موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام زمین سے لوہے محفوظ کے قلم کی آواز سنن سکتے ہیں

موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام زمین سے لوہے محفوظ کے قلم کی آواز سنن سکتے ہیں :-*
 ترجمۂ کنز العرفان       
اور ہم نے اسے طور کی دائیں جانب سے پکارا اور ہم نے اسے اپنا راز کہنے کیلئے مقرب بنایا۔ *(سورۃ مریم آیت نمبر 52)*
 تفسیر صراط الجنان         
{وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ  :اور ہم نے اسے طور کی دائیں  جانب سے پکارا ۔}     طور ایک پہاڑ کا نام ہے جو مصر اور مَدْیَن کے درمیان ہے۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مدین سے آتے ہوئے طور کی اس جانب سے جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کے دائیں  طرف تھی ایک درخت سے ندا دی گئی   
’ یٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ  *(قصص  : ۳۰)*   
 *ترجمہکنزُالعِرفان*    :اے موسیٰ میں  ہی  اللہ  ہوں ، تمام جہانوں  کا پالنے والا ۔   
 اس کے بعد  اللہ  تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   سے بلاواسطہ کلام فرمایا اور آپ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کلیمُ اللہ کے شرف سے نوازے گئے ۔آپ  عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو مرتبۂ قرب عطا فرمایا گیا ، حجاب اٹھا دئیے گئے یہاں  تک کہ آپ نے قلموں  کے چلنے کی آواز سنی اور آپ  عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی قدرو منزلت بلند کی گئی۔ *(خازن، مریم، تحت الآیۃ : ۵۲، ۳ / ۲۳۷-۲۳۸ )*   
کلیم اور حبیب میں  فرق:   
 یہاں  اللہ تعالیٰ کے کلیم حضرت موسیٰ  عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  اور اللہ تعالیٰ کے حبیب  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     کے مقام و مرتبے کافرق ملاحظہ ہو کہ  اللہ  تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   سے کوہِ طور پر جو کلام فرمایا اسے اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے ذریعے سب پر ظاہر فرما دیا لیکن  اللہ تعالیٰ نے معراج کی رات لا مکاں  میں  اپنے حبیب  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے جو کلام فرمایا وہ کسی کو نہ بتایا بلکہ یہ ارشاد فرما کرسب سے چھپا دیا کہ ’’فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰى  *(النجم : ۱۰ )*  *ترجمہکنزُالعِرفان*  : پھر اس نے اپنے بندے کو وحی فرمائی جو اسنے وحی فرمائی۔

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-