مخلوق کے دل میں اولیا اللہ کی محبت ڈالنا اللہ‎ تعالیٰ اور فرشتوں کی طرف سے ہوتا* *ان کی نفرت ڈالنا شیطان کا کام ہیں گنہہ تو ہر جگہ ہوتا بد نام صرف مزار کو کیوں کیا جاتا ہیں* *محبوبیت کی دلیل اور ولی کی علامت:

مخلوق کے دل میں اولیا اللہ کی محبت  ڈالنا اللہ‎ تعالیٰ اور فرشتوں کی طرف سے ہوتا*  *ان کی نفرت ڈالنا شیطان کا کام ہیں گنہہ تو ہر جگہ ہوتا بد نام صرف مزار کو کیوں کیا جاتا ہیں*  *محبوبیت کی دلیل اور ولی کی علامت: --*
 حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پُر نور  صَلَّی  اللہ   تَعَالٰی   عَلَیْہِ   وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جب  اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبریل  عَلَیْہِ  السَّلَام  کو ند اکی جاتی ہے کہ  اللہ  تعالیٰ فلاں   بندے سے محبت رکھتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو۔ حضرت جبریل  عَلَیْہِ   السَّلَام اس سے محبت کرتے ہیں ۔ پھر حضرت جبریل  عَلَیْہِ السَّلَام آسمانی مخلوق میں ندا کرتے ہیں کہ  اللہ  تعالیٰ فلاں بندے سے محبت فرماتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو، چنانچہ  آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ، پھر زمین والوں  میں  اس کی مقبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ *(بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ ،  ۲ / ۳۸۲ ، الحدیث:  ۳۲۰۹ )*
اس سے معلوم ہوا کہ مومنینِ صالحین و اَولیائے کاملین کی مقبولیتِ عامہ ان کی محبوبیت کی دلیل ہے جیسے کہ حضور غوثِ اعظم  رَضِیَ   اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  اور خواجہ غریب نواز اور داتا گنج بخش علی ہجویری اور دیگر معروف اَولیاء کرام  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ  کی عام مقبولیت ان کی محبوبیت کی دلیل ہے۔ 
نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ولی کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ خَلقت اسے ولی کہے اور اس کی طرف قدرتی  طور پر دل کو رغبت ہو۔ دیکھ لیں ، آج  اولیاء  اللہ  اپنے مزارات میں   سور ہے ہیں  اور لوگ ان کی طرف کھچے چلے جا رہے ہیں  حالانکہ انہیں   کسی نے دیکھا بھی نہیں ۔

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے