال میں شرک ہوتا چائے حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام بیٹا دے یہ اپنی جہالت میں ذاتی اور عطائی کے فرق کو نہیں سمجھتے یا پھر انبیاء کرام کو فرشتوں سے کمتر ثابت کرنا چاہتے ہیں :-*
ترجمۂ کنز العرفان
مریم بولی: میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تجھے خدا کا ڈر ہے۔ کہا: میں توتیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں تا کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروں ۔ *(سورۃ مریم آیت نمبر 18/19)*
تفسیر صراط الجنان
{ قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ :مریم بولی: میں تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں۔} جب حضرت مریم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا نے خَلْوَت میں اپنے پاس ایک بے ریش نوجوان کو دیکھا تو خوفزدہ ہوگئیں اور فرمایا کہ میں تجھ سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگتی ہوں ، اگر تم میں کچھ خدا خوفی ہے تو یہاں سے چلے جاؤ۔ اس کلام سے آپ کی انتہائی پاکدامنی اور تقویٰ کا پتہ چلتا ہے کہ آپ نے چیخ کر کسی او ر کو آواز نہ دی بلکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے پناہ مانگی تاکہ اس واقعہ کی کسی کو خبر نہ ہو ۔
{ قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ : کہا:میں تو تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں ۔} جب حضرت مریم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا خوفزدہ ہوئیں تو اس وقت حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام نے کہا کہ میں فرشتہ ہوں اور تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں تاکہ میں تمہیں ایک ستھرا اور پاکیزہ بیٹا عطا کروں ۔
آیت’’ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات: *اس آیت سے 3 باتیں معلوم ہوئیں :*
(1) اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے اللہ تعالیٰ کے بعض کاموں کو اپنی طرف منسوب کر سکتے ہیں ، جیسے کسی کوبیٹا دینا در حقیقت اللہ تعالیٰ کا کام ہے لیکن حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروں ۔
(2) اللہ تعالیٰ کے بعض کام اس کے بندوں کی طرف منسوب کئے جا سکتے ہیں ، لہٰذا یہ کہنا درست ہے کہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جنت دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اَولیاء اولاد دیتے ہیں، وغیرہ۔
(3) اللہ تعالیٰ اپنے مقبول بندوں کو اولاد عطا کرنے کی طاقت اور اجازت دیتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت واجازت سے اولاد عطا بھی کرتے ہیں ، جیسے اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام کو بیٹا دینے کی طاقت اور اجازت دی اور آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت اور اجازت سے حضرت مریم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا کو بیٹا عطا کیا۔
ترجمۂ کنز العرفان
مریم بولی: میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تجھے خدا کا ڈر ہے۔ کہا: میں توتیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں تا کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروں ۔ *(سورۃ مریم آیت نمبر 18/19)*
تفسیر صراط الجنان
{ قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ :مریم بولی: میں تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں۔} جب حضرت مریم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا نے خَلْوَت میں اپنے پاس ایک بے ریش نوجوان کو دیکھا تو خوفزدہ ہوگئیں اور فرمایا کہ میں تجھ سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگتی ہوں ، اگر تم میں کچھ خدا خوفی ہے تو یہاں سے چلے جاؤ۔ اس کلام سے آپ کی انتہائی پاکدامنی اور تقویٰ کا پتہ چلتا ہے کہ آپ نے چیخ کر کسی او ر کو آواز نہ دی بلکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے پناہ مانگی تاکہ اس واقعہ کی کسی کو خبر نہ ہو ۔
{ قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ : کہا:میں تو تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں ۔} جب حضرت مریم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا خوفزدہ ہوئیں تو اس وقت حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام نے کہا کہ میں فرشتہ ہوں اور تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں تاکہ میں تمہیں ایک ستھرا اور پاکیزہ بیٹا عطا کروں ۔
آیت’’ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات: *اس آیت سے 3 باتیں معلوم ہوئیں :*
(1) اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے اللہ تعالیٰ کے بعض کاموں کو اپنی طرف منسوب کر سکتے ہیں ، جیسے کسی کوبیٹا دینا در حقیقت اللہ تعالیٰ کا کام ہے لیکن حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروں ۔
(2) اللہ تعالیٰ کے بعض کام اس کے بندوں کی طرف منسوب کئے جا سکتے ہیں ، لہٰذا یہ کہنا درست ہے کہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جنت دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اَولیاء اولاد دیتے ہیں، وغیرہ۔
(3) اللہ تعالیٰ اپنے مقبول بندوں کو اولاد عطا کرنے کی طاقت اور اجازت دیتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت واجازت سے اولاد عطا بھی کرتے ہیں ، جیسے اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام کو بیٹا دینے کی طاقت اور اجازت دی اور آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت اور اجازت سے حضرت مریم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا کو بیٹا عطا کیا۔
Comments
Post a Comment